
ممبئی ، 19 ستمبر (ہ س)۔ ریاست کے کئی علاقوں میں خشک سالی کی سنگین صورتحال پیدا ہو چکی ہے اور گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے بعض علاقوں میں بارش کا ایک قطرہ بھی نہیں گرا، جس کے باعث کھیتوں میں کھڑی فصلیں سوکھ کر تباہ ہو گئی ہیں۔ کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے الزام لگایا ہے کہ مہایوتی حکومت اس سنگین صورتحال پر توجہ نہیں دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ کے اجلاس میں خشک سالی کے مسئلے پر صرف بات چیت ہوئی، لیکن کوئی ٹھوس فیصلہ نہیں کیا گیا، جبکہ نگراں وزرا بھی متاثرہ کسانوں کے پاس نہیں پہنچے۔ کسان شدید بحران میں ہیں اور حکومت وقت گزاری کر رہی ہے۔ سپکال نے مطالبہ کیا کہ ریاست میں فوری طور پر خشک سالی کا اعلان کیا جائے، کسانوں کے بینک کھاتوں میں فی ہیکٹر 50 ہزار روپے کی امدادی رقم جمع کی جائے اور تمام کسانوں کے قرضے مکمل طور پر معاف کیے جائیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے فوری اقدامات نہیں کیے تو کانگریس وزرا کو ریاست میں گھومنے نہیں دے گی۔خشک سالی کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والی مہایوتی حکومت حساسیت کا مظاہرہ نہیں کر رہی ہے۔ کسان بحران میں بری طرح پھنسے ہوئے ہیں، لیکن حکومت جان بوجھ کر ان کے مسائل کو نظر انداز کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کمبھ میلے میں نگرانی کے کیمرے نصب کرنے کے لیے 350 کروڑ روپے خرچ کر سکتی ہے، لیکن کسانوں کو امداد دینے سے گریز کر رہی ہے۔ ان کے مطابق ریاست میں مصنوعی بارش کا تجربہ کرنے کی ضرورت ہے، لیکن حکومت نے اس سلسلے میں بھی کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ سپکال نے دعویٰ کیا کہ عوام میں مہایوتی حکومت کے خلاف شدید ناراضی پائی جاتی ہے، لیکن اقتدار میں موجود لوگ اس کے باوجود بے حس بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کو کسانوں اور عام لوگوں کے مسائل سے کوئی سروکار نہیں ہے اور اس کی دلچسپی صرف بدعنوانی اور کمیشن خوری میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی بھی وقت گزرا نہیں ہے، تہواروں کا موسم شروع ہو چکا ہے، اس لیے حکومت کو فوری طور پر خشک سالی کا اعلان کرکے دسہرہ سے پہلے کسانوں کو خاطر خواہ مالی مدد فراہم کرنی چاہیے۔ہرش وردھن سپکال نے وزیر اعظم نریندر مودی کی سالگرہ کے موقع پر چراغ جلانے کی اپیل پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ نریندر مودی نے گزشتہ 12 برسوں میں ایسا کیا کیا ہے کہ ان کی سالگرہ کے موقع پر چراغ جلانے کی اپیل کی جا رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مودی کے دور میں نوجوانوں کو روزگار نہیں مل رہا، خواتین محفوظ نہیں ہیں، کسان بحران کا شکار ہیں، معیشت انتہائی خراب صورتحال میں پہنچ گئی ہے اور مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے۔ سپکال نے کہا کہ جب عوام خود بحران کا سامنا کر رہی ہو تو ایسے حالات میں سالگرہ منانا نامناسب ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم کے ان سابقہ مشوروں کا حوالہ بھی دیا جن میں لوگوں سے سونا نہ خریدنے، بیرون ملک سفر نہ کرنے، تیل کم استعمال کرنے اور کفایت شعاری اختیار کرنے کی اپیل کی گئی تھی۔ سپکال نے کہا کہ اس کے باوجود اپنی سالگرہ پر تیل کے چراغ جلانے کی اپیل کرنا قابل مذمت ہے۔ انہوں نے اسے خود پرستی قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم پر سخت تنقید کی اور کہا کہ ملک کے لیے یہ بدقسمتی ہے کہ اسے ایسا وزیر اعظم ملا ہے جو ان کے بقول باتیں بدلتا رہتا ہے اور جھوٹ بولتا ہے۔انتخابی کمیشن کے حوالے سے بھی کانگریس کے ریاستی صدر نے سخت اعتراضات ظاہر کیے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ انتخابی کمیشن بھارتیہ جنتا پارٹی کے ہاتھوں میں کام کرنے والا ادارہ بن گیا ہے۔ سپکال نے کہا کہ خصوصی گہرائی سے ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کے ذریعے لوگوں سے ان کے ووٹ دینے کا حق ہی چھیننے کی کوشش کی جا رہی ہے اور یہ جمہوریت کے لیے ایک بڑا بحران ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ انتخابی کمیشن کا موجودہ طریقہ کار ملک کو افراتفری کی طرف لے جا رہا ہے۔ سپکال نے کہا کہ کانگریس اس عمل کی مخالفت کرتی ہے اور ملک میں جمہوریت برقرار رکھنے کے لیے کانگریس سڑکوں پر اتر کر اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے