
نئی دہلی، یکم اکتوبر (ہ س):
وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو کیپٹن اسمت مچھار کے حوصلے اور حاضر جوابی کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بہادری نے ہر ہندوستانی کو فخر سے بھر دیا ہے۔ یونین پبلک سروس کمیشن (یو پی ایس سی) کی صد سالہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ اسرائیل کے وزیر اعظم نے بھی کہا ہے کہ ”اس ہندوستانی نے 9/11 ہونے سے بچا لیا۔“
دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز میں مبینہ طور پر شریک پائلٹ کی جانب سے طیارے کو حادثے کا شکار کرنے کی کوشش کے دوران کیپٹن اسمت مچھار شدید زخمی ہو گئے تھے۔ اس کے باوجود انہوں نے صبر و تحمل اور حاضر دماغی کا مظاہرہ کیا اور کاک پٹ کا دروازہ کھولنے میں مدد کی، جس کے بعد حملہ آور کو قابو میں کیا جا سکا۔ طیارے کو سعودی عرب کے تبوک میں بحفاظت اتار لیا گیا۔
مودی نے کہا کہ ”ہر ہندوستانی کو اسمت کی اس بہادری پر فخر ہے۔“ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اسمت کے والد بھوپیندر بھائی، والدہ گیتا بہن اور اہلیہ سونل سے بھی بات کی ہے۔ وزیر اعظم نے ملک کے عوام سے اپیل کی کہ وہ کیپٹن اسمت کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کریں اور ”ہندوستان کا وقار بلند کرنے والے بھائی اسمت“ کی حوصلہ افزائی کریں۔
یو پی ایس سی کے 100 سال مکمل ہونے کے موقع پر منعقدہ تقریب میں مودی نے کہا کہ یہ دن کمیشن کے سو سالہ سفر اور اس کی میراث دونوں کا جشن ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ان لاکھوں نوجوانوں کی امنگوں کا بھی جشن ہے جو ہر سال سول سروس میں شامل ہونے کا خواب دیکھتے ہیں اور اس اعتماد کا بھی جشن ہے جو ہر ہندوستانی کو اس ادارے پر ہے۔ وزیر اعظم نے اس موقع پر یو پی ایس سی کی صد سالہ یادگاری سکہ اور ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا۔
انہوں نے کہا کہ 100 سال کے سفر میں نسلیں بدلیں، حکومتیں بدلیں، ٹیکنالوجی بدلی اور نصاب تبدیل ہوئے، لیکن یو پی ایس سی پر عوام کا اعتماد آج بھی غیر متزلزل ہے۔ مودی نے یو پی ایس سی کی نمائش کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 1920 میں سبھاش چندر بوس بھی اسی عمل سے گزرے تھے۔ اس وقت برطانوی حکومت تھی، لیکن امتحان میں سنسکرت کا پرچہ بھی ہوا کرتا تھا اور سبھاش بابو نے سنسکرت میں امتحان دیا تھا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ آزادی کے بعد سردار ولبھ بھائی پٹیل کے سامنے صرف ملک کو آزاد رکھنے کا چیلنج نہیں تھا بلکہ ایک قوم کو چلانے کا چیلنج بھی تھا۔ ملک کی تعمیر نو کے لیے جس ہنرمندی کے ڈھانچے کی ضرورت تھی، وہ سردار پٹیل نے فراہم کیا اور یو پی ایس سی کو آزاد ہندوستان کا ایک اہم ستون بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو جس طرح کے نظم و نسق اور انتظامیہ کی ضرورت ہے، یو پی ایس سی اس کے لیے ایک اہم ذریعہ ہے۔
مودی نے کہا کہ آج جن نوجوانوں کا انتخاب ہو رہا ہے، وہ ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر میں اہم کردار ادا کریں گے اور یہی نوجوان ترقی یافتہ ہندوستان کے سب سے بڑے مستفیدین بھی ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ انتخاب کے عمل میں ہمیشہ دو اصولوں کو یاد رکھنا ہوگا ”راشٹر پرتھم “ اور ” ناگرک پرتھم “ ۔ ہر تقرری کو انہی دو اصولوں کی کسوٹی پر پرکھا جانا چاہیے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ سرکاری خدمات میں ایسے نوجوانوں کو لانا ہوگا جو ”پبلک آفس“ کے بجائے ”پبلک سروس“ سے متاثر ہوں۔ اس لیے بھرتی کا امتحان صرف یہ نہ پرکھے کہ امیدوار کتنا جانتا ہے بلکہ یہ بھی دیکھے کہ وہ نوجوان سول سروس میں کیوں آنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے ماہرین کی ضرورت ہے جن میں غریبوں کی مشکلات کو سمجھنے کی حساسیت، مسائل کے حل میں جدت پیدا کرنے کی صلاحیت اور ملک کی ضروریات کو سمجھنے کا جذبہ ہو۔
مودی نے کہا کہ ملک اس دور سے آگے نکل چکا ہے جب یہ سمجھا جاتا تھا کہ حکومت ہی ”مائی باپ“ ہے۔ آج حکمرانی کا منتر ”ناگرک دیو بھو“ ہے، یعنی شہری ان کے لیے کسی دیوتا سے کم نہیں اور شہریوں کی خدمت سب سے مقدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ 21ویں صدی کا ہندوستان ”عوام مرکوز، فعال اور بہتر حکمرانی“ کی نئی عملی ثقافت کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔
وزیر اعظم نے یو پی ایس سی اور ریاستی پبلک سروس کمیشنوں کی استعداد کار بڑھانے پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کام مسلسل جاری رہنا چاہیے۔ مشن کرم یوگی کے تحت تیار کیے گئے آئی جی او ٹی پلیٹ فارم کا استعمال کمیشنوں کے داخلی نظام اور ان کے ساتھ کام کرنے والی ٹیموں کی صلاحیت بڑھانے کے لیے بھی کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یو پی ایس سی کا کام نوجوانوں کے مستقبل سے وابستہ ہے اور ”یوا شکتی سے راشٹر شکتی“ کی تعمیر کے مشن میں کمیشن ایک اہم ستون ہے۔ مودی نے کہا کہ یو پی ایس سی کا 100 سالہ سفر ملک کے انتظامی نظام میں اس کے تعاون اور اس پر قائم عوامی اعتماد کی بھی عکاسی کرتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ