بہار میں ماب لنچنگ کے انسانیت سوز واقعات پرصدر جمعیة علماءہند کا وزیر اعلی بہار کو مکتوب
مجرموں کے خلاف سخت کارروائی اور متاثرین کے لیے معقول معاوضہ کا مطالبہنئی دہلی،17جنوری(ہ س)۔ جمعیة علماءہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے حالیہ دنوں بہار میں مسلم اقلیت کے خلاف پیش آنےوالے ماب لنچنگ اور قتل کے پہ درپہ واقعات پر گہری تشویش کا اظ
بہار میں ماب لنچنگ کے انسانیت سوز واقعات پرصدر جمعیة علماءہند کا وزیر اعلی بہار کو مکتوب


مجرموں کے خلاف سخت کارروائی اور متاثرین کے لیے معقول معاوضہ کا مطالبہنئی دہلی،17جنوری(ہ س)۔

جمعیة علماءہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے حالیہ دنوں بہار میں مسلم اقلیت کے خلاف پیش آنےوالے ماب لنچنگ اور قتل کے پہ درپہ واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس سلسلے میں مولانا مدنی نے وزیر اعلیٰ بہار شری نتیش کمار کو ایک تفصیلی خط تحریر کیا ہے جس میں فوری اور مو¿ثر کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

خط میں اس امر پر زور دیا گیا ہے کہ مہاتما بدھ کی سرزمین بہار سماجی ہم آہنگی اور عدمِ تشدد کی درخشاں روایت کے لیے معروف ہے،لیکن ان واقعات نے اس کی شبیہ کو کافی متاثر کیا ہے۔ مولانا مدنی نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ پورے ملک میں نفرت پھیلانے والوں کو کھلی آزادی دی جا رہی ہے، جس میں عام شرپسندوں کے ساتھ ارکان پارلیمنٹ و اسمبلی تک شامل ہیں۔ لیکن جب نفرت خونریزی اور قتل کی شکل اختیار کر لے تو ریاست کی خاموشی نہایت خطرناک ہو جاتی ہے۔ اس لیے بہار کے وزیرِ اعلیٰ کی حیثیت سے آپ کی یہ ذمہ داری ہے کہ شہریوں کے جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنائیں اور عوام کا مجروح اعتماد بحال کریں۔اپنے خط میں مولانا مدنی نے حالیہ تمام سنگین واقعات کی نشان دہی کی ہے، جن میں نوادہ ضلع کے ایک مسلم کپڑا فروش محمد اطہر حسین کے ساتھ وحشیانہ عمل ،بعد ازاں اس کی موت، گوپال گنج کے متھیا گاو¿ں میں احمد آزاد کو گوشت رکھنے کے شبہ میں بجلی کے کھمبے سے باندھ کر سرِعام پیٹا جانا، مدھوبنی کے چکدہا بستی میں محمد مرشد عالم کو ’بنگلہ دیشی‘بتار کر اغوا، تشدد اور تذلیل کا نشانہ بنانا، جھنجھارپور میں محمد قیوم کو معمولی تنازع کے بعد قتل کیا جانا اور مدھےپورہ کے مرلی گنج تھانہ کے بھیرو پٹی گاو¿ں میں بیوہ مسلم مزدور حناپروین کا اغوا، مبینہ عصمت دری اور بہیمانہ قتل جیسے دل دہلادینے والے واقعات شامل ہیں۔مولانا مدنی نے خصوصی طور حنا پروین کے خلاف پیش آنے والے جرائم پر شدید رنج و غم اور غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پروین جیسی مظلوم بیوہ، جو چھ بچوں کی واحد کفیل تھیں، کا بہیمانہ قتل ہمارے سماج اور انتظامی نظام کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

جمعیة علماءہند نے مطالبہ کیا ہے کہ ان تمام واقعات میں ملوث افراد کے خلاف فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ کارروائی کی جائے، غفلت یا سازباز کے مرتکب اہلکاروں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے اور متاثرین کے اہلِ خانہ کو مناسب معاوضہ اور مکمل بازا?بادکاری فراہم کی جائے۔ ساتھ ہی پولیس اور ضلعی انتظامیہ کو بھیڑ کے ہاتھوں انصاف (Vigilantism)، فرقہ وارانہ پروفائلنگ اور قانون شکنی کی روک تھام کے لیے واضح اور لازم ہدایات جاری کی جائیں۔

مزید برآں مولانا مدنی نے جمعیة علماء ہند کی تمام مقامی اکائیوں کو متوجہ کیاہے کہ وہ متاثرہ خاندانوں، بالخصوص یتیم بچوں اور دیگر ضرورت مند افراد کی فوری مدد کے لیے آگے آئیں، قانونی معاونت، راحت رسانی اور بازآبادکاری میں بھرپور کردار ادا کریں تاکہ انسانی ہمدردی اور سماجی ذمہ داری کی مثال قائم ہو۔جمعیة علماءہند نے امید ظاہر کی ہے کہ بہار حکومت بلا تاخیر سنجیدہ، ٹھوس اور فیصلہ کن اقدامات اٹھا کر انصاف، امن و امان اور ا?ئینی اقدار کا تحفظ یقینی بنائے گی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande