
کھونٹی، 10 اکتوبر (ہ س)۔ آل انڈیا کانگریس کمیٹی کی اپیل پر ہفتہ کے روز ضلع کانگریس کمیٹی کی جانب سے کلکٹریٹ کے سامنے ایک روزہ دھرنا و احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ اس مظاہرے کے ذریعے کانگریس نے مرکزی حکومت پر آئینی اداروں کے مبینہ غلط استعمال کا الزام عائد کرتے ہوئے اس کے خلاف احتجاج درج کرایا۔احتجاج میں کانگریس رہنماوں اور کارکنوں نے سیاہ لباس پہن کر اور بازووں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر اپنی مخالفت کا اظہار کیا۔ دھرنے کی قیادت ضلع کانگریس صدر روی مشرا اور کھونٹی کے رکن پارلیمنٹ کالی چرن منڈا نے کی۔
مظاہرین نے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی)، مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) اور محکمہ انکم ٹیکس سمیت دیگر اداروں کے مبینہ غلط استعمال پر روک لگانے کا مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی اور دیگر اپوزیشن رہنماوں کو جمہوری طریقے سے اپنی بات رکھنے سے روکنے کی مبینہ کوششوں کی بھی مخالفت کی گئی۔
ضلع کانگریس صدر روی مشرا نے الزام لگایا کہ مرکزی حکومت نے جمہوریت کو کمزور کیا ہے اور آئینی اداروں کی آزادی متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی عوام کی آواز اٹھاتے ہیں، لیکن ان کی آواز دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کانگریس اس طرح کی کوششوں کو برداشت نہیں کرے گی۔کھونٹی کے رکن پارلیمنٹ کالی چرن منڈا نے کہا کہ ملک کی جمہوریت خطرے میں ہے اور الیکشن کمیشن جیسے اداروں پر عوام کا اعتماد برقرار رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس آئین اور جمہوریت کے تحفظ کی لڑائی کو گاوں گاوں تک لے جائے گی۔احتجاجی مظاہرے میں راجیش گپتا، ہمانشو رائے، ولسن توپنو، رام کرشن چودھری، نعیم الدین خان، پیٹر منڈو، سنیتا گوپ، ہیلن تڈو، ششی کانت ہورو، پال بھینگرا، ریتو راج جھا سمیت ضلع کانگریس کمیٹی کے متعدد عہدیداران اور کارکنان موجود تھے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan