
نارکیل ڈانگا، نیتا جی نگر اور رویندر سروور میں تلاشی
کولکاتا، 16 ستمبر (ہ س)۔
چٹ فنڈ سے متعلق مبینہ مالی گھوٹالے کی تحقیقات کے سلسلے میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے بدھ کی صبح کولکاتا کے کئی علاقوں میں بیک وقت تلاشی مہم چلائی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، شہر میں کم از کم چھ مقامات پر ای ڈی کی ٹیمیں پہنچی تھیں۔ کارروائی کے دوران سکیورٹی کے لیے مرکزی مسلح دستوں کے جوان بھی تعینات رہے۔
سرکاری اطلاعات کے مطابق، ای ڈی کی ایک ٹیم صبح تقریباً سات بجے شمالی کولکاتا کے نارکیل ڈانگا علاقے میں ایک کاروباری شخص کی رہائش گاہ پر پہنچی۔ کاروباری شخص کا نام عبدالجبّار ملا بتایا گیا ہے۔ تحقیقات مبینہ طور پر چٹ فنڈ کے ذریعے جمع کی گئی رقم اور اسے مختلف کاروباروں میں استعمال کیے جانے سے متعلق ہیں۔ تاہم، ان الزامات کی حتمی تصدیق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی ہو سکے گی۔
ای ڈی کے ذرائع کے حوالے سے موصولہ اطلاعات کے مطابق، اس تحقیقات کا تعلق اے پی ایم نامی چٹ فنڈ یا سرمایہ کاری کے نیٹ ورک سے بتایا جا رہا ہے۔ ایجنسی یہ پتہ لگانے میں مصروف ہے کہ سرمایہ کاروں سے جمع کی گئی رقم کہاں منتقل کی گئی اور کیا اسے دوسرے کاروباروں، تعمیراتی کاموں یا رئیل اسٹیٹ سے متعلق سرگرمیوں کے ذریعے سرمایہ کاری یا منتقل کیا گیا۔
نارکیل ڈانگا کے علاوہ نیتا جی نگر اور رویندر سروور علاقوں میں بھی ای ڈی کی ٹیمیں پہنچی تھیں۔ نیتا جی نگر میں عبدالجبّار ملا سے مبینہ طور پر وابستہ ایک شخص کی رہائش گاہ پر بھی تلاشی لی گئی۔ تفتیش کاروں نے متعلقہ افراد کے مالی لین دین، دستاویزات اور دیگر ریکارڈ کی جانچ کی۔
ای ڈی کی یہ کارروائی صرف کولکاتا تک محدود نہیں رہی، بلکہ مدھیہ پردیش کے اندور میں بھی ای ڈی کی ٹیم نے کئی مقامات پر چھاپے مارے۔ ذرائع کے مطابق، مجموعی طور پر 17 مقامات پر تلاشی کی اطلاع بھی سامنے آئی ہے۔
ای ڈی کی کارروائی کا مقصد مبینہ چٹ فنڈ کے ذریعے جمع کی گئی رقم کے لین دین، اس کی سرمایہ کاری اور ممکنہ منی لانڈرنگ کے راستوں کا پتہ لگانا بتایا جا رہا ہے۔ فی الحال تلاشی کے دوران کیا کیا دستاویزات یا دیگر سامان برآمد ہوا ہے، اس بارے میں ای ڈی کی جانب سے تفصیلی سرکاری معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ