اے اے پی کی نو تشکیل شدہ پی اے سی میں پنجاب، گوا اور گجرات کے انتخابات جیتنے کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال: منیش سسودیا
نئی دہلی، 17 ستمبر(ہ س )۔ عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کی نو تشکیل شدہ سیاسی امور کی کمیٹی (پی اے سی) کا پہلا اجلاس جمعرات کو قومی کنوینر اروند کیجریوال کی قیادت میں منعقد ہوا۔ ان کی رہائش گاہ پر منعقدہ اجلاس میں پی اے سی کے پنجاب سے تعلق رکھنے والے
اے اے پی کی نو تشکیل شدہ پی اے سی میں پنجاب، گوا اور گجرات کے انتخابات جیتنے کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال: منیش سسودیا


نئی دہلی، 17 ستمبر(ہ س )۔

عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کی نو تشکیل شدہ سیاسی امور کی کمیٹی (پی اے سی) کا پہلا اجلاس جمعرات کو قومی کنوینر اروند کیجریوال کی قیادت میں منعقد ہوا۔ ان کی رہائش گاہ پر منعقدہ اجلاس میں پی اے سی کے پنجاب سے تعلق رکھنے والے نئے اراکین، جن میں وزیر اعلیٰ بھگونت سنگھ مان اور پنجاب کے وزیر خزانہ ہربل سنگھ چیمہ بھی شامل ہیں، نے شرکت کی۔ اے اے پی کے سینئر لیڈر اور پنجاب انچارج منیش سسودیا نے بتایا کہ اجلاس میں پنجاب، گوا اور گجرات میں ہونے والے آئندہ انتخابات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور پارٹی تینوں ریاستوں میں بی جے پی کا مقابلہ کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ منیش سسودیا نے ان ریاستوں کے سیاسی ماحول کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے عوام بھگونت سنگھ مان کی حکومت کے کام سے بے حد خوش ہیں اور انہیں دوبارہ وزیر اعلیٰ کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں، جبکہ گوا اور گجرات کے عوام بھی بی جے پی کی حکمرانی سے پریشان ہیں اور اب تبدیلی چاہتے ہیں۔ اے اے پی کے سینئر لیڈر اور پنجاب انچارج منیش سسودیا نے پی اے سی اجلاس میں ہونے والی بات چیت کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ نئی پی اے سی کے پہلے اجلاس کا آغاز راجستھان کے باراں میں مکمل کامیابی پر گفتگو سے ہوا۔

منیش سسودیا نے کہا، جس طرح باراں کے عوام نے بی جے پی کی پالیسیوں کو مسترد کیا ہے، اس سے یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ اگر آج بی جے پی کے سامنے بہتر متبادل پیش کیا جائے تو عوام اس پر غور کرنے اور اسے تلاش کرنے کے لیے تیار ہیں۔ بہت جلد قومی کنوینر اروند کیجریوال، وزیر اعلیٰ بھگونت مان اور میں راجستھان کے باراں جائیں گے اور وہاں روڈ شو کریں گے۔ سینئر اے اے پی لیڈر نے بتایا کہ دوسری اہم گفتگو پنجاب، گوا اور گجرات کے انتخابات اور ان کی تیاریوں پر ہوئی۔ انہوں نے کہا، وہاں تنظیم عوام کی بھلائی کے لیے بے مثال کام کر رہی ہے اور پنجاب کے عوام حکومت کو دوبارہ لانا چاہتے ہیں۔ گوا اور گجرات میں عوام تبدیلی چاہتے ہیں۔ وہ بی جے پی سے پریشان ہیں اور تبدیلی کی تلاش میں ہیں۔ ہم نے اس بات پر بھی تبادلہ خیال کیا کہ عوام کے اس جذبے کو انتخابی کامیابی میں کس طرح تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ منیش سسودیا نے بتایا کہ پی اے سی میں تیسری اہم گفتگو یو پی آئی کے حوالے سے ہوئی۔ انہوں نے کہا، ٹرمپ کے دبا¶ میں حکومت کی جانب سے یو پی آئی کے حوالے سے لیے گئے فیصلے سے ملک بھر کے عوام خود کو دھوکا کھایا ہوا محسوس کر رہے ہیں۔

ہم نے اس بات پر تبادلہ خیال کیا کہ اب لوگوں کو اپنا ہی پیسہ خرچ کرنے کے لیے فیس ادا کرنی پڑے گی۔ یہ انتہائی حیرت انگیز بات ہے کہ آج ریزرو بینک ہمیں کرنسی نوٹ جاری کرتا ہے اور جب ہم اسے خرچ کرتے ہیں تو اس نوٹ کی تیاری اور اجرا کی پوری لاگت ریزرو بینک اور حکومت برداشت کرتی ہے۔ اگر میری جیب میں 100 روپے کا نوٹ ہے تو ریزرو بینک مجھ سے یہ نہیں کہتا کہ 101 روپے دو، تب میں تمہیں 100 روپے دوں گا۔ میرے لیے اس نوٹ کی قدر 100 روپے ہی رہتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا، لیکن یو پی آئی کے معاملے میں، جہاں اس طرح کی پرنٹنگ یا اس نوعیت کی کوئی لاگت شامل نہیں ہے، ٹرمپ کے دباو میں عام لوگوں پر بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔ اس پورے گھوٹالے سے حاصل ہونے والے فائدے کا 80 فیصد امریکی کمپنیوں کو ملے گا۔ وزیر اعظم مودی نے ٹرمپ کے دبا میں یہ فیصلہ لیا ہے اور پی اے سی میں اس معاملے پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ پارٹی اور تنظیم اس مسئلے کو اٹھائے گی۔

منیش سسودیا نے بتایا کہ پی اے سی میں ایک اور اہم موضوع گزشتہ دہلی اسمبلی انتخابات کے دوران بی جے پی کی جانب سے مبینہ طور پر فرضی ووٹ بنانے کے معاملے کا انکشاف تھا۔ انہوں نے کہا، ایک میڈیا رپورٹ میں اب انکشاف ہوا ہے کہ انتخابات سے عین قبل اروند کیجریوال کے نئی دہلی اسمبلی حلقے میں کس طرح اچانک فرضی ووٹ بنائے گئے۔ ایک ہی مکان میں 50 یا 100 ووٹ تک شامل کیے گئے اور الیکشن کمیشن نے بی جے پی کی خدمت اور اس کے سامنے جھکنے میں بڑی سرگرمی دکھاتے ہوئے یہ ووٹ بنا دیے۔ انہوں نے کہا، ایک میڈیا رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ بی جے پی نے نئی دہلی اسمبلی حلقے میں فرضی ووٹ بنوائے تھے۔ اے اے پی کے پنجاب انچارج نے مزید کہا، اب جبکہ ایس آئی آر (SIR) کرایا جا چکا ہے، ان تمام ووٹوں کو حذف کر دیا گیا ہے۔ انتخابات سے عین قبل جو بھی ووٹ بنائے گئے تھے، وہ فرضی تھے اور ایس آئی آر میں ان میں سے 40 فیصد بھی فرضی پائے گئے ہیں۔ اب دیکھنا ہوگا کہ الیکشن کمیشن اس معاملے کا کس طرح نوٹس لیتا ہے۔ پنجاب اسمبلی انتخابات کی تیاریوں سے متعلق سوال کے جواب میں منیش سسودیا نے کہا، ہم پنجاب انتخابات کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔

عوام بھگونت مان حکومت کے کام سے بہت خوش ہیں اور اے اے پی حکومت کو دوبارہ لانا چاہتے ہیں اور بھگونت مان کو ایک بار پھر وزیر اعلیٰ دیکھنا چاہتے ہیں۔ پنجاب کے عوام یہ بھی جانتے ہیں کہ اگر کسی وجہ سے بھگونت مان وزیر اعلیٰ نہیں رہتے تو پرانی پارٹیاں ایک بار پھر منشیات کو فروغ دیں گی، عوام کا پیسہ لوٹیں گی، روزگار کے معاملے میں بدعنوانی کریں گی اور کاروباری افراد کا استحصال کریں گی۔ پنجاب کے عوام اس پرانے دور کی واپسی نہیں چاہتے۔ منیش سسودیا نے بتایا کہ عام آدمی پارٹی کی قومی کونسل کا اجلاس چند روز قبل ہی منعقد ہوا تھا، جس کے بعد قومی ایگزیکٹو کے اجلاس میں نئی پی اے سی تشکیل دی گئی۔ انہوں نے کہا، اروند کیجریوال کو اس کا کنوینر مقرر کیا گیا ہے اور اس میں کچھ نئے اراکین کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande