
نئی دہلی، 7 جنوری(ہ س )۔
دہلی کی عوام خطرناک آلودگی سے دوچار ہے، لیکن بی جے پی حکومت اس نہایت اہم مسئلے سے لگاتار بچتی جا رہی ہے۔ سرمائی اجلاس کے تیسرے دن بھی بی جے پی حکومت نے آلودگی پر بحث سے بچنے کے لیے ایوان کو ملتوی کرا دیا۔ حالانکہ عام آدمی پارٹی کے مطالبے پر حکومت نے بدھ کے روز ایوان میں آلودگی پر بحث کرانے کی بات کہی تھی، مگر جب بحث کا وقت آیا تو ایوان ملتوی کرا دیا گیا۔ بدھ کو ایوان ملتوی ہونے کے بعد منعقدہ پریس کانفرنس میں آپ کے سینئر رہنما اور سابق وزیرِ ماحولیات گوپال رائے نے یہ باتیں کہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہلی کے کروڑوں لوگ آلودہ ہوا میں سانس لینے پر مجبور ہیں، مگر حکومت تین دنوں سے صرف بہانے بنا رہی ہے۔ حکومت کو چاہیے تھا کہ آلودگی سے متعلق رپورٹ ایوان میں پیش کرتی، لیکن وہ اس مسئلے سے بھاگنے کی کوشش کر رہی ہے۔گوپال رائے نے کہا کہ ایوان میں حزبِ اختلاف آلودگی کے مسئلے پر بحث کا مطالبہ کر رہا ہے۔ منگل کو جب آواز اٹھائی گئی تو اسمبلی اسپیکر نے کہا تھا کہ بدھ کو آلودگی پر بحث ہوگی۔ لیکن بدھ کے روز بحث نہ ہو، اس کے لیے صبح ہی ہنگامے کا ایجنڈا لایا گیا۔ اس کی آڑ میں ہم نے دیکھا کہ حزبِ اختلاف کا ایک رکن اپنی نشست پر کھڑا ہوا تو اسے ایوان سے باہر نکال دیا گیا، جبکہ صبح سے ہی حکمراں جماعت کے ارکان ویل میں کھڑے رہے اور ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ اسی بہانے اسپیکر نے جمعرات تک کے لیے ایوان ملتوی کر دیا۔گوپال رائے نے کہا کہ پہلے دن آلودگی پر بحث نہیں ہوئی اور ہمارے ارکان کو ایوان سے باہر نکالا گیا۔ منگل کو بھی ایوان میں بحث نہیں ہو سکی۔ اس وقت ماحولیات کے وزیر منجندر سنگھ سرسا اور اسپیکر نے کہا تھا کہ بدھ کو بحث ہوگی اور فہرست میں یہ بھی درج تھا کہ ماحولیات کے وزیر بیان دیں گے۔ لیکن آج بیان دینے کا وقت آنے سے پہلے ہی ایوان ملتوی کر دیا گیا۔ یہ صاف ظاہر کرتا ہے کہ آلودگی کے سبب دہلی کے دو کروڑ لوگوں کی زندگیوں پر جو خطرہ منڈلا رہا ہے، اس سے یہ حکومت بچ رہی ہے۔ تین دن گزر چکے ہیں، ہر بار کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر بی جے پی حکومت اس مسئلے سے منہ چھپا رہی ہے، جو نہایت افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت کو ایوان میں اس بات پر بحث کرنی چاہیے کہ آلودگی کی سطح کیوں بڑھی، اتنے زیادہ لوگ اسپتال کیوں پہنچے اور لوگوں کی زندگیوں پر بحران کیوں پیدا ہوا؟ حکومت نے اس سلسلے میں کیا اقدامات کیے، اس کی رپورٹ ایوان میں پیش کی جانی چاہیے تھی۔ رپورٹ پیش کرنا تو دور، یہ لوگ مسلسل بھاگنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دوسری طرف منگل کو وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے ایوان کے پلٹ پر جو بیان دیا کہ بھگت سنگھ، راج گرو اور سکھ دیو نے کانگریس حکومت کے خلاف بم پھینکا تھا، وہ نہایت افسوسناک ہے۔ عام آدمی پارٹی چاہتی ہے کہ ایوان میں اس معاملے پر بھی بحث ہو۔ وزیر اعلیٰ واضح کریں کہ انہوں نے یہ بیان کس بنیاد پر دیا اور کس تاریخ میں پڑھا۔ اس وقت انگریزوں کی حکومت تھی، لیکن انگریزوں کو بچانے کے لیے بار بار اس طرح کے بیانات کیوں دیے جا رہے ہیں؟حکومت ان دونوں معاملوں سے بھاگ رہی ہے، لیکن جمعرات کو ایوان میں عام آدمی پارٹی کی جانب سے اس پر قرارداد لائی جائے گی اور ہم چاہتے ہیں کہ بی جے پی کی وزیر اعلیٰ وضاحت پیش کریں۔اس موقع پر آپ کے رکنِ اسمبلی مکیش آہلاوت نے کہا کہ آج ایوان چلتے ہوئے تیسرا دن ہو گیا ہے، لیکن بی جے پی حکومت نے آلودگی پر ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ یہ لوگ صرف گمراہ کر رہے ہیں اور عوام کی توجہ بھٹکا رہے ہیں۔ ان کا ایجنڈا آلودگی نہیں ہے، بلکہ یہ روز کوئی نہ کوئی نیا مسئلہ لے آتے ہیں۔ منگل کو بی جے پی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے بھگت سنگھ جی کے بارے میں توہین آمیز الفاظ استعمال کیے۔ آج عام آدمی پارٹی اس معاملے کو اٹھانے والی تھی، مگر بی جے پی ایک اور نیا مسئلہ لے آئی۔ جمعرات کو ہم تمام حزبِ اختلاف کے اراکین اس پر آواز اٹھائیں گے، بھگت سنگھ جی کی توہین کی مذمت کریں گے اور مذمتی قرارداد لا کر اس پر بحث بھی کریں گے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais