
جے پور، 15 جنوری (ہ س)۔ راجستھان میں ایک بار پھر جمنے والی سردی میں شدت آگئی ہے۔ جمعرات کی صبح سیکر اور الور سمیت کئی اضلاع میں کھیت اور گاڑیوں پر برف جم گئی۔ کم سے کم درجہ حرارت انجماد کے قریبہونے کے ساتھ کئی علاقوں میںپالا پڑا ہے، جس سے فصلوں کو نقصان کا خطرہ ہے۔
محکمہ موسمیات نے جمعرات کو چھ اضلاع کے لیے سردی کی لہر کی وارننگ جاری کی۔ تاہم، 16 جنوری سے سردی کی لہر سے کچھ راحت متوقع ہے، جبکہ 19 جنوری سے ہلکی بارش یا بوندا باندی ہو سکتی ہے۔
سیکر کے فتح پور میں بدھ کو کم سے کم درجہ حرارت 0.2 ڈگری سیلسیس درج کیا گیا۔ دو دن کی راحت کے بعد، رات بھر درجہ حرارت میں اچانک کمی کے نتیجے میں کھیتوں اور گاڑیوں پر برف کی تہہ بن گئی۔ الور میں بدھ کی رات بھی شدید سردی پڑی اور جمعرات کی صبح گاڑیاں برف سے ڈھکی ہوئی پائی گئیں۔
بدھ کو شدید سردی کی وجہ سے ہنومان گڑھ اور سری گنگا نگر کے دیہی علاقوں میں بھی برف جمی دیکھی گئی۔ شیخاوٹی اور این سی آر سے متصل علاقوں میں برفیلی ہواو¿ں نے علاقے کے باشندوں کی پریشانیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔
ریاست کے پندرہ شہروں میں کم سے کم درجہ حرارت پانچ ڈگری سیلسیس سے نیچے ریکارڈ کیا گیا۔ ان میں الور، پیلانی، سیکر، جیسلمیر، چورو، سری گنگا نگر، ناگور، سروہی، فتح پور، کرولی، دوسہ، لنکرانسر، جھنجھنو اور پالی شامل ہیں۔ پہاڑی سیاحتی مقام ماو¿نٹ آبو میں کم سے کم درجہ حرارت منفی تین ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔
اگرچہ صبح ٹھنڈی اور سردی کی لہر رہی لیکن دن کے چڑھنے پر دھوپ نکلنے سے لوگوں کو راحت ملی ۔ بدھ کو سب سے زیادہ درجہ حرارت باڑمیر میں 26.6 ڈگری سیلسیس اور پالی کے جوائی علاقے میں 26.4 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔ دارالحکومت جے پور میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 23.8 ڈگری سیلسیس رہا۔
ماہرین موسمیات کے مطابق 19 جنوری سے ایک ویسٹرن ڈسٹربنس فعال ہونے کا امکان ہے۔ اس کی وجہ سے 19-20 جنوری کے دوران جے پور، بھرت پور اور بیکانیر ڈویژن کے اضلاع میں کہیں کہیں ہلکی بارش یا بوندا باندی کا امکان ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد