اب 1.80 لاکھ روپے سالانہ آمدنی والے خاندانوں کو بھی لاڈو لکشمی اسکیم کا فائدہ: نائب سینی
چنڈی گڑھ، 20 ستمبر (ہ س)۔ ہریانہ کے وزیر اعلیٰ نائب سنگھ سینی نے کہا ہے کہ نومبر سے 1.80 لاکھ روپے تک سالانہ آمدنی والے خاندانوں کی اہل خواتین کو بھی ’دین دیال لاڈو لکشمی یوجنا‘ کا فائدہ ملے گا۔ حکومت نے خواتین کو ہر ماہ 2100 روپے دینے کے وعدے کو پ
اب 1.80 لاکھ روپے سالانہ آمدنی والے خاندانوں کو بھی لاڈو لکشمی اسکیم کا فائدہ: نائب سینی


چنڈی گڑھ، 20 ستمبر (ہ س)۔ ہریانہ کے وزیر اعلیٰ نائب سنگھ سینی نے کہا ہے کہ نومبر سے 1.80 لاکھ روپے تک سالانہ آمدنی والے خاندانوں کی اہل خواتین کو بھی ’دین دیال لاڈو لکشمی یوجنا‘ کا فائدہ ملے گا۔ حکومت نے خواتین کو ہر ماہ 2100 روپے دینے کے وعدے کو پورا کرتے ہوئے اس اہم اسکیم کو نافذ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی سالگرہ کے موقع پر 17 ستمبر کو اسکیم میں توسیع کی گئی ہے اور اب 1.80 لاکھ روپے سالانہ آمدنی والے خاندانوں کو بھی اس کا مستحق بنایا گیا ہے۔ اسکیم میں توسیع کے بعد درخواست کے لیے پورٹل کھول دیا گیا ہے اور اہل خواتین کو یکم نومبر سے اسکیم کا فائدہ ملنا شروع ہو جائے گا۔ اس اسکیم کے تحت اہل خواتین کے بینک کھاتوں میں آن لائن ذرائع سے اب تک 2 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم بھیجی جا چکی ہے۔

وزیراعلیٰ نائب سنگھ سینی اتوار کو لادوا اسمبلی حلقے میں منعقدہ جن سنواد پروگراموں سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے گزشتہ 12 برسوں میں ریاست کے 2 لاکھ نوجوانوں کو بغیر کسی ’پرچی اور خرچی‘ کے اہلیت کی بنیاد پر سرکاری ملازمتیں فراہم کی ہیں۔ ان کے مطابق سابق حکومت کے دور میں سرکاری ملازمت حاصل کرنے کے لیے پیسہ اور سفارش کی ضرورت پڑتی تھی، لیکن اب غریب کا بیٹا گروپ ڈی سے لے کر ہریانہ سول سروس (ایچ سی ایس) تک کی ملازمت اہلیت کی بنیاد پر حاصل کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں ریاست میں تیزی سے ترقیاتی کام کرائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے گاؤں کالیراناں کی ترقی کے لیے 21 لاکھ روپے اور لائبریری کی کتابوں کے لیے 2 لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا۔ گاؤں سلطان پور کی ترقی کے لیے 21 لاکھ روپے اور گرودوارہ صاحب کے لیے 5 لاکھ روپے دینے کا بھی اعلان کیا۔ اسی طرح گاؤں سونٹی، بیڑ سونٹی اور وہاں کے گرودوارہ صاحب کے لیے 21-21 لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا گیا۔

نائب سینی نے کہا کہ انتخابات سے قبل ہریانہ حکومت نے عوام سے 217 وعدے کیے تھے، جن میں سے اب تک 70 وعدے پورے کیے جا چکے ہیں جبکہ باقی وعدوں پر بھی تیزی سے کام جاری ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے حلف اٹھاتے ہی اپنے وعدوں کی تکمیل کا عمل شروع کر دیا تھا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں قومی شاہراہوں اور دیگر بڑی سڑکوں سے ریاست کو جوڑنے کے لیے سڑکوں کا وسیع نیٹ ورک تیار کیا گیا ہے۔

کسانوں کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ ہریانہ ملک کی پہلی ریاست ہے جہاں حکومت نے کسانوں کی تمام 24 فصلوں کو کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) پر خریدنے کا عمل شروع کیا ہے۔ انہوں نے کانگریس رہنماؤں پر الزام لگایا کہ وہ حکومت سے 24 فصلوں کے بارے میں معلومات مانگ رہے ہیں، جبکہ انہیں ریاست میں پیدا ہونے والی فصلوں کے بارے میں بھی مکمل معلومات نہیں ہیں۔ ان کے مطابق اپوزیشن ایم ایس پی کے نام پر کسانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

اس موقع پر ڈپٹی کمشنر وشریم کمار مینا، چیئرمین گرنام سنگھ سینی، چیئرمین سبھاش کلسانہ، چیئرپرسن کنول جیت کور، چیئرمین ڈاکٹر گنیش دت، چیئرپرسن ساکشی کھرانہ سمیت متعدد عوامی نمائندے، سرپنچ اور دیگر معززین موجود تھے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande