

اندور میں اپوزیشن لیڈر سنگھار نے واٹر آڈٹ کیا، آلودہ پانی کی شکایتیں سنیں اور معائنہ بھی کیا
اندور کے کئی اور علاقے بھاگیرتھ پورہ بننے کے دہانے پر!: امنگ سنگھار
اندور، 07 جنوری (ہ س)۔
مدھیہ پردیش کے اندور شہر کے بھاگیرتھ پورہ علاقے میں ہوئے آلودہ پانی کے سانحے کے بعد کانگریس ریاستی حکومت پر مسلسل حملہ آور ہے۔ کانگریس بھاگیرتھ پورہ میں آلودہ پانی پینے سے 20 لوگوں کی موت کے پیچھے حکومت اور کارپوریشن کی لاپروائی کا الزام لگا رہی ہے۔ اسی سلسلے میں مدھیہ پردیش اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر امنگ سنگھار نے بدھ کو اندور شہر کے مختلف علاقوں میں خود جا کر واٹر آڈٹ کیا اور پانی کے سیمپل لے کر موقع پر جانچ کی۔ جانچ میں تقریباً سبھی علاقوں میں پانی انتہائی آلودہ اور پینے کے قابل نہیں ملا۔ اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ یہ صرف بھاگیرتھ پورہ کا سانحہ نہیں ہے، بلکہ پورا اندور گندا اور سیوریج والا پانی پینے کو مجبور ہے۔ جو کام انتظامیہ کو کرنا چاہیے تھا، وہ آج اپوزیشن کو سڑکوں پر اتر کر کرنا پڑ رہا ہے۔
اپوزیشن لیڈر امنگ سنگھار نے بدھ کی صبح سے اندور کے کئی علاقوں میں جا کر پانی کی جانچ کی اور حالات بے حد خراب ملے۔ انہوں نے مسلم اکثریتی علاقے مدینہ نگر سے اندور میں واٹر آڈٹ کی شروعات کی۔ انہوں نے آلودہ پانی کی شکایتیں سنیں اور معائنہ بھی کیا۔ اس دوران سنگھار نے موقع پر ہی پانی کے سیمپل لے کر جانچ کی اور کہا کہ اندور کے کئی علاقوں میں اب بھی آلودہ پانی کی سپلائی ہو رہی ہے۔ معائنے کے دوران مقامی شہریوں نے سنگھار کو بتایا کہ نلوں سے بدبودار اور گندا پانی آ رہا ہے، جس سے لوگوں میں بیماری پھیلنے کا خطرہ برقرار ہے۔ سنگھار نے کہا کہ حکومت اور نگر نگم کی لاپروائی کے باعث انہیں خود میدان میں اتر کر واٹر آڈٹ کرنا پڑ رہا ہے۔ امنگ سنگھار نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ ’’میئر جی، لگتا ہے آپ صرف پھوٹی کوٹھی سے مہو ناکہ تک کے ہی میئر ہیں، جبکہ آپ کو پورے اندور نے چنا ہے۔‘‘
اس کے بعد امنگ سنگھار نے اندور کے کھجرانا کی کالونیوں میں آلودہ پانی کا اچانک معائنہ کیا، آلودہ پانی کے سیمپل لیے اور خود موقع پر جانچ/ٹیسٹ کر پایا کہ یہاں بھی آلودہ پانی آ رہا ہے جو پینے کے قابل نہیں ہے۔ اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ کھجرانا علاقے میں نرمدا کا پانی بھاری بدبو اور آلودگی کے ساتھ سپلائی کیا جا رہا ہے۔ یہاں بھی بھاگیرتھ پورہ کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا ملک کے سب سے صاف ستھرے شہر کہلانے والے اندور میں نرمدا کا بدبودار پانی سپلائی ہونا شرمناک ہے۔ انتظامیہ صرف بھاگیرتھ پورہ تک محدود ہے، جبکہ پورا شہر اسی حال میں جی رہا ہے۔
اس کے بعد اندور کے بھوری ٹیکری علاقے میں اچانک معائنے کے دوران اپوزیشن لیڈر کی طرف سے پانی کے سیمپل لیے گئے۔ موقع پر جانچ میں پانی آلودہ اور صحت کے لیے خطرناک ملا۔ علاقے میں بھاری گندگی، پانی کا جماو اور بیماریوں کی شکایتیں بھی سامنے آئیں۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ لمبے وقت سے شکایتوں کے باوجود کوئی مستقل حل نہیں کیا گیا۔ یہاں پر بھاری گندگی بھی دیکھنے کو ملی اور لوگوں نے بیماریوں کی شکایت بھی کی۔ امنگ سنگھار اندور کے الگ الگ علاقوں میں جا کر وہاں کے مقامی لوگوں سے بات چیت کر پانی کی جانچ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو کام حکومت کو کرنا چاہیے وہ امنگ سنگھار کر رہے ہیں۔
اندور اسمبلی حلقہ-2 میں گٹر کے پاس سے نکلی پانی کی پائپ لائن پر اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ میں خود متاثرہ علاقوں کا معائنہ کر رہا ہوں۔ لوگ کھل کر اپنا درد اور تکلیف بتا رہے ہیں۔ آخر ریاست کی عوام کو سیوریج والا پانی کیوں پلایا جا رہا ہے؟ امنگ سنگھار نے برفانی دھام علاقے کا بھی دورہ کیا، جہاں حالات دیگر علاقوں جیسے ہی پائے گئے- آلودہ پانی، بے ترتیب سپلائی اور انتظامیہ کی پوری بے حسی۔ کناڈیا علاقے میں بھی ملا آلودہ پانی، ہر جگہ وہی حالات لیکن انتظامیہ خاموش۔
اپوزیشن لیڈر امنگ سنگھار نے حکومت سے سیدھے سوال پوچھتے ہوئے کہا-
کیا 20 اموات کے بعد بھی حکومت جاگے گی؟
کیا وزیر، میئر اور نگر نگم اور انتظامیہ کی جوابدہی طے ہوگی؟
کب تک اندور کی عوام زہریلا پانی پینے کو مجبور رہے گی؟
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / انظر حسن