
تہران،03ستمبر(ہ س)۔ایران کی طرف سے کہا گیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ جوہری پروگرام پر مذاکرات کا دروازہ بند نہیں کیا گیا ہے مگر ایرانی میزائلوں کے خلاف امریکی پالیسی اور اقدامات جوہری مذاکرات کا راستہ ضرور بند کر نے کا باعث بنیں گے۔ یہ موقف ایران کے سینیر عہدے دار کی طرف سے منگل کے روز کہی گئی ہے۔یاد رہے ایران اور امریکہ کےدرمیان ایرانی جوہری پروگرام پر مذاکرات کا چھٹا دور طے ہوگیا تھا مگر اسرائیل کی طرف سے جنگ شروع ہونے کے بعد ایران نے ان مذاکرات سے خود کو الگ کر لیا تھا۔ یہ جنگ بارہ روز تک جاری رہی۔ جس میں ایرانی جوہری تنصیبات پر اسرائیلی ریاست نے ہی نہیں امریکہ نے بھی شدید بمباری کی تھی۔ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے مشیر برائے سلامتی امور علی لاریجانی نے کہا ہم جوہری امور پر مذاکرات کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن امریکہ کی میزائلوں پر نئی پابندیاں لگانے کی سوچ مذاکراتی راستہ بند کرنے کی کوشش ہے۔علی اکبر لاریجانی نے یہ بیان سوشل میڈیا پلیٹ فارم ' ایکس ' پر منگل کے روز جاری کیا ہے۔یاد رہے مغربی ممالک کو خوف ہے کہ ایران کی یورینیم افزودگی کی سطح جوہری بم بنانے کی سطح کے قریب تر ہو چکی ہے۔ علاوہ ازیں ایران بیلسٹک میزائل بھی بنا رہے جو دور تک جوہری ہتھیاروں کو لے جاسکیں گے۔تاہم ایرانی نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکرٹری جنرل نے کہا ' ایرانی جوہری پروگرام صرف پر امن مقاصد کے لیے ہے۔ تاکہ اپنی توانائی کی ضرورتوں کو متبادل ذرائع سے بھی پورا کرنے پر قادر ہو سکے۔ ایران اس مقصد کے لیے میزائل نہیں بنا رہا کہ دور تک جوہری ہتھیاروں سے مار کر سکے۔پچھلے ہی ہفتے فرانس ، برطانیہ اور جرمنی کی طرف سے ایران کو ایک بار پھر 'سنیپ بیک میکا نزم' کے تحت پابندیوں کی دھمکی دی گئی ہے۔ علی اکبر لاریجانی کا یہ بیان اس دھمکی کے بعد سامنے ایا ہے۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan