
حیدرآباد، 16 ستمبر (ہ س)۔
ڈگری کالجز کے انتظامیہ کے بعد اب تلنگانہ کے طلبہ نے بھی فیس ادائیگی اور اسکالرشپس کے معاملہ پر دہلی میں احتجاج کرنے پرغورکرنا شروع کردیا ہے ۔ان کاکہناہے کہ اگر حکومت تلنگانہ ان کے فیس بازادائیگی بقایاجات اوراسکالرشپس کی رقومات جاری نہیں کرتی ہے تو وہ دہلی پہنچ کر ’جنتر منتر‘ پر احتجاج سے بھی گریز نہیں کریں گے۔ طلبہ کا کہناہے کہ حکومت تلنگانہ 8 ہزار کروڑ سے زائد بقایاجات کالجز کو اداکرنی ہے جس کے نتیجہ میں لاکھوں طلبہ متاثر ہورہے ہیں اور ان طلبہ کوراحت پہنچانے کے نام پرکالجز کے انتظامیہ کو احکام جاری کر رہی ہے کہ وہ طلبہ کے تعلیمی اسنادات نہ روکیں لیکن ان احکام کے خلاف کالجس کے انتظامیہ عدالت سے احکام حاصل کرنے لگے ہیں کالجس انتظامیہ اور حکومت کے درمیان رسہ کشی سے طلبہ کو اپنے کورس کی تکمیل کے باوجود اسنادات سے محروم رہنا پڑرہا ہے اور لاکھوں طلبہ اپنے اسناد نہ ہونے کے سبب ملازمت کے حصول سے محروم ہونے لگے ہیں ۔
تلنگانہ میں فیس ادائیگی اسکیم و اسکالرشپس کے ذریعہ تعلیم پانے والے طلبہ کو اپنے اسناد کے حصول کیلئے مکمل فیس ادا کرنی پڑرہی ہے اور بیشتر کالجز کی جانب سے فیس کی عدم ادائیگی پر اسناد نہ دیئے جانے کے سبب مشکلات کاسامنا کرنا پڑرہا ہے۔
بتایاجاتاہے کہ ڈگری کالجز کے انتظامیہ نے ’جنتر منتر‘ پراحتجاج منعقدکرنے کی منصوبہ بندی کی ہے تاکہ حکومت پر دباؤ ڈال کر انہیں وصول طلب بقایا جات حاصل کئے جاسکیں دوسری جانب طلبہ نے بھی ’جنترمنتر‘ پر احتجاج کرکے تلنگانہ میں فیس ادائیگی و اسکالرشپس کی عدم اجرا کے معاملہ کو قومی سطح پر لیجانے کی منصوبہ بندی شروع کردی ہے۔
ذرائع کے مطابق تلنگانہ کالجس کے طلبہ نے کسی طلبہ تنظیم یا سیاسی جماعت کی مدد کے بغیر دہلی میں احتجاج کے متعلق غور کرنا شروع کردیا ہے اور کہا جارہاہے کہ وہ اپنے اسنادات کے مسئلہ کو قومی سطح پر اٹھاکر حکومت کی توجہ اس مسئلہ پر مبذول کروانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق