
فتح گڑھ صاحب، 19 ستمبر (ہ س)۔ دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے کہا ہے کہ عام آدمی پارٹی (آپ) کے پنجاب میں اقتدار میں آنے کے وقت اروند کیجریوال اور بھگونت مان نے تین ماہ میں پنجاب سے منشیات کا خاتمہ کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مدت کبھی تین ماہ تو کبھی چار ماہ بڑھائی گئی اور اب تک چھ مرتبہ اس کی ڈیڈ لائن آگے بڑھائی جا چکی ہے۔ تاریخ پر تاریخ دینے والی ایسی حکومت سے منشیات کے خاتمے کی امید نہیں کی جا سکتی۔
وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا ہفتہ کے روز بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پنجاب کی جانب سے نکالی جا رہی ’نشہ مکت پنجاب یاترا‘ کے دوسرے مرحلے کو روانہ کرنے سے قبل فتح گڑھ صاحب میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کر رہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ 13 روزہ ’نشہ مکت پنجاب یاترا‘ پنجاب کی ’آپ‘ حکومت سے نجات کی یاترا بنے گی۔اس سے قبل انہوں نے گرو گوبند سنگھ کے چھوٹے صاحبزادوں کی شہادت کی گواہ تاریخی سرزمین پر واقع گوردوارہ صاحب میں حاضری دی اور پنجاب کو منشیات سے پاک کرنے کے لیے ارداس کی۔ اس کے بعد انہوں نے مقامی اناج منڈی میں پنجاب بی جے پی کے ریاستی صدر کیول سنگھ ڈھلوں، بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری اور پنجاب امور کے انچارج ڈاکٹر ستیش پونیا اور بی جے پی کے قومی نائب صدر من پریت سنگھ بادل کی موجودگی میں یاترا کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔
ریکھا گپتا نے الزام عائد کیا کہ اروند کیجریوال اور ان کی ’بٹالین‘ نے پہلے دہلی کے پیسوں سے پنجاب پر قبضہ کیا اور اب پنجاب کے عوام کی محنت کی کمائی دوسرے ریاستوں میں اپنے سیاسی مفادات پورے کرنے کے لیے خرچ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کیجریوال نے دہلی میں اپنے لیے ’شیش محل‘ بنوایا تھا، لیکن جب انہیں دہلی سے ہٹا دیا گیا تو وہ پنجاب میں ’شیش محل-2‘ میں رہنے لگے۔ ریکھا گپتا نے سوال کیا کہ کیجریوال کس حیثیت سے پنجاب میں رہ رہے ہیں اور کس حق سے نجی جیٹ میں سفر کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پہلے پنجاب کے لوگوں کو مبینہ ’دہلی ماڈل‘ کے نام پر گمراہ کیا گیا اور پنجاب کو قرض میں ڈبو دیا گیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ پنجاب پر چڑھے پانچ لاکھ کروڑ روپے کے قرض کو کون ادا کرے گا، کیونکہ ان کے مطابق پنجاب کے عوام کیجریوال کو اقتدار سے باہر کر دیں گے۔
وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے کہا کہ 13 روزہ ’نشہ مکت پنجاب یاترا‘ محض ایک سیاسی پروگرام نہیں بلکہ اجتماعی طور پر کارروائی کرنے کی اپیل ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پورے پنجاب میں گینگ وار، ٹارگٹ کلنگ اور عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’نشہ مکت پنجاب یاترا‘ کے 13ویں روز سے اس حکومت کی الٹی گنتی شروع ہونی چاہیے۔
دہلی کی وزیر اعلیٰ نے پروگرام سے قبل منشیات سے متاثرہ خاندانوں سے بھی ملاقات کی۔ انہوں نے کہا کہ ان خاندانوں کا درد صرف ایک خاندان کا درد نہیں بلکہ پورے معاشرے کی تکلیف ہے۔ ماو¿ں کی آنکھوں میں آنسو ہیں، والدین اپنے بچوں کو منشیات کی گرفت سے باہر نکالنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور متعدد خاندانوں کی سماجی و معاشی زندگی متاثر ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ منشیات کے خلاف جنگ صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر خاندان، ہر گاو¿ں اور پورے معاشرے کی لڑائی ہے۔ پنجاب کے نوجوانوں کو منشیات سے بچانا اور انہیں تعلیم، روزگار، کھیل اور ترقی کے مواقع سے جوڑنا اجتماعی ذمہ داری ہے۔
کیول سنگھ ڈھلوں نے کہا کہ یہ یاترا سیاسی فائدے کے لیے نہیں بلکہ ایک عوامی تحریک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’آپ‘ کے ساڑھے چار سالہ دور حکومت میں منشیات کا خاتمہ نہیں ہوا۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ یہ کہاوت عام ہو گئی ہے کہ پیزا کی ڈلیوری دیر سے ہو سکتی ہے، لیکن ’چِٹے‘ کی ڈلیوری نہیں۔انہوں نے الزام لگایا کہ روی نیت بٹو پر انڈے پھینک کر، سیاہ جھنڈے دکھا کر اور بی جے پی کے پوسٹر پھاڑ کر یاترا میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا، ”آپ ایک پوسٹر پھاڑیں گے، ہم 10 لگائیں گے، لیکن یہ لہر پیچھے نہیں ہٹے گی۔“اس پروگرام سے سابق رکن پارلیمنٹ اویناش رائے کھنہ، گیجا رام والمیکی اور دیدار سنگھ بھٹی سمیت دیگر رہنماو¿ں نے بھی خطاب کیا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan