ڈی یو کا مینڈیٹ پورے ملک کے نوجوانوں کے خیالات کی عکاسی کرتا ہے: امت شاہ
نئی دہلی، 19 ستمبر (ہ س)۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے دہلی یونیورسٹی طلبہ یونین (ڈوسو) انتخابات کے نتائج کو ملک بھر کے نوجوانوں کے خیالات کی عکاسی قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی یونیورسٹی محض ایک یونیورسٹی نہیں ہے، بلکہ یہاں ملک کے ہر حصے سے طلب
ڈی یو کا مینڈیٹ پورے ملک کے نوجوانوں کے خیالات کی عکاسی کرتا ہے: امت شاہ


نئی دہلی، 19 ستمبر (ہ س)۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے دہلی یونیورسٹی طلبہ یونین (ڈوسو) انتخابات کے نتائج کو ملک بھر کے نوجوانوں کے خیالات کی عکاسی قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی یونیورسٹی محض ایک یونیورسٹی نہیں ہے، بلکہ یہاں ملک کے ہر حصے سے طلبہ تعلیم حاصل کرنے آتے ہیں، اس لیے یہاں کا مینڈیٹ ملک کے نوجوانوں کی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔

امت شاہ نے ہفتہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پوسٹ کرکے ڈوسو انتخابات میں اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) کی کارکردگی پر تنظیم کے کارکنوں کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ان طاقتوں کے لیے واضح پیغام ہے جو نوجوانوں کی طاقت کو ”ملک مخالف ایجنڈے کی تجربہ گاہ“ بنانا چاہتی ہیں۔ ان کے مطابق ملک کا نوجوان ’راشٹر پرتھم‘ یعنی ”ملک سب سے پہلے“ کی سوچ کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔

ایک اور پوسٹ میں وزیر داخلہ نے کہا کہ ڈوسو انتخابات میں اے بی وی پی کی کامیابی ’راشٹر پرتھم‘ کی اس کی نظریاتی سوچ اور طلبہ کے مفادات کے لیے اس کی وابستگی پر نوجوانوں کے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پریشد کے کارکن اس کامیابی سے حاصل ہونے والی نئی توانائی اور سوامی وویکانند کے نظریات پر عمل کرتے ہوئے طلبہ کے مفادات اور ملک کی تعمیر کے کام کو مزید آگے بڑھائیں گے۔ڈوسو انتخابات میں اے بی وی پی نے چار مرکزی عہدوں میں سے تین پر کامیابی حاصل کی۔ یش ڈباس صدر، ریا چھاوڑی سکریٹری اور لکشے راج سنگھ جوائنٹ سکریٹری منتخب ہوئے، جبکہ نائب صدر کے عہدے پر آزاد امیدوار دیپانشو شوقین نے کامیابی حاصل کی۔ وہ اس سے قبل این ایس یو آئی سے وابستہ رہے ہیں۔صدر کے عہدے پر یش ڈباس کو 24,576 ووٹ ملے، جبکہ این ایس یو آئی کے وجے شنکر مینا کو 22,523 ووٹ حاصل ہوئے۔ یش ڈباس نے 2,053 ووٹوں کے فرق سے کامیابی حاصل کی۔ اے بی وی پی نے مرکزی پینل کے تین عہدوں پر کامیابی حاصل کی، جبکہ این ایس یو آئی چاروں مرکزی عہدوں میں سے کسی پر کامیاب نہیں ہو سکی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande