
نئی دہلی، 10 اکتوبر (ہ س)۔
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور ووٹر فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) پر روک لگانے کے مطالبے کو لے کر کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی جانب سے ہفتے کے روز جنتر منتر پر مجوزہ احتجاج دہلی پولیس کے وسیع حفاظتی انتظامات کے باعث نہیں ہو سکا۔ پولیس نے احتجاجی مقام تک پہنچنے کی کوشش کرنے والے تین ہزار سے زیادہ افراد کو حراست میں لے لیا۔ ان میں مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی، دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال، کیرالہ کے سابق وزیر اعلیٰ پنار ئی وجین، سی جے پی کے سربراہ ابھیجیت دیپکے اور معروف یوٹیوبر دھرو راٹھی سمیت کئی اپوزیشن رہنما، کارکنان اور سماجی کارکن شامل ہیں۔ راجدھانی میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے تقریباً 25 ہزار پولیس اہلکاروں اور نیم فوجی دستوں کے جوانوں کو تعینات کیا گیا تھا۔
دہلی پولیس نے احتجاج کی اجازت نہیں دی تھی۔ اس کے باوجود سی جے پی اور دیگر تنظیموں کے کارکنوں نے جنتر منتر پہنچنے کی کوشش کی۔ پولیس نے وسطی دہلی کی جانب جانے والے اہم راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کر دیں اور گاڑیوں کی تلاشی لی۔ کئی مقامات پر مظاہرین کو حراست میں لے کر بسوں اور دیگر گاڑیوں کے ذریعے عارضی حراستی مراکز میں منتقل کیا گیا۔ صبح سے دوپہر تک مظاہرین جنتر منتر نہیں پہنچ سکے۔ پولیس نے سی جے پی کے اہم رہنماو¿ں کو بھی احتجاجی مقام تک پہنچنے سے پہلے ہی روک دیا۔ دن بھر جاری رہنے والی کارروائی کے دوران تین ہزار سے زیادہ افراد کو حراست میں لیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
سی جے پی کے سربراہ ابھیجیت دیپکے ہفتے کی صبح ممبئی سے دہلی پہنچے۔ ان کی پرواز کے اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اترنے کے بعد پولیس نے انہیں طیارے کے اندر ہی حراست میں لے لیا۔ ان کے ساتھ موجود تنظیم کے کنوینر سورَبھ داس اور رہنما آشو توش رانکا کو بھی حراست میں لیا گیا۔ پولیس افسران نے کہا کہ احتجاج کی اجازت نہ ہونے کے باعث یہ احتیاطی کارروائی کی گئی۔ اس سے پہلے ہفتے کی صبح گروگرام کے سیکٹر 56 میں واقع اپنی رہائش گاہ سے یوٹیوبر دھرو راٹھی کو بھی پولیس نے حراست میں لے لیا۔ ان کے گھر کے باہر رات ہی سے پولیس اہلکار تعینات تھے۔
احتجاج میں شرکت کے لیے آنے والی مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو بھی دہلی میں پولیس کارروائی کا سامنا کرنا پڑا۔ ساو¿تھ ایونیو کے قریب روکے جانے کے بعد وہ دھرنے پر بیٹھ گئیں۔ ترنمول کانگریس کے رہنماو¿ں کے مطابق ممتا بنرجی اور پارٹی کے پانچ دیگر رہنماو¿ں کو حراست میں لیا گیا، جن میں راجیہ سبھا کے ارکان ڈیرک او برائن اور ڈولا سین بھی شامل ہیں۔ عام آدمی پارٹی کے کنوینر اروند کیجریوال کو بھی جنتر منتر کے قریب حراست میں لیا گیا۔ دہلی کے سابق نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا کو چنڈی گڑھ میں حراست میں لیے جانے کی خبر ہے۔ کیرالہ کے سابق وزیر اعلیٰ پنار ئی وجین، راجیہ سبھا کے رکن جان بریٹاس اور کیرالہ کے سابق وزیر خزانہ کے این بالگوپال کو بھی احتجاج میں شرکت کے لیے دہلی آتے وقت حراست میں لیا گیا۔
احتجاج روکنے کے لیے عوامی نقل و حمل پر بھی بڑے پیمانے پر پابندیاں عائد کی گئیں۔ دہلی میٹرو ریل کارپوریشن (ڈی ایم آر سی) نے پہلے 9 اکتوبر کی رات 9 بجے سے 57 میٹرو اسٹیشنوں کے داخلی اور خارجی دروازے بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔ بعد میں نظرثانی شدہ انتظام کے تحت متاثرہ اسٹیشنوں کی تعداد گھٹا کر 45 کر دی گئی۔ ان پابندیوں کے باعث مسافروں کو کئی اسٹیشنوں پر داخلے اور باہر نکلنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم، بیشتر متاثرہ اسٹیشنوں پر دوسرے راستوں کے لیے میٹرو تبدیل کرنے کی سہولت دستیاب رکھی گئی تھی، جب کہ نئی دہلی میٹرو اسٹیشن پر یہ سہولت بھی متاثر رہی۔ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر سرائے کالے خان اور نیو اشوک نگر کے نمو بھارت اسٹیشن بھی بند رکھے گئے۔
ریل خدمات بھی متاثر ہوئیں۔ نئی دہلی اور حضرت نظام الدین ریلوے اسٹیشنوں سے متعلق پابندیوں کے باعث 10 اکتوبر کو دوپہر 2 بجے تک 245 سے زیادہ ٹرینیں منسوخ کیے جانے کی اطلاع ملی۔ ان میں مقامی اور طویل فاصلے کی ٹرینیں شامل تھیں۔ اس کے نتیجے میں دہلی آنے اور جانے والے مسافروں کو اپنے سفری منصوبے تبدیل کرنے پڑے اور کئی لوگوں کو متبادل ذرائع نقل و حمل اختیار کرنا پڑے۔ سڑکوں پر رکاوٹوں، گاڑیوں کی جانچ اور کیب خدمات کی منسوخی کے باعث بھی لوگوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ دہلی سے متصل اتر پردیش کے علاقوں میں بھی دہلی آنے والے مسافروں کے منصوبے متاثر ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
حفاظتی انتظامات کے تحت نئی دہلی ضلع میں بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (بی این ایس ایس) کی دفعہ 163 کے تحت امتناعی احکامات نافذ کر دیے گئے۔ اس کے علاوہ جن پتھ اور کرتویہ پتھ کے چوراہے سے چار کلومیٹر کے دائرے میں 9 اکتوبر کی رات 10 بجے سے 10 اکتوبر کی رات 10 بجے تک موبائل انٹرنیٹ خدمات معطل کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ پولیس نے وسطی دہلی کے حساس علاقوں میں اضافی نفری تعینات کی اور بھیڑ کو قابو میں رکھنے کے لیے رکاوٹیں اور فسادات پر قابو پانے والی گاڑیاں لگائیں۔ احتجاج کے پیش نظر بازاروں اور عوامی مقامات پر بھی سکیورٹی سخت کر دی گئی۔
مظاہرین کے اہم مطالبات میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کا فوری استعفیٰ، ان کے خلاف فوجداری کارروائی، ایس آئی آر پر روک، جنوری 2025 کی ووٹر فہرست بحال کرنا اور ووٹر رجسٹریشن کے لیے استعمال ہونے والے فارم نمبر 6 میں مبینہ بے ضابطگیوں کی آزادانہ تحقیقات شامل ہیں۔ مظاہرین چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنروں سے متعلق 2023 کے قانون کو منسوخ کرنے کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کے عمل سے رائے دہندگان کے حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔ تاہم، الیکشن کمیشن اور مرکزی حکومت کی جانب سے انتخابی عمل میں بے ضابطگیوں کے الزامات کو مسلسل مسترد کیا جاتا رہا ہے۔
دن بھر جاری رہنے والی کارروائی کے دوران اپوزیشن جماعتوں نے پولیس کی کارروائی پر تنقید کی۔ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے سمیت کئی اپوزیشن رہنماو¿ں نے مظاہرین، طلبہ، وکلا اور دیگر افراد کو حراست میں لیے جانے پر سوالات اٹھائے۔ دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنماو¿ں نے احتجاج کے منتظمین کو تنقید کا نشانہ بنایا اور حفاظتی انتظامات کو ضروری قرار دیا۔ سپریم کورٹ نے بھی کہا تھا کہ نقل و حمل سے متعلق پابندیوں کو مکمل بندش میں تبدیل نہیں ہونے دیا جانا چاہیے۔ اس کے باوجود راجدھانی میں میٹرو، ریل اور سڑکوں پر ٹریفک کی آمدورفت متاثر ہونے کے باعث عام مسافروں کو دن بھر پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔
پولیس کارروائی کے بعد سی جے پی نے ایک ویڈیو جاری کرکے اعلان کیا کہ ابھیجیت دیپکے کی غیر موجودگی میں اجنکیا شندے احتجاج کی قیادت کریں گے۔ تاہم، پولیس کی بھاری تعیناتی اور مظاہرین کو حراست میں لینے کی کارروائی کے باعث جنتر منتر پر تنظیم کا مجوزہ بڑا احتجاج منعقد نہیں ہو سکا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ