فارم-7 کے ذریعے ووٹر لسٹ سے نام حذف کرنے کی سازش کی جا رہی ہے: ڈی کے شیوکمار
بنگلورو، یکم اکتوبر (ہ س)۔ کرناٹک کے وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے الزام عائد کیا ہے کہ ریاست میں جاری خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے تحت ووٹر لسٹ سے بڑی تعداد میں نام حذف کرنے کی ’سازشیں‘ کی جا رہی ہیں۔ جمعرات کو یہاں واقع ہوم آفس کرشنا میں پ
فارم-7 کے ذریعے ووٹر لسٹ سے نام حذف کرنے کی سازش کی جا رہی ہے: ڈی کے شیوکمار


بنگلورو، یکم اکتوبر (ہ س)۔

کرناٹک کے وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے الزام عائد کیا ہے کہ ریاست میں جاری خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے تحت ووٹر لسٹ سے بڑی تعداد میں نام حذف کرنے کی ’سازشیں‘ کی جا رہی ہیں۔

جمعرات کو یہاں واقع ہوم آفس کرشنا میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شیوکمار نے الزام لگایا کہ بی جے پی اور جنتا دل کے رہنماو¿ں اور کارکنوں نے ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے حذف کرانے کے لیے مجرمانہ سازش رچی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس معاملے میں قانونی کارروائی سمیت تمام ضروری اقدامات کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ ریاست کے کئی اضلاع اور اسمبلی حلقوں میں پہلے سے معلومات درج شدہ فارم-7 بی جے پی کارکنوں کی جانب سے بوتھ لیول افسران کے حوالے کیے گئے ہیں۔ اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ ان فارموں کے ذریعے ووٹرز کے نام فہرست سے حذف کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے اسے مجرمانہ سازش قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ اس کے ذریعے فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنے اور سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

شیوکمار نے کہا کہ بابلیشور میں ایسے 1,634 سے زائد درخواستیں جمع کرائی گئی ہیں۔ وجئے پور میں 14 ہزار درخواستیں جمع کرائی گئی تھیں، جبکہ بھالکی میں بی جے پی کارکنوں کی جانب سے ایسی 3,244 درخواستیں دی گئی ہیں۔ بھالکی، نرسمہاراج پور اور بیلگاوی سمیت کئی اسمبلی حلقوں میں اہل ووٹروں کے نام حذف کرنے کے لیے فارم-7 دیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

انہوں نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ پہلے سے ووٹر کی تفصیلات درج شدہ فارم-7 کے ذریعے اقلیتوں، درج فہرست ذاتوں، درج فہرست قبائل اور پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے اہل ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے حذف کرنے کی مبینہ سازش کرنے والوں کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔

شیوکمار نے کہا کہ بعض علاقوں میں 5 سے 10 ہزار ووٹروں کے نام حذف کرنے کی سازش کی گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے الزام لگایا کہ بی جے پی کارکنوں نے اپنے نام سے سیکڑوں فارم-7 درخواستیں جمع کرائی ہیں۔ بعض مقامات پر بی جے پی کارکنوں نے اپنی غلطی تسلیم بھی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فارم-7 میں ووٹروں کی معلومات پہلے ہی سے پرنٹ کرکے اس عمل میں استعمال کی گئی ہیں۔

شیوکمار نے الیکشن کمیشن سے سوال کیا کہ یہ فارم کہاں پرنٹ کیے جا رہے ہیں اور ان کے پیچھے کون لوگ ہیں۔ انہوں نے کمیشن سے مطالبہ کیا کہ اس معاملے میں ملوث ہر شخص کا پتہ لگا کر اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔

شیوکمار نے الزام لگایا کہ کرناٹک میں خصوصی گہری نظرثانی کے عمل کے دوران پہلے ہی 1.07 کروڑ ووٹروں کے نام حذف کیے جا چکے ہیں اور 45 لاکھ ووٹروں کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ اس کے باوجود بی جے پی کارکنوں کی جانب سے تقریباً 50 لاکھ ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے حذف کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے ریاستی الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ ان تمام معاملات میں فوری طور پر ایف آئی آر درج کرکے وسیع پیمانے پر تحقیقات شروع کی جائیں اور ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔

شیوکمار نے کہا کہ ریاستی حکومت ہر شہری کے حقِ رائے دہی کے تحفظ کے لیے پابند عہد ہے۔ ووٹر لسٹ سے نام حذف کرنے کی مبینہ مجرمانہ سازش کے سلسلے میں پولیس مقدمہ درج کرکے تحقیقات کرے گی۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاستی الیکشن کمیشن سے فوری طور پر تحقیقات کا حکم دے کر کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا جائے گا اور اس سلسلے میں کمیشن کے دفتر جاکر ایک یادداشت بھی پیش کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ جب تک کمیشن اس معاملے میں مناسب کارروائی نہیں کرتا، اس وقت تک کابینہ کے ساتھیوں کے ساتھ وہیں دھرنا دیا جائے گا۔

شیوکمار نے الزام لگایا کہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہنے کی وجہ سے بی جے پی اور جنتا دل اس طرح کی مجرمانہ سازش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کرناٹک میں اس طرح کی سرگرمیوں کی کسی بھی قیمت پر اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کے مطابق اقلیتوں اور غریبوں کے مفادات اور حقِ رائے دہی کا تحفظ وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے ان کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے عوام نے ان پر اور حکومت پر اعتماد کرکے یہ ذمہ داری انہیں سونپی ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی معلومات کے بغیر اس طرح کی سرگرمیاں ممکن نہیں ہیں۔ انہوں نے خصوصی گہری نظرثانی کو ملک کا سب سے بڑا دھوکا قرار دیتے ہوئے اسے منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ خصوصی گہری نظرثانی شروع ہونے کے بعد حکومت نے الیکشن کمیشن کو ہر طرح کا تعاون اور حمایت فراہم کی ہے۔ پارٹی کی جانب سے 54 ہزار بوتھ لیول ایجنٹ مقرر کیے گئے ہیں اور کمیشن کے کام میں حکومت نے ہر ممکن مدد کی ہے۔

ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ اس طرح کے عمل میں شامل لوگوں کو گرفتار کیا جانا چاہیے۔ ساتھ ہی بوتھ لیول افسران پر دباو¿ ڈالنے والوں کی شناخت کرکے ان کے خلاف فوجداری مقدمات درج کیے جانے چاہئیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande