جو معاشرہ اپنی تاریخ کو بھول جاتا ہے وہ اپنا مستقبل اور اخلاقی سمت بھی کھو دیتا ہے: ہری ونش
نئی دہلی، 17 جنوری (ہ س):۔ جو معاشرہ اپنی تاریخ کو بھول جاتا ہے وہ نہ صرف اپنا مستقبل کھو دیتا ہے بلکہ اخلاقی سمتبھی کھو دیتا ہے۔ تاریخ محض ماضی کا محاسبہ نہیں ہوتی بلکہ جمہوری اداروں، عوامی شعور اور قومی کردار کی بنیاد ہوتی ہے۔ اس لیے ویر وٹھل ب
جو معاشرہ اپنی تاریخ کو بھول جاتا ہے وہ اپنا مستقبل اور اخلاقی سمت بھی کھو دیتا ہے: ہری ونش


نئی دہلی، 17 جنوری (ہ س):۔

جو معاشرہ اپنی تاریخ کو بھول جاتا ہے وہ نہ صرف اپنا مستقبل کھو دیتا ہے بلکہ اخلاقی سمتبھی کھو دیتا ہے۔ تاریخ محض ماضی کا محاسبہ نہیں ہوتی بلکہ جمہوری اداروں، عوامی شعور اور قومی کردار کی بنیاد ہوتی ہے۔ اس لیے ویر وٹھل بھائی پٹیل کی وراثت کو زندہ کرنا کوئی علمی مشق نہیں بلکہ ایک جمہوری ذمہ داری ہے۔ راجیہ سبھا کے ڈپٹی چیئرمین ہری ونش ہفتہ کو عالمی کتاب میلے میں دہلی قانون ساز اسمبلی سکریٹریٹ کی طرف سے شائع کی گئی کافی ٹیبل کتاب شری ویر وٹھل بھائی کی گورو گاتھا: ایکشتابدی یاترا پر ایک سیمینار سے خطاب کر رہے تھے۔

اس موقع پر دہلی قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر وجیندر گپتا، راجیہ سبھا کے سابق رکن پارلیمنٹ اور انڈین کونسل فار کلچرل ریلیشنز (آئی سی سی آر) کے سابق صدر، اندرا گاندھی نیشنل سینٹر فار آرٹس میں کالاندھی فیکلٹی کے چیئرمین رمیش چندر گوڑ، پروفیسر (ڈاکٹر) منیشا چودھری، دہلی یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ کے طالب علموں، ان کے اساتذہ اور شہریوں کے ساتھ بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے۔ اپنے خطاب میں ڈپٹی چیئرمین ہری ونش نے آزادی کی جدوجہد کے ایک نسبتاً فراموش شدہ باب کو زندہ کرنے میں دہلی قانون ساز اسمبلی سکریٹریٹ کی کوششوں کی تعریف کی۔ انہوں نے اس کتاب کو ہندوستانی تاریخ کے ایک انتہائی متحرک اور فیصلہ کن دور کی مستند دستاویز قرار دیا۔

اس موقع پر دہلی اسمبلی کے اسپیکر وجیندر گپتا نے کہا کہ 1912 سے 1933 تک کا عرصہ ہندوستان کی تحریک آزادی کا سب سے فیصلہ کن دور تھا جس کا اختتام 22 اکتوبر 1933 کو ویر وٹھل بھائی پٹیل کی موت پر ہوا۔ ویر وٹھل بھائی پٹیل کو ایک انقلابی، مجاہد آزادی رہنما قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہندوستانی پارلیمانی ادارہ کی بنیاد رکھی ۔انہوں نے وضاحت کی کہ یہ اشاعت تاریخ کو نہ صرف علمی دنیا تک بلکہ عام شہری تک رسائی کے قابل بنانے کی کوشش ہے جس کے لیے تقریب میں ایک کیو آر کوڈ بھی لانچ کیا گیا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande