بجلی بچت کے ذریعہ ریاست میں بجلی کی مانگ پوری کرنے کے اقدامات
حیدرآباد،17 ستمبر(ہ س)۔ نائب وزیراعلی بھٹی وکرمارکا نے کہا ہے کہ بجلی کی مانگ کو پورا کرنا صرف اضافی بجلی کی پیداوار سے ممکن نہیں بلکہ بجلی کے موثراستعمال کے ذریعہ بھی بچت کرتے ہوئے مانگ کو پورا کیا جا سکتا ہے۔ بھٹی وکرمارکا حیدرآباد میں 25 ویں سی
بجلی بچت کے ذریعہ ریاست میں بجلی طلب کی تکمیل کے اقدامات


حیدرآباد،17 ستمبر(ہ س)۔ نائب وزیراعلی بھٹی وکرمارکا نے کہا ہے کہ بجلی کی مانگ کو پورا کرنا صرف اضافی بجلی کی پیداوار سے ممکن نہیں بلکہ بجلی کے موثراستعمال کے ذریعہ بھی بچت کرتے ہوئے مانگ کو پورا کیا جا سکتا ہے۔ بھٹی وکرمارکا حیدرآباد میں 25 ویں سی آئی آئی انرجی ایفیشینسی سمٹ 2026 سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ غیر ضروری طورپر بجلی کے استعمال کو روکتے ہوئے تیاری کے مصارف کو بچایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے بجلی کے ہر شعبہ میں بہتر استعمال کے ذریعہ بجلی کی مانگ کو پورا کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کے موثر استعمال کے ذریعہ نہ صرف ماحولیاتی تحفظ ممکن ہے بلکہ معیشت کا استحکام یقینی بنایا جاسکتا ہے۔نائب وزیراعلی نے کہا کہ حکومت کی انرجی پالیسی کے تحت اس بات پرتوجہ دی جاتی ہے کہ ریاست کی بجلی پیداوار کی صلاحیت کیا ہے اوربجلی تیاری کیلئے کوئلہ کس قدر دستیاب ہے۔ غیر روایتی بجلی تیاری حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ آلودگی پر قابو پانے کے اقدامات کے ساتھ بجلی پلانٹس کے قیام کی مساعی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عصری موٹرس اور اڈوانسڈ کولنگ سسٹم کے ذریعہ بجلی کی بہتر انداز میں بچت کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تلنگانہ صنعتی ترقی کے شعبہ میں تیز رفتار پیشرفت کر رہا ہے جس کے نتیجہ میں بجلی کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔ انڈسٹریز، مینوفیکچرنگ، ڈیٹا سنٹرس، لائیف سائنسیس اور الیکٹرانکس کے شعبہ جات میں بجلی کی طلب میں اضافہ درج کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بجلی مانگ میں اضافہ کاحل صرف اضافی بجلی کی تیاری نہیں ہے بلکہ موثراستعمال کے ذریعہ بجلی کی بچت کرنا ہے۔ بھٹی وکرمارکا نے آنے والے برسوں میں بجلی کی طلب میں مزید اضافہ کا اشارہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ ریاست عالمی سطح پر انفراسٹرکچر کے مرکز میں تبدیل ہو رہی ہے۔ حکومت نے 2047 تک تین ٹریلین ڈالر معیشت کا منصوبہ بنایا ہے۔ انہوں نے ڈسمبر میں منعقد ہونے والے گلوبل انویسٹمنٹ سمٹ میں صنعتی اداروں سے شرکت کی اپیل کی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق


 rajesh pande