ایوان میں شہیدوں کی توہین کر کے ظالم انگریزی حکومت کو بچا رہی ہے بی جے پی سرکار: سنجیو جھا
نئی دہلی، 7 جنوری:(ہ س )۔ بی جے پی حکومت نے دہلی اسمبلی احاطے میں نصب شہیدِ اعظم بھگت سنگھ کے مجسمے پر عام آدمی پارٹی کے رکنِ اسمبلی اور پارٹی کے چیف وہپ سنجیو جھا، جرنیل سنگھ اور کلدیپ کمار کو دعا اور حاضری سے روک دیا۔ بی جے پی حکومت کے اس اقدام
ایوان میں شہیدوں کی توہین کر کے ظالم انگریزی حکومت کو بچا رہی ہے بی جے پی سرکار: سنجیو جھا


نئی دہلی، 7 جنوری:(ہ س )۔

بی جے پی حکومت نے دہلی اسمبلی احاطے میں نصب شہیدِ اعظم بھگت سنگھ کے مجسمے پر عام آدمی پارٹی کے رکنِ اسمبلی اور پارٹی کے چیف وہپ سنجیو جھا، جرنیل سنگھ اور کلدیپ کمار کو دعا اور حاضری سے روک دیا۔ بی جے پی حکومت کے اس اقدام پر سنجیو جھا نے کہا کہ بی جے پی حکومت ایوان کے اندر شہیدوں کی توہین کر کے ظالم انگریزی حکومت کو بچا رہی ہے۔ یہ لوگ پہلے بھی انگریزوں کو بچاتے تھے اور آج بھی بچا رہے ہیں۔ بی جے پی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا یہ کہہ رہی ہیں کہ بھگت سنگھ کی لڑائی انگریزوں کے خلاف نہیں بلکہ کانگریس کے خلاف تھی۔ ہم اسمبلی احاطے میں جا کر شہید بھگت سنگھ کے مجسمے کے سامنے یہ کہہ کر معافی مانگتے کہ وزیر اعلیٰ کے غلط بیان پر ہم شرمندہ ہیں، لیکن بی جے پی حکومت نے پولیس تعینات کر کے ہمیں اسمبلی احاطے میں داخل ہونے سے روک دیا۔ انہوں نے کہا کہ معطلی کا مطلب ایوان کی کارروائی سے باہر رہنا ہوتا ہے، لیکن بی جے پی حکومت نے ہمیں اسمبلی احاطے میں داخل ہی نہیں ہونے دیا۔ سنجیو جھا نے کہا کہ ایک طرف بی جے پی کے لوگ شہیدوں کی توہین کرتے ہیں۔ دہلی کی وزیر اعلیٰ ایوان میں شہیدِ اعظم بھگت سنگھ کی توہین کرتی ہیں اور کہتی ہیں کہ انہوں نے کانگریس کے خلاف بم پھینکا تھا۔ یہ لوگ انگریزوں کو بچا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایوان سے معطلی کا مطلب سڑک پر روکنا ہرگز نہیں ہوتا۔ ایوان سے معطلی کا مطلب صرف یہ ہے کہ ایوان کی کارروائی میں حصہ نہ لیا جائے، لیکن ہم اسمبلی احاطے میں واقع اپنے دفاتر جا سکتے ہیں۔ اگر ایوان سے معطلی کا مطلب سڑک پر روکنا ہو جائے تو پھر کل کو کسی کو معطل کیا جائے گا تو اسے ملک سے ہی باہر نکال دیا جائے گا۔ سنجیو جھا نے کہا کہ یہ جمہوری اقدار اور آئین کی توہین ہے۔ اگر آج مجھے اسمبلی احاطے میں جانے دیا جاتا تو میں شہیدِ اعظم بھگت سنگھ کے مجسمے کے سامنے جا کر یہ معافی مانگتا کہ آج عام آدمی پارٹی شرمندہ ہے کہ دہلی اسمبلی میں ایسی حکومت اور ایسی وزیر اعلیٰ ہیں جو یہ کہہ رہی ہیں کہ آپ کی لڑائی انگریزوں کی ظالمانہ حکومت کے خلاف نہیں بلکہ کانگریس کے خلاف تھی۔ سنجیو جھا نے کہا کہ ہم نے آلودگی پر سوال اٹھایا تو ہمیں ایوان سے باہر نکال دیا گیا۔ دہلی کے ماحولیات کے وزیر منجندر سنگھ سرسا کہہ رہے تھے کہ ہم ایوان میں آلودگی پر بحث کریں گے اور عام آدمی پارٹی کے اراکین بھاگ گئے، جبکہ ہم بھاگے نہیں تھے۔ ہم تیار تھے اور کہہ رہے تھے کہ ہمیں بلایا جائے، ہم بحث کے لیے تیار ہیں۔ لیکن دہلی پولیس لگا کر ہمیں جانے سے روک دیا گیا۔ آج آلودگی پر سوال پوچھنا جرم بن گیا ہے۔ اگر سوال پوچھو گے تو ایوان سے باہر نکال دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دہلی میں روزانہ قتل ہو رہے ہیں، وہاں پولیس تعینات نہیں کی جا رہی، لیکن ہمیں روکنے کے لیے بڑی تعداد میں فورس لگا دی گئی۔ دہلی کی عوام نے ہمیں منتخب کر کے بھیجا ہے کہ ہم سوال اٹھائیں، لیکن ہمیں اسی کام سے روکا جا رہا ہے۔

بی جے پی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کہتی ہیں کہ بھگت سنگھ نے کانگریس کو جگانے کے لیے بم پھوڑا تھا، جو سراسر غلط ہے۔ شہیدِ اعظم نے انگریزی حکومت کی ظالمانہ پالیسیوں کے خلاف اور بہری انگریزی حکومت کے کان کھولنے کے لیے بم پھوڑا تھا۔انہوں نے کہا کہ انگریزوں نے ملک بھر میں پھانسی گھر بنائے تھے، لیکن وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کہتی ہیں کہ انگریزوں نے پھانسی گھر نہیں بنائے۔ آخر انگریزوں کی کتنی خوشامد کی جائے گی؟ ان کی تاریخ رہی ہے کہ یہ کبھی ملک کے ساتھ کھڑے نہیں ہوئے اور آر ایس ایس کی شاخوں میں یہی نیا تاریخ پڑھایا جاتا ہے، جسے وزیر اعلیٰ یہاں دہرا رہی ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande