علی گڑھ پبلک اسکول کی ترقی اور ایکسیلنس میں پروفیسر ذکیہ اطہر صدیقی کا اہم کردار
علی گڑھ، 0 جنوری (ہ س)۔ سٹیزن سوسائٹی علی گڑھ کے زیر اہتمام معروف ماہر تعلیم پروفیسر ذکیہ اطہر صدیقی کی تعلیمی خدمات کے اعتراف میں منعقد جلسہ کو خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سید افضال احمد نے کہا کہ معاشی اعتبار سے پسماندہ طبقہ کو تعلیم یافتہ بنانے کے مشن
پروفیسر ذکیہ اطہر صدیقی


علی گڑھ، 0 جنوری (ہ س)۔

سٹیزن سوسائٹی علی گڑھ کے زیر اہتمام معروف ماہر تعلیم پروفیسر ذکیہ اطہر صدیقی کی تعلیمی خدمات کے اعتراف میں منعقد جلسہ کو خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سید افضال احمد نے کہا کہ معاشی اعتبار سے پسماندہ طبقہ کو تعلیم یافتہ بنانے کے مشن کو علی گڑھ پبلک اسکول نے جس خوبی کے ساتھ انجام دیا ہے وہ ایک بڑا کارنامہ ہے،اس مشن کو کامیاب بنانے میں اس کی او ایس ڈی پروفیسر ذکیہ اطہر صدیقی کا کلیدی رول رہا ہے،وہ اس عہدے پرتقریباً 20 سال سے اعزازی طور خدمت انجام دے رہی ہیں سے کام کرتے ہوئے پروفیسر صدیقی نے بے لوث خدمت کی ایک غیر معمولی مثال قائم کی ہے۔ وہ خود کو ذاتی استعمال کے لیے اسکول کے کسی وسائل سے فائدہ نہیں اٹھاتی ہے نہ ہی سرکاری ٹرانسپورٹ اور نہ ہی رہائشی سہولیات جو اخلاقی قیادت، دیانتداری اور عوامی خدمت کے لیے انکے اٹل عزم کو واضح کرتی ہے۔

تعلیم اور قوم کی تعمیر میں ان کی غیر معمولی شراکت کو متعدد باوقار اعزازات کے ذریعے تسلیم کیا گیا ہے، انھیں ڈاکٹر بی آر۔ امبیڈکر ایوارڈ، ویمن آئیکن آف دی ایئر ایوارڈ،اے پی جے۔ عبدالکلام ایوارڈ،لیڈر آف بھارت ایوارڈ، وزارت تعلیم اور کھیل، حکومت مہاراشٹر کا لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ،حکومت اتر پردیش کا بہترین پرنسپل ایوارڈ اور علی گڑھ رتن ایوارڈ سے بھی سرفراز کیا جاچکا ہے۔جب پروفیسر صدیقی نے2006 میں جب چارج سنبھالا تو اس وقت اے پی ایس میں ہائی اسکول پاس ہونے کا تناسب 40 سے 50 فیصد کے درمیان تھا انکی خصوصی توجہ اورمضبوط تدریسی نظام کے بعد یہ تناسب بڑھ کر2007 سے 2025 تک 90سے 95 فیصد کے درمیان رہااور کئی تعلیمی سال ایسے بھی رہے کہ جب نتائج صد فیصد رہے جو تعلیمی معیارات اور طلبہ کی کارکردگی میں مسلسل بہتری کی عکاسی کرتے ہیں۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ اے پی ایس سے پاس ہونے والے طلباء کی ایک بڑی تعداد جو کہ دسویں اور بارہویں جماعت کی تکمیل کے بعد کافی تعداد اعلی تعلیم کی طرف نہ صرف رخ کررہی ہے بلکہ بیرون ملک میں متعدد جگہوں پر بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کررہے ہیں یہ سب پروفیسر ذکیہ اطہر صدیقی کے نظم و ضبط انکی ہمدردانہ کام کرنے کے اطوار اور باریک بینی،خلوص، محنت اور دیانتداری کا نتیجہ ہے۔پروفیسر صدیقی ہمیشہ معاشی طور پر پسماندہ افراد کو ذہن میں رکھ کر انھیں قابل رسائی اور سستی تعلیم کے حصول کو یقینی بنانے کے لئے مسلسل کوشاں رہیں،انھوں نے تعلیمی سال 2025-26 میں معاشی طور پر کمزور طلبہ کو تقریباً 17 لاکھ روپے کی فیس معافی کے ذریعہ سماجی مساوات اور معاشرے کے پسماندہ طبقات کی بہتری کے لییاقدامات کرکے انکی تعلیم کو جاری رکھا۔انھوں نے ساتھ ہی تدریسی اور غیر تدریسی عملہ میں موثر اصلاحات کے ذریعہ انکے لئے ایک منظم تنخواہ کا نظم متعارف کرایا، تنخواہوں میں وقتاً فوقتاً اتر پردیش حکومت کے ذریعہ کئے جانے والے گریڈ کو نافذ کرنے کی ممکن کوشش کی ہے ان اقدامات نے ملازمین کے لیے پیشہ ورانہ وقار، عملے کی حوصلہ افزائی، ادارہ جاتی استحکام اور طویل مدتی مالی تحفظ کو یقینی بنایا۔انکے چارج لینے سے قبل علی گڑھ پبلک اسکول محدود انفراسٹرکچر، ناکافی کلاس روم اور ضروری حفاظتی اقدامات کی کمی محسوس کی جاتی تھی جس کو انھوں نے موقع موقع سے جدید کاری کرکے ایک معیاری نظام قائم کیا۔انھوں نے تعلیمی نظام کو مزید تقویت دیتے ہوئے، انسانی وسائل کی ترقی کی وزارت کے ایس اے ایف اے ایل پروجیکٹ کے تحت ایک جدید کمپیوٹر لیبارٹری قائم کی گئی۔پروفیسر صدیقی نے چارج سنبھالنے کے بعد سے علی گڑھ پبلک اسکول کا سی بی ایس ای کے ساتھ تقریباً 1 کروڑ کا کارپس فنڈ برقرار رکھا۔ بنیادی ڈھانچے کی توسیع، عملے کی فلاح و بہبود، اور مستحق طلباء کے لیے وسیع فیس معافی کی امداد میں خاطر خواہ سرمایہ کاری کے باوجود، اسکول کی مالی پوزیشن سالوں کے دوران مسلسل مضبوط ہوتی گئی۔ یہ انکی تعلیمی صلاحیتوں کا ہی نتیجہ ہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کیچار وائس چانسلروں کے ساتھ انھیں کام کرنے کا موقع ملا جس میں نسیم احمد (آئی اے ایس)، پروفیسر پی کے۔ عبدالعزیز، لیفٹیننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ، اور پروفیسر طارق منصور کے نام شامل ہیں اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی موجودہ وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون کی قیادت میں سرِ دست خدمات انجام دے رہی ہیں۔

سٹیزن سوسائٹی کے جوائنٹ سیکریٹری محمد کامران نے کہا کہ پروفیسر ذکیہ اطہر صدیقی کی 90 سال کی عمر میں تعلیمی خدمات اخلاقی قیادت اور علی گڑھ کے بچوں کے لیے غیر

معمولی وابستگی ایک روشن مثال ہے جو دیگر تعلیمی کام کرنے والوں کے لئے مشعل راہ بنے گی ہمار ی دعا ہے کہ وہ تا عمراسی مثالی جوش و جذبے کے ساتھ اپنے مشن کو جاری رکھیں تاکہ عوامی بھلائی کیلئے دیگر افراد سامنے آئیں اور ملک وقوم کی ترقی میں حصہ دار بنیں۔اس موقع پر یونیورسٹی اور شہر کے معززین نے شرکت کی اور پروفیسر ذکیہ اطہر صدیقی کی تعلیمی خدمات کا اعتراف کیا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande