
لندن،19جنوری(ہ س)۔برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے خود کو اس مطالبے سے الگ رکھا ہے کہ عالمی ممالک سے ’کونسل آف پِیس‘ کی مستقل رکنیت کے بدلے ایک ارب ڈالر ادا کرنے کا تقاضا کیا جائے۔ بلیئر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سربراہی میں قائم مذکورہ کونسل کی انتظامی باڈی میں شامل کیا گیا ہے۔ٹونی بلیئر نے فیس کے اس مطالبے کی حمایت سے انکار کر دیا ہے، جو نئی تشکیل پانے والی کونسل کے مجوزہ منشور کا حصہ ہے۔ یہ اس بات کا ایک اور اشارہ ہے کہ کونسل آف پیس کی تفصیلات پر ٹرمپ کے منصوبے کے حوالے سے امریکہ کے اتحادیوں اور شراکت داروں کی جانب سے مخالفت پائی جاتی ہے۔ یہ بات بلومبرگ نیوز ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں بتائی۔اتوار کے روز ٹونی بلیئر کے ترجمان نے کہا کہ بلیئر اس کونسل کے اراکین کے تعین میں شامل نہیں ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ فیس کی تجویز کی علانیہ حمایت نہیں کریں گے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ ایک ارب ڈالر کی فیس سے متعلق کسی بھی قسم کے سوالات ٹرمپ انتظامیہ سے کیے جائیں۔معاملے سے آگاہ ذرائع کے مطابق، ٹرمپ کی شرائط کے باعث بعض ممالک کی جانب سے کونسل میں شمولیت سے انکار کا امکان ہے۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ کچھ دیگر ممالک اصولی طور پر کونسل آف پیس میں شامل ہونے پر آمادہ ہو سکتے ہیں، تاہم وہ مستقل رکنیت کے لیے فیس ادا کرنے کو قبول نہیں کریں گے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan