ترکمان گیٹ پر پتھراو معاملہ: ایک اور ملزم گرفتار
نئی دہلی، 9 جنوری (ہ س) ۔ وسطی ضلع کے ترکمان گیٹ علاقے میں پتھراو کے واقعہ کے سلسلے میں ایک اور ملزم محمد عمران (36) کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس معاملے میں گرفتار ملزمان کی تعداد 12 ہو گئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تشدد کی ایک بڑی وجہ س
ترکمان گیٹ پر پتھراو معاملہ: ایک اور ملزم گرفتار


نئی دہلی، 9 جنوری (ہ س) ۔

وسطی ضلع کے ترکمان گیٹ علاقے میں پتھراو کے واقعہ کے سلسلے میں ایک اور ملزم محمد عمران (36) کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس معاملے میں گرفتار ملزمان کی تعداد 12 ہو گئی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ تشدد کی ایک بڑی وجہ سوشل میڈیا پر گمراہ کن اور غلط معلومات کا پھیلاو تھا۔ اس سلسلے میں پولیس نے سوشل میڈیا پر سر گرم خاتون کو پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا ہے۔ یہ کارروائی 10 سوشل میڈیا اکاونٹس کی نشاندہی کے بعد کی گئی جنہوں نے مبینہ طور پر یہ افواہیں پھیلائیں کہ ترکمان گیٹ کے قریب واقع فیض الٰہی مسجد کو عدالتی احکامات پر انسداد تجاوزات مہم کے دوران مسمار کر دیا گیا ۔ ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ سوشل میڈیا مانیٹرنگ ٹیم نے خاتون کو ایک ویڈیو کی بنیاد پر طلب کیا جس میں اس نے دعویٰ کیا تھا کہ رام لیلا میدان کے علاقے میں مسجد کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ تحقیقات میں مواد کو گمراہ کن اور حقیقت میں غلط پایا گیا۔

افسر کے مطابق، ٹیم نے کم از کم 10 سوشل میڈیا اکاونٹس کی نشاندہی کی ہے، بشمول سلمان خان کے، جو اس مہم کے بارے میں افواہیں پھیلا رہے تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس طرح کی غلط معلومات امن و امان کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہیں۔

دریں اثنا، پولیس کمشنر ندھین والسن نے واضح کیا کہ کوئی بھی کارروائی کرنے سے پہلے، انہوں نے ذاتی طور پر 120 سے 130 علماء سے ملاقات کی تاکہ صورتحال کو واضح کیا جاسکے۔

ایک اور اہلکار نے بتایا کہ سوشل میڈیا ٹیم تمام پلیٹ فارمز پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے مزید کہا، غلط معلومات کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ جو بھی گمراہ کن مواد پھیلاتا ہوا پایا گیا اسے طلب کیا جائے گا اور کارروائی کی جائے گی۔

اس وقت ترکمان گیٹ کے قریب تجاوزات سے مسمار ہونے والے علاقے سے ملبہ ہٹانے کا کام جاری ہے اور مناسب سیکیورٹی فورسز کو تعینات کیا گیا ہے۔ پولیس پورے معاملے کی جانچ کر رہی ہے۔

ہندستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande