انتخابات میں بے ضابطگی کے الزامات پر سابق نوکرشاہوں نے اٹھائے سوال، کہا- الزامات کے لیے ثبوت ضروری
نئی دہلی، 10 اکتوبر (ہ س)۔ انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس (آئی اے ایس)، انڈین فارن سروس (آئی ایف ایس) اور دیگر متعلقہ خدمات سے وابستہ سابق افسران کے ایک گروپ نے انتخابات میں بے ضابطگی کے الزامات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ جمہوریت میں سوال اٹھانا ہر شہری
Ex-IAS-OPEN-LETTER-sIR


نئی دہلی، 10 اکتوبر (ہ س)۔ انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس (آئی اے ایس)، انڈین فارن سروس (آئی ایف ایس) اور دیگر متعلقہ خدمات سے وابستہ سابق افسران کے ایک گروپ نے انتخابات میں بے ضابطگی کے الزامات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ جمہوریت میں سوال اٹھانا ہر شہری کا حق ہے، لیکن الزامات عائد کرنے والوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے دعوو¿ں کی تائید میں ثبوت پیش کریں۔ ان افسران نے ووٹر فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کی حمایت کرتے ہوئے اسے ووٹر فہرستوں کو درست کرنے کا عمل قرار دیا ہے۔

ہفتے کو جاری ایک کھلے خط میں سابق افسران نے کہا کہ انہوں نے اپنی پوری ملازمت کے دوران انتخابات کرائے ہیں یا انتخابی عمل کا مطالعہ کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ماضی میں پولنگ بوتھوں پر قبضہ کرنے، بیلٹ بکسوں میں فرضی ووٹ ڈالنے اور ووٹروں کو حق رائے دہی استعمال کرنے سے روکنے جیسے واقعات انتخابی عمل کے لیے سنگین چیلنج تھے، لیکن انتخابی نظام میں کی گئی اصلاحات سے ایسی بے ضابطگیوں پر قابو پانے میں مدد ملی ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ بہار میں، جہاں پہلے بوتھوں پر قبضے کے واقعات عام تھے، 2025 کے اسمبلی انتخابات میں کسی بھی پولنگ اسٹیشن پر دوبارہ ووٹنگ کرانے کی ضرورت نہیں پڑی۔ خط کے مطابق، ریاست میں 1951 کے بعد سب سے زیادہ ووٹنگ ہوئی اور خواتین نے ریکارڈ تعداد میں اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔

سابق افسران نے کہا کہ موجودہ انتخابی نظام کے تحت امیدواروں کے ایجنٹ پولنگ اسٹیشنوں پر موجود رہتے ہیں اور انہیں ووٹوں کی گنتی کی دستخط شدہ تفصیلات فراہم کی جاتی ہیں۔ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کو ایجنٹوں کے دستخط کے ساتھ سیل کیا جاتا ہے اور محفوظ کمروں میں رکھا جاتا ہے، جہاں امیدواروں کے نمائندے نگرانی کرسکتے ہیں۔ خط میں کہا گیا ہے کہ ووٹنگ مشینوں کے ووٹوں کی گنتی اور وی وی پی اے ٹی کی پرچیوں سے ان کے ملان کا انتظام بھی انتخابی عمل کے حفاظتی اقدامات کا حصہ ہے۔

خط میں الیکشن کمیشن کی کثیر رکنی ساخت کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس سے فیصلہ سازی کے عمل میں مختلف نقطہ نظر کو شامل کرنے کا موقع ملتا ہے۔ افسران نے کہا کہ کسی ادارے کی کارکردگی کا جائزہ اس کی سیاسی وابستگی کی بنیاد پر نہیں لیا جانا چاہیے۔

انہوں نے دلیل دی کہ مرکز میں برسر اقتدار جماعت ہماچل پردیش، کرناٹک، تلنگانہ، جھارکھنڈ اور جموں و کشمیر میں انتخابات ہار چکی ہے، جب کہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں بھی اسے اپنے بل بوتے پر اکثریت حاصل نہیں ہوئی۔ ان نتائج کی بنیاد پر پورے انتخابی نظام کو بے ضابطگی سے متاثر قرار دینا مناسب نہیں ہے۔

ووٹر فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی کی حمایت کرتے ہوئے خط میں کہا گیا ہے کہ بہار میں 2003 کے بعد بڑے پیمانے پر ایسی نظرثانی نہیں ہوئی تھی۔ سابق افسران کے مطابق، اس عمل کے دوران تقریباً 22 لاکھ ایسے ووٹروں کے نام سامنے آئے جو وفات پاچکے تھے، سات لاکھ دوہری اندراجات کا پتا چلا اور کئی لاکھ ایسے نام بھی سامنے آئے جن سے متعلق ووٹر مستقل طور پر دوسری جگہ منتقل ہوچکے تھے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ ووٹر فہرستوں میں اس طرح کے اندراجات برقرار رہنے سے فرضی ووٹنگ کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔

سابق افسران نے کہا کہ ایس آئی آر کے تحت جاری کی جانے والی مسودہ ووٹر فہرست حتمی فہرست نہیں ہوتی اور اس میں کسی کا نام شامل نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ اس کا نام حتمی طور پر خارج کردیا گیا ہے۔ خط کے مطابق، کسی ووٹر کا نام حذف کرنے سے پہلے اسے نوٹس دینا اور اپنا موقف پیش کرنے کے لیے سماعت کا موقع فراہم کرنا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ، اپیل کے انتظام اور بوتھ سطح کے افسران کے کام کی نگرانی کے لیے سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کی تعیناتی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ خط میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ نظرثانی کے دوران تقریباً 21.5 لاکھ نئے ووٹروں کے نام بھی فہرست میں شامل کیے گئے۔

خط میں سپریم کورٹ کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ عدالت نے ایس آئی آر کے عمل پر روک لگانے سے انکار کیا، تاہم اس کی نگرانی کی اور مسودہ فہرست سے باہر رکھے گئے 65 لاکھ افراد کے نام خارج کیے جانے کی وجوہات کے ساتھ شائع کرنے کی ہدایت دی۔ خط کے مطابق، عدالت نے آن لائن دعوے داخل کرنے کی اجازت دینے، شناخت کے ثبوت کے طور پر آدھار قبول کرنے اور اپیل کے لیے مفت قانونی امداد فراہم کرنے جیسے اقدامات بھی کیے۔

افسران نے کہا کہ غلطیوں کی اصلاح ہونی چاہیے، لیکن آئینی اداروں اور عدالت کے فیصلوں کا احترام کرنا بھی ضروری ہے۔

سابق افسران نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اپنی اور اپنے اہل خانہ کی ووٹر فہرست میں درج تفصیلات کی جانچ کریں اور نام شامل نہ ہونے کی صورت میں دعویٰ داخل کرنے میں متعلقہ افراد کی مدد کریں۔ انہوں نے کہا کہ بوتھ سطح کے افسران اکثر اساتذہ اور آنگن واڑی کارکن ہوتے ہیں، جو گھر گھر جاکر ووٹر فہرستوں سے متعلق کام کرتے ہیں۔ بغیر ثبوت کے وسیع پیمانے پر الزامات لگانے سے ان کارکنوں کے کام کی ساکھ بھی متاثر ہوتی ہے۔

اس کھلے خط پر سابق سفارت کار کنول سبل، سابق خارجہ سکریٹری، پنجاب، بہار، کیرالہ، آندھرا پردیش اور دیگر ریاستوں کے سابق چیف سکریٹریوں، سابق ڈائریکٹر جنرل آف پولیس اور مرکز و ریاستی حکومتوں میں مختلف عہدوں پر خدمات انجام دینے والے متعدد سابق افسران نے دستخط کیے ہیں۔

خط میں کہا گیا ہے کہ انتخابی بے ضابطگی کے الزامات کو عوامی پلیٹ فارموں پر بار بار دہرانے کے بجائے قانونی طریقہ کار کے تحت ثبوتوں کے ساتھ پیش کیا جانا چاہیے۔

ہندوستھا ن سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande