مسلم مسائل کے حل سے عوامی نمائندوں کی عدم دلچسپی
حیدرآباد، 20 ستمبر(ہ س)۔ مسلمانوں کے مسائل کے حل سے عوامی نمائندوں کو قطعی دلچسپی نہیں ہوتی اور اگر وہ دلچسپی کا اظہار کرتے بھی ہیں تو انتخابات سے عین قبل ان کے مسائل کو حل کرنے کے لئے عوام کے درمیان نہ صرف خود وعدہ کرتے ہیں بلکہ ان کی تائید کرنے
مسلم مسائل کے حل سے عوامی نمائندوں کی عدم دلچسپی


حیدرآباد، 20 ستمبر(ہ س)۔

مسلمانوں کے مسائل کے حل سے عوامی نمائندوں کو قطعی دلچسپی نہیں ہوتی اور اگر وہ دلچسپی کا اظہار کرتے بھی ہیں تو انتخابات سے عین قبل ان کے مسائل کو حل کرنے کے لئے عوام کے درمیان نہ صرف خود وعدہ کرتے ہیں بلکہ ان کی تائید کرنے والے قائدین و ذمہ داروں سے بھی اعلان کرواتے ہیںلیکن کامیاب ہونے کے بعد ان مسائل کو فراموش کرجاتے ہیں اس کی مثال سابق رکن اسمبلی ڈی ناگیندر ہیں۔خیریت آباد رکن اسمبلی کی حیثیت سے ڈی ناگیندر نااہل قرار دے دیئے گئے لیکن انتخابات سے قبل کئے گئے وعدہ کے متعلق انہوں نے گذشتہ 2برسوں کے دوران ایک جملہ بھی نہیں کہا۔بھولے صاحب مقطعہ سے متصل دو ایکڑ قبرستان کی اراضی کا مسئلہ جو کئی برسوں سے تعطل کا شکار ہے اس مسئلہ کو حل کرنے کا ڈی ناگیندر نے اپنے اسمبلی انتخابات سے قبل وعدہ کیا تھا اور کہا تھا کہ حلقہ اسمبلی خیریت آباد بالخصوص سوماجی گوڑہ ‘ پنجہ گٹہ ‘ کے علاوہ اطراف و اکناف کے علاقوں کے مسلمانوں کی تدفین کے مسئلہ کو حل کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن انتخاب کے بعد وہ اس مسئلہ پر خاموش ہوگئے اور اب وہ نااہل قرار دیئے جاچکے ہیں لیکن قبرستان کا مسئلہ جوں کا توں برقرا رہے ۔ ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق


 rajesh pande