
تہران،19جنوری(ہ س)۔ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی اور لفظی جنگ کے تناظر میں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کی شام اپنے پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘پر ایران کے حوالے سے کچھ اہم اشارے دیے ہیں۔امریکی صدر نے ایک پوسٹ شیئر کی جس میں فوکس نیوز کے اینکر مارک تھیسن کا بیان شامل تھا۔ تھیسن نے پیش گوئی کی ہے کہ ٹرمپ اپنی مدتِ صدارت ختم ہونے سے پہلے ان ممالک کا دورہ کریں گے جنہیں انہوں نے ’آزاد ایران‘، ’آزاد کیوبا‘ اور ’آزاد وینزویلا‘ قرار دیا ہے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران سے متعلق معاملات تیزی سے بدل رہے ہیں۔ تازہ ترین واقعے میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اتوار کے روز 'ایکس' (ٹویٹر) پر ٹرمپ کو جواب دیتے ہوئے خبردار کیا کہ ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای پر کوئی بھی حملہ ’اعلانِ جنگ‘ تصور کیا جائے گا۔ پزشکیان نے مزید کہا کہ کسی بھی فوجی جارحیت پر تہران کا رد عمل انتہائی سخت اور پشیمان کر دینے والا ہو گا۔ایرانی صدر کا یہ بیان ٹرمپ کے اس انٹرویو کے جواب میں آیا ہے جو انہوں نے ویب سائٹ پولیٹیکو کو دیا۔ اس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران میں اب نئی قیادت کی تلاش کا وقت آ گیا ہے‘۔اس سے قبل ایرانی عدلیہ نے ملک میں حالیہ واقعات کے تناظر میں سزائے موت پر عمل درآمد کے امکان کا اشارہ دیا ہے۔ عدلیہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جو کچھ ہوا اسے ایرانی قانون کے مطابق سخت ترین جرائم میں شمار کیا گیا ہے۔ دوسری جانب ٹرمپ نے سزائے موت کے معاملے پر خبردار کرتے ہوئے زور دیا کہ اگر ایسا ہوا تو ایران پر امریکی حملہ کیا جائے گا۔ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ داخلی صورتحال کے بارے میں جھوٹی خبریں بنانے کی مہم چلائی جا رہی ہے۔ انہوں نے ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ ان خبروں کی بنیاد پر تہران کے خلاف موقف اختیار نہ کریں۔ ایرانی ترجمان نے ان مغربی رپورٹوں کی طرف بھی اشارہ کیا جن میں مظاہروں کے دوران ہلاک اور گرفتار ہونے والوں کی تعداد بتائی جا رہی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan