صدر جمعیة علماءہند مولانا محمود اسعد مدنی نے وکلاءکی جدوجہد کو سراہانئی دہلی، 29 اگست (ہ س)۔نینی تال ہائی کورٹ نے بن بھول پورہ، ہلدوانی ( اتراکھنڈ) میں 8فروری 2024کو ہوئے پرتشدد واقعات میں ماخوذ دو مسلم نوجوان محمد نظام ولد محمد اسلام مرحوم اور محمد شارق صدیقی ولد فداحسین کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔ ان کے مقدموں کی پیروی جمعیة علماءہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی کی ہدایت پر مقرر کردہ وکلاءایڈوکیٹ وکاس کمار گیلانی اور ایڈوکیٹ سعید احمد کررہے تھے۔ فیصلہ جسٹس پنکج پروہت اور جسٹس منوج کمار تیواری پر مشتمل ڈویڑن بنچ نے سنایا۔
یاد رہے کہ گزشتہ برس ستمبر میں ایڈیشنل سیشن جج ہلدوانی نے ان کی ضمانت کی عرضی مسترد کردی تھی، جس کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی گئی تھی۔ دوسری طرف استغاثہ نے بن بھول پورہ میں مسجد اور مدرسے کی انہدامی کارروائی کے دوران ان پر پولیس پر حملہ، پتھراو¿، آتش زنی، غیر قانونی اسلحہ رکھنے اور پٹرول بم پھینکنے جیسے سنگین الزامات لگائے تھے اور یو اے پی اے کی سنگین دفعات بھی عائد کی گئی تھیں۔ اس وقت مسجد اور مدرسہ کو منہدم کرنے سے متعلق انتظامیہ کے فیصلے کے خلاف لوگوں میں سخت ناراضی تھی۔ اس درمیان تشد د کے کچھ واقعات بھی پیش آئے جن کا الزام یک طرفہ طور پر مقامی مسلمانوں کے سر عائد کردیا گیا اور ہمیشہ کی طر ح پولس محکمہ نے بڑی تعداد میں مسلم نوجوانوں کو گرفتار کرلیا۔
نینی تال ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ دونوں کے خلاف براہِ راست کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں بھی شناخت کے حوالے سے استغاثہ کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کرسکا۔ ابتدا میں محمد نظام کا نام ایف آئی آر میں درج نہیں تھا، لیکن ایک چشم دید گواہ کے بیان پر 11 فروری 2024 کو گرفتار کیا گیا۔ پولیس نے اس کے قبضے سے دیسی ساختہ پستول برآمد ہونے کا دعویٰ کیا تھا، تاہم عدالت نے ریکارڈ کا جائزہ لے کر کہا کہ کوئی واضح ثبوت موجود نہیں ہے۔اسی طرح محمد شارق کا نام بھی ایف آئی آر میں شامل نہیں تھا، انہیں ایک کانسٹبل کے بیان پر گرفتار کیا گیا۔ پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے پاس سے ایس ایل آر میگزین اور کارتوس برآمد ہوئے، لیکن سماعت کے دوران جمعیةے وکلا ئ نے اسے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایس ایل آر نیم فوجی دستوں کو دی جاتی ہے، پولیس کو نہیں، جس سے الزام مشکوک ثابت ہوا۔عدالت نے قرار دیا کہ دونوں نوجوان ڈیڑھ سال سے زائد عرصے سے جیل میں قید ہیں اور براہِ راست شواہد کی عدم موجودگی میں ضمانت پر رہا کیے جانے کے مستحق ہیں۔ تاہم عدالت نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ صرف ضمانت تک محدود ہے اور مقدمے کے حتمی فیصلے پر اس کا اثر نہیں ہوگا۔
اس مقدمے کی نگرانی مرکز سے جمعیة علماءہند کے ناظم عمومی مولانا حکیم الدین قاسمی اور قانونی امور کےنگراں ایڈوکیٹ نیاز احمد فاروقی کررہے ہیں، جبکہ مقامی سطح پر جمعیة علماء ہلدوانی کے صدر قاری عبدالمعید اور دیگر ارکان نے متاثرین کی معاونت کی۔ جمعیةعلماءہند کا ایک وفد سانحہ کے فوری بعد ہی متاثرہ علاقہ کے دورہ پر گیا تھا اور متاثرین کی ابتدائی مدد بھی کی گئی تھی۔ بعد میں قانونی اقدامات کیے گئے۔صدر جمعیة علماءہند مولانا محمود اسعد مدنی نے ہائی کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے وکلاءکی محنت اور تنظیمی کارکنان کی جدوجہد کو قابلِ تحسین قرار دیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais