یورپ بہت کمزور، گرین لینڈ کا دفاع نہیں کر سکتا: امریکی وزیرِ خزانہ
واشنگٹن،19جنوری(ہ س)۔امریکہ اور یورپ کے درمیان سفارتی بحران میں شدت لاتے ہوئے امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے بیان دیا ہے کہ جزیرہ گرین لینڈ کو فوجی طور پر صرف تب ہی محفوظ بنایا جا سکتا ہے جب وہ امریکہ کا حصہ بن جائے۔انہوں نے ڈنمارک اور یورپی یونی
یورپ بہت کمزور، گرین لینڈ کا دفاع نہیں کر سکتا: امریکی وزیرِ خزانہ


واشنگٹن،19جنوری(ہ س)۔امریکہ اور یورپ کے درمیان سفارتی بحران میں شدت لاتے ہوئے امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے بیان دیا ہے کہ جزیرہ گرین لینڈ کو فوجی طور پر صرف تب ہی محفوظ بنایا جا سکتا ہے جب وہ امریکہ کا حصہ بن جائے۔انہوں نے ڈنمارک اور یورپی یونین سمیت یورپی طاقتوں کو قطبی علاقے کو روسی اور چینی عزائم سے بچانے میں انتہائی کمزور قرار دیا۔

ان خیالات کا اظہار وزیرِ خزانہ نے چینل این بی سی کے پروگرام فیس دی پریس میں میزبان کرسٹین ویلکر کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کیا۔ بیسنٹ نے اس تزویراتی جزیرے پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے غیر معمولی معاشی دباو¿ ڈالنے کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کا دفاع کیا۔یورپ کے آٹھ مخالف ملکوں سے آنے والی درآمدات پر 10 سے 25 فیصد تک کسٹمز ڈیوٹی لگانے کے لیے قومی ایمرجنسی ایکٹ کے استعمال کی قانونی حیثیت پر پوچھے گئے سوالات کے جواب میں بیسنٹ نے یہ کہہ کر جواز پیش کیا کہ حقیقی قومی ہنگامی صورتحال وہ ہے جو مستقبل میں کسی قومی ہنگامی صورتحال سے بچائے۔انہوں نے واضح کیا کہ امریکی انتظامیہ اپنی عظیم معاشی طاقتکو قطبِ شمالی میں کسی گرم جنگ کو روکنے کے لیے ایک پیشگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ ان کے خیال میں امریکی کنٹرول ایک ایسا حفاظتی حصار فراہم کرے گا جس سے سب کا فائدہ ہوگا۔

امریکی وزیر خزانہ بیسنٹ نے اس اقدام کا روس کے جزیرہ نما کریمیا کے الحاق سے موازنہ کرنے کو مسترد کر دیا اور اس بات پر زور دیا کہ یورپی بالآخر یہ سمجھ جائیں گے کہ یہ راستہ گرین لینڈ، برِاعظم یورپ کی سلامتی اور امریکہ کے لیے بہترین ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا فوجی آپشن اب بھی میز پرہے جیسا کہ صدر نے پہلے اشارہ دیا تھا تو بیسنٹ نے بتایا کہ انہوں نے اس بارے میں ٹرمپ سے براہِ راست بات نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ معاشی دباو¿ ہی مذاکرات کا موجودہ ذریعہ ہے۔وزیرِ خزانہ نے انتظامیہ کے قانونی موقف پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس بات کا قطعاً کوئی امکان نہیں ہے کہ سپریم کورٹ صدر کے ان ڈیوٹیز کو عائد کرنے کے اختیارات میں مداخلت کرے گی۔ انہوں نے بیجنگ کے ساتھ موجودہ صورتحال کو بھی مستحکم قرار دیا لیکن اس عزم کا اعادہ کیا کہ طاقت کے توازن میں کسی بھی بگاڑ کی صورت میں صدر فوری کارروائی کے لیے تیار ہیں۔

یہ بیانات ایک ایسے حساس وقت میں سامنے آئے ہیں جب برسلز میں یورپی یونین کے سفرامریکی دھمکیوں کا جواب دینے کے لیے ایک ہنگامی اجلاس کر رہے ہیں۔ ڈنمارک کو اس مطالبے کو مسترد کرنے کے لیے شدید عوامی اور سیاسی دباو¿ کا سامنا ہے جسے یورپی حلقوں نے معاشی بلیک میلنگ قرار دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ بیسنٹ کی طرف سے یورپ کو کمزور قرار دینے سے سفارتی کوششیں مزید پیچیدہ ہو جائیں گی۔ خاص طور پر جب جرمنی اور فرانس جیسے ممالک سمجھتے ہیں کہ ان ڈیوٹیز کے نتیجے میں ایک ایسی ہمہ گیر تجارتی جنگ چھڑ سکتی ہے جو نیٹو اتحاد کو اندر سے کمزور کر دے گی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande