
مونگیر ،17جنوری(ہ س)۔17 جنوری 2026 جامعہ رحمانی میں طلبہ و اساتذہ کی انگریزی زبان پر گرفت مضبوط کرنے کے مقصد سے 40 روزہ خصوصی انگلش لرننگ ورکشاپ کا کامیاب انعقاد عمل میں آیا۔ اس تعلیمی و تربیتی ورکشاپ کا انعقاد امیرِ شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی دامت برکاتہم، سجادہ نشین خانقاہ رحمانی مونگیر کی سرپرستی و رہنمائی میں کیا گیا، جن کی بصیرت افروز قیادت نے مدارس میں دینی تقاضوں کے مطابق زبان سیکھنے کی ایک مضبوط مثال قائم کی۔
اس ورکشاپ کے لیے جنوبی ہند کے شہر حیدرآباد سے معروف انگلش ماسٹر ٹرینر مولانا محمد عاقب صفی کو مدعو کیا گیا، جنہوں نے جدید، عملی طرز کے مو¿ثر تربیتی اسلوب کے ذریعے طلبہ کو انگریزی بول چال، اسٹیج کانفیڈنس، تقریری مہارت، مو¿ثر اظہارِ خیال اور پبلک اسپیکنگ کی عملی تربیت فراہم کی۔ چالیس دنوں پر محیط اس پروگرام میں طلبہ کی نمایاں پیش رفت دیکھنے کو ملی۔ورکشاپ کے اختتام پر طلبہ کی عملی کارکردگی کو جانچنے اور ان کی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے ”رحمانی ٹاکس“ کے عنوان سے ایک خصوصی پروگرام منعقد کیا گیا، جس میں طلبہ نے انگریزی زبان میں تقاریر،قرآنی آیات کی تفسیر،اسلامی واقعات کی پیش کش، محاورات کے استعمال اور اظہارِ خیال کے مقابلوں میں بھرپور شرکت کی اور اپنے اعتماد و مہارت کا شاندار مظاہرہ کیا۔
پروگرام کے صدارتی خطاب میں جامعہ رحمانی کے استاذِ حدیث حضرت مولانا مفتی ریاض احمد صاحب قاسمی نے فرمایا کہ مثالی قیادت کی مثالی سوچ، مثالی مدرس کی مثالی تدریس، مثالی طلبہ کی مثالی محنت اور مثالی انتظامیہ کے مثالی نظم و نسق کے امتزاج سے ہی وہ نظام وجود میں آتا ہے جس کی جھلک اس چار گھنٹے پر محیط پروگرام میں واضح طور پر نظر آئی۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اس بنیاد پر اخلاص کے ساتھ مسلسل محنت کی جائے تاکہ یہ خواب ایک مضبوط اور پائیدار حقیقت بن سکے۔اس کے بعد جامعہ رحمانی کے ناظمِ تعلیمات برائے امور طلبہ مولانا محمد خالد صاحب رحمانی نے اپنے تاثرات میں کہا کہ مدارسِ اسلامیہ میں زبان کی اہمیت کو جس گہرائی کے ساتھ امیرِ شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی دامت برکاتہم سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیر نے محسوس کیا اور اس کا عملی حل پیش کیا، اس کی مثالیں کم ملتی ہیں۔ ”رحمانی ٹاکس“ اسی وڑن کا عملی مظہر ہے۔
مولانا صالحین ندوی سکریٹری، رحمانی فاو¿نڈیشن مونگیر نے کہا کہ اس نوعیت کے ورکشاپس آئندہ بھی جاری رہیں گے تاکہ طلبہ کی دلچسپی برقرار رہے، یہی جامعہ کے سرپرست امیرِ شریعت دامت برکاتہم اور تمام ذمہ داران کی مشترکہ خواہش ہے۔جامعہ رحمانی کے شعبہ دارالحکمت کے استاذ مولانا عبد الاحد رحمانی ازہری نے ایک مو¿ثر مثال کے ذریعے طلبہ کو پیغام دیا۔ انہوں نے گیند اچھال کر بتایا کہ جس طرح گیند اچھلنے کے بعد اگر دوبارہ اچھالی نہ جائے تو نیچے گر کر وہیں پڑی رہ جاتی ہے، اسی طرح اگر انگریزی کی جو بنیاد 40 دنوں میں رکھی گئی ہے، اس پر مسلسل محنت نہ کی گئی تو ترقی رک جائے گی، اور اگر تسلسل برقرار رکھا گیا تو کامیابی یقینی ہے۔
جامعہ رحمانی کے شعبہ صحافت کے ایچ او ڈی فضل رحماں رحمانی نے 40 روزہ انگلش لرننگ پروگرام کے انعقاد پر امیرِ شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی دامت برکاتہم کی بصیرت اور سرپرستی کو خراجِ تحسین پیش کیا اور پروگرام کو کامیابی سے ہمکنار کرنے پر ماسٹر ٹرینر مولانا عاقب صفی کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے جامعہ رحمانی سے فارغ ہونے والے سالِ ہشتم عربی کے طلبہ کو دعوت دی کہ وہ آئندہ برس جامعہ رحمانی آئیں، جہاں ان کے لیے خصوصی طور پر 40 روزہ انگلش لرننگ ورکشاپ منعقد کی جائے گی۔ اس موقع پر انہوں نے انگریزی زبان کے 45 حروف پر مشتمل طویل ترین لفظ کا تذکرہ کر کے طلبہ کو علمی ذوق بھی فراہم کیا۔
آخر میں جامعہ رحمانی کے شعبہ معہد الریادہ کے انچارج مولانا صبا حیدر صاحب ندوی نے نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے کہا کہ جو طلبہ آج کامیاب ہوئے ہیں انہیں اپنی محنت کا سفر جاری رکھنا ہوگا، اور جو اس بار کامیاب نہ ہو سکے وہ یہ یاد رکھیں کہ میدانِ جنگ میں وہی گرتے ہیں جو میدان میں اترتے ہیں، ناکامی دراصل کامیابی کی تمہید ہوتی ہے۔اس موقع پر رحمانی اسکول آف ایکسیلنس کے انگریزی ٹیچر جناب اسعد صاحب نے بھی اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے کہا کہ مدرسہ کے طلبہ نے انگریزی میں ایک مثبت انقلاب برپا کر دیا ہے، جو لائقِ تحسین ہے، اور یہ طلبہ کسی بھی میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکتے ہیں۔یہ پروگرام محض جامعہ رحمانی میں انگریزی زبان کے فروغ تک محدود نہ رہا، بلکہ اس نے دینی تقاضوں کی تکمیل کے لیے بین الاقوامی زبانوں کے ساتھ ہم آہنگ، بامقصد اور دور رس تعلیمی وڑن کی ایک مضبوط، مو¿ثر اور قابلِ تقلید عملی تصویر پیش کی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais