مختلف مذاہب کے درمیان بھائی چارے کی فضا کو مضبوط بنانا سب کی مشترکہ ذمہ داری
اصلاحِ معاشرہ و خواتین کی بیداری کے موضوع پر پروگرام مےں مقررین کا اظہارِ خیال دیوبند ،20/ستمبر (ہ س)۔جامعہ اسلامیہ عربیہ گلزار حسینیہ، اجراڑہ، میرٹھ میں ہفتہ کے روز اصلاحِ معاشرہ، خواتین کی بیداری، خاندانی مسائل اور باہمی احترام و بھائی چارے کے مو
مختلف مذاہب کے درمیان بھائی چارے کی فضا کو مضبوط بنانا سب کی مشترکہ ذمہ داری


اصلاحِ معاشرہ و خواتین کی بیداری کے موضوع پر پروگرام مےں مقررین کا اظہارِ خیال دیوبند ،20/ستمبر (ہ س)۔جامعہ اسلامیہ عربیہ گلزار حسینیہ، اجراڑہ، میرٹھ میں ہفتہ کے روز اصلاحِ معاشرہ، خواتین کی بیداری، خاندانی مسائل اور باہمی احترام و بھائی چارے کے موضوع پر ایک خصوصی پروگرام منعقد ہوا۔ پروگرام میں مختلف اہم سماجی اور خاندانی امور پر مقررین نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔پروگرام کا آغاز تلاوتِ قرآنِ پاک سے ہوا۔ بعدہ، مہتمم جامعہ گلزار حسینیہ اجراڑہ و کنوینر دستور بچو ملک بچاو تحریک اترپردیش پرسنل لا بورڈ مولانا ڈاکٹر عبدالمالک مغیثی نے خطاب کرتے ہوئے معاشرے میں باہمی احترام، انصاف، امن اور ہم آہنگی کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مختلف مذاہب، زبانوں اور ثقافتوں کے درمیان باہمی احترام اور بھائی چارے کی فضا کو مضبوط بنانا سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے سماجی مسائل کے بارے میں بیداری پیدا کرنے اور انہیں پُرامن اور قانونی طریقے سے حل کرنے کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی۔پروگرام میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے شعبہ خواتین کی کنوینر جلیسہ سلطانہ یاسین مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شریک ہوئیں۔ انہوں نے خواتین کے حقوق، سماجی اصلاح، خاندانی مسائل اور خواتین میں بیداری کی ضرورت پر گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو اپنے حقوق و ذمہ داریوں سے واقف ہونا چاہیے اور خاندان و معاشرے میں ان کے احترام اور مناسب مقام کو یقینی بنانا ضروری ہے۔قدوسہ سلطانہ نے مہمانِ اعزازی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے خواتین کو طلاق اور خاندانی مسائل سے متعلق درست دینی و قانونی معلومات حاصل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ معلومات کی کمی کی وجہ سے بعض اوقات خواتین اپنے حقوق کو صحیح طور پر نہیں سمجھ پاتیں، اس لیے ان کے درمیان بیداری پیدا کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے ازدواجی مسائل کے حل کے لیے باہمی گفتگو اور خاندان کے ذمہ دار افراد و معتبر اہلِ علم کی رہنمائی سے فائدہ اٹھانے کی بھی تلقین کی۔شائستہ رفعت سکریٹری شعبہ خواتین جماعت اسلامی ہند بھی مہمان اعزازی کے طور پر شریک ہوئیں اور انھوں نے کہا کہ معاشرے کی اصلاح اور خواتین میں بیداری وقت کی اہم ضرورت ہے۔ خواتین اگر اپنے دینی، خاندانی اور سماجی حقوق و ذمہ داریوں سے واقف ہوں تو وہ اپنے خاندان اور معاشرے کی بہتری میں موثر کردار ادا کر سکتی ہیں۔ انہوں نے خواتین کو باہمی احترام، اچھی تربیت اور مثبت معاشرتی کردار کے لیے آگے بڑھنے کی ضرورت پر زور دیا۔جامعہ کے شیخ الحدیث مولانا سید عقیل احمد قاسمی و مولانا آس محمد گلزار قاسمی نے مذہبی آزادی، سماجی مساوات اور شہری حقوق کے مختلف پہلووں پر اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ مختلف مذہبی اور ثقافتی روایات کا احترام باہمی اعتماد اور بھائی چارے کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔مولانا ڈاکٹر وقار الدین لطیفی آفس سکریٹری پرسنل لا بورڈ بھی پروگرام میں موجود رہے۔ان کے علاوہ، پروگرام میں جامعہ کے اسکول کی جملہ معلمات بھی موجود رہیں، جبکہ علاقے سے کثیر تعداد میں مستورات نے شرکت کرکے پروگرام سے استفادہ کیا۔پروگرام کے اختتام پر مولانا ڈاکٹر عبدالمالک مغیثی نے تمام مہمانوں، مقررین، معلمات اور شرکائ کا شکریہ ادا کیا اور پروگرام کی کامیابی میں تعاون کرنے والے تمام افراد کا اظہارِ تشکر کیا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande