
نئی دہلی، یکم اکتوبر (ہ س): ۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو یونین پبلک سروس کمیشن (یو پی ایس سی) کے انتخابی عمل کو مستقبل کی ضروریات کے مطابق ڈھالنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بھرتی کے امتحان میں صرف امیدوار کے علم کو ہی نہیں بلکہ یہ بھی جانچا جانا چاہیے کہ وہ سول سروس میں کیوں آنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ہندوستان کے لیے ’نیشن فرسٹ‘ اور ’سِٹیزن فرسٹ‘ انتخاب کے بنیادی معیار ہونے چاہئیں۔
یو پی ایس سی کے 100 سال مکمل ہونے کے موقع پر بھارت منڈپم میں منعقدہ صد سالہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ 2047 کا ہندوستان آج کے ہندوستان سے بہت مختلف ہوگا۔ ہندوستان زیادہ شہری آبادی والا ملک ہوگا، گاو¿ں اور شہروں کے درمیان فرق کم ہوگا اور نوجوانوں کی امنگیں اور توقعات کہیں زیادہ بڑی ہوں گی۔ ایسے میں عوامی خدمات کو بھی آج کی تیز رفتار سروس والی دنیا کی رفتار کے مطابق کام کرنا ہوگا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ جب مصنوعی ذہانت ہزاروں دستاویزات کو چند لمحوں میں پراسیس کر سکتی ہے اور حکومت کے پاس حقیقی وقت کا ڈیٹا دستیاب ہے تو شہری بھی تیز رفتاری سے حل چاہتے ہیں۔ اس لیے انتخاب کے معیار اور بھرتی کے عمل کو مستقبل کی ضروریات کے مطابق بنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے نوجوانوں کو عوامی خدمت میں لانا ضروری ہے جو سرکاری عہدے سے نہیں بلکہ عوامی خدمت کے جذبے سے متاثر ہوں۔
مودی نے کہا کہ 21ویں صدی کے ہندوستان کی عملی ثقافت کا بنیادی اصول ’پرو پیپل، پرو ایکٹیو گڈ گورننس‘ ہونا چاہیے۔ حکومت کو شہریوں کے مفادات کو اولین ترجیح دیتے ہوئے کام کرنا چاہیے اور مسئلہ سامنے آنے کا انتظار کرنے کے بجائے پہلے ہی اس کا اندازہ لگا کر حل تیار کرنا چاہیے۔ انہوں نے ’ناگرک دیوو بھو‘ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کی خدمت سب سے مقدم ہے۔
انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے دور میں سول افسران کو اطلاعاتی جنگ، ڈیپ فیک، الگورتھم تعصب اور موسمیاتی انصاف جیسے نئے اور پیچیدہ مسائل کا سامنا ہوگا۔ اس لیے انتخابی عمل میں پیچیدہ مسائل حل کرنے کی صلاحیت اور دور اندیشی کو جانچنے کو ترجیح دینی ہوگی۔
وزیر اعظم نے امتحانی عمل میں لگنے والے وقت کو کم کرنے پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ امتحان کو محض ایک پروگرام نہیں سمجھنا چاہیے کیونکہ یہ نوجوانوں کے مستقبل اور ان کی زندگی سے وابستہ ہے۔ امتحان میں چند ماہ کی تاخیر سے کوچنگ فیس، کرایے اور آمدورفت کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں اور خاندانوں پر بوجھ پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امتحانی نظام کو ’ٹائم سرٹینٹی‘ کے اصول کو اپنانا چاہیے اور معیار سے سمجھوتہ کیے بغیر امتحانی دورانیے کو مختصر کرنا چاہیے۔ مودی نے کہا کہ یو پی ایس سی نے امتحانی دورانیے میں تقریباً 100 دن کی کمی کی ہے۔
وزیر اعظم نے یو پی ایس سی اور ریاستی پبلک سروس کمیشنوں کے درمیان بہتر تال میل اور بہترین طریقہ کار کے تبادلے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ قومی کانفرنس کو مزید نتیجہ خیز بنانے کے ساتھ بین الاقوامی سطح کے بہترین طریقہ کار کا مطالعہ کیا جانا چاہیے اور ٹیکنالوجی کے ذریعے عمل کی کارکردگی بڑھانے پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے طریقہ کار اور معیار کو معیاری بنانے اور کمیشنوں کی استعداد کار بڑھانے پر بھی زور دیا۔
مودی نے کہا کہ یو پی ایس سی کے قیام کے وقت بڑے شہروں، خوش حال خاندانوں اور بڑے اداروں سے تعلیم حاصل کرنے والے نوجوانوں کو مواقع کا زیادہ فائدہ ملتا تھا، لیکن اب گاو¿ں اور قصبوں کے نوجوان بھی عوامی خدمت میں پہنچ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی شمولیت بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ 1952 میں سول سروسز میں خواتین امیدواروں کی حصہ داری تقریباً تین فیصد تھی، جو اب بڑھ کر 30 فیصد سے زیادہ ہو گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 1976 میں یو پی ایس سی کے 50 سال مکمل ہونے کے وقت کے مقابلے میں آج امتحان دینے والوں کی تعداد 45 گنا سے بھی زیادہ بڑھ چکی ہے۔ اتنے بڑے ٹیلنٹ پول میں سے موزوں افراد کا انتخاب کمیشنوں کی بڑی ذمہ داری ہے، کیونکہ منتخب افسران آگے چل کر زمینی سطح پر حکومت کے نمائندے کے طور پر کام کرتے ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ یو پی ایس سی نے اپنے پہلے 100 سالوں میں اپنی ساکھ مضبوط کی ہے اور اب دوسری صدی میں نئے امکانات اور چیلنجز کے مطابق اسے مزید مستحکم کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آزادی، غیر جانب داری، اہلیت، رازداری اور منصفانہ عمل یو پی ایس سی کی شناخت ہیں اور ان اقدار کو ہمیشہ برقرار رکھنا چاہیے۔
اس سے قبل وزیر اعظم نے یو پی ایس سی کے 100 سالہ سفر پر لگائی گئی نمائش کا مشاہدہ کیا اور صد سالہ یادگاری سکہ، ڈاک ٹکٹ اور ’100 اہم عدالتی فیصلوں‘ پر مبنی کتاب کا اجرا کیا۔ یو پی ایس سی کا قیام یکم اکتوبر 1926 کو عمل میں آیا تھا۔
تقریب کے دوران وزیر اعظم نے حال ہی میں ایک طیارے میں پیش آنے والے واقعے کے دوران ہندوستانی کیپٹن اسمت کے حوصلے اور حاضر دماغی کی بھی ستائش کی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی بہادری نے ہر ہندوستانی کو فخر سے بھر دیا ہے اور ملک کے عوام سے ان کی اچھی صحت اور لمبی عمر کے لیے دعا کرنے کی اپیل کی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ