
نئی دہلی، یکم اکتوبر (ہ س)۔
دہلی کی پٹیالہ ہاؤس عدالت نے جمعرات کو ممنوعہ تنظیم جے کے ایل ایف کے سربراہ یاسین ملک سمیت سات ملزمین کے خلاف دہشت گردی کی فنڈنگ سے جڑے منی لانڈرنگ معاملے میں انسداد منی لانڈرنگ قانون (پی ایم ایل اے) کے تحت الزامات طے کر دیے۔ این آئی اے عدالت کے خصوصی جج پرشانت شرما نے الزامات طے کرنے کا حکم دیا۔ معاملے کی اگلی سماعت 30 اکتوبر کو ہوگی۔
عدالت نے یاسین ملک کے علاوہ ظہور احمد وٹالی، رکن پارلیمنٹ انجینئر رشید (عبدالرشید شیخ)، شبیر شاہ، نول کشور کپور، ٹرائسن فارمز اینڈ کنسٹرکشن پرائیویٹ لمیٹڈ اور مسرت عالم بھٹ کے خلاف بھی الزامات طے کیے ہیں۔ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ملزمین کو عدالت میں پیش نہیں کیا جا سکا، اس لیے عدالت نے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کو ہدایت دی کہ وہ جیل جا کر ملزمین کے دستخط حاصل کرے۔
ای ڈی کے مطابق اس پورے معاملے میں تقریباً 8.94 کروڑ روپے کی جرم سے حاصل شدہ آمدنی کے لین دین کا انکشاف ہوا ہے۔ رقم کی منتقلی کے لیے نئی دہلی میں واقع پاکستانی ہائی کمیشن کو ذریعہ بنایا گیا۔ اس رقم کا استعمال جموں و کشمیر میں دہشت گردانہ اور علیحدگی پسند سرگرمیوں کو انجام دینے کے لیے کیا جانا تھا۔ ای ڈی نے اس معاملے میں 2017 میں مقدمہ درج کیا تھا۔
ای ڈی کے مطابق یاسین ملک 1990 سے جموں و کشمیر میں جے کے ایل ایف کے سربراہ کی حیثیت سے علیحدگی پسند سرگرمیوں میں ملوث رہا ہے۔ غلام محمد بھٹ خزانچی اور محاسب کے فرائض انجام دیتا تھا۔ اس کام میں ظہور احمد وٹالی بھی غلام احمد بھٹ کا معاون رہا ہے۔ ان کے بینک کھاتوں کی جانچ کے دوران معلوم ہوا کہ یاسین ملک، شبیر شاہ اور مسرت عالم نے مالی سال 2015-16 کے دوران وٹالی کے ذریعے غیر ملکی فنڈنگ حاصل کی تھی۔
یاسین ملک کو دہشت گردی کی فنڈنگ کے معاملے میں پٹیالہ ہاو¿س عدالت پہلے ہی عمر قید کی سزا سنا چکی ہے۔ این آئی اے نے یاسین ملک کی عمر قید کی سزا کو سزائے موت میں تبدیل کرنے کے لیے دہلی ہائی کورٹ میں عرضی دائر کر رکھی ہے، جو فی الحال زیر التوا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ