فڑنویس نے مجھے گولی مارنے کی سازش رچی ہے : منوج جرانگے
فڑنویس نے مجھے گولی مارنے کی سازش رچی ہے : منوج جرانگے بیڑ، 16 ستمبر (ہ س)۔ مراٹھا ریزرویشن تحریک کے رہنما منوج جرانگے نے مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس پر سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ فڑنویس نے انہیں گولی مارنے کی سازش رچی ہے
Fadnavis Plotting To Shoot Me Says Manoj Jarange


فڑنویس نے مجھے گولی مارنے کی سازش رچی ہے : منوج جرانگے

بیڑ، 16 ستمبر (ہ س)۔ مراٹھا ریزرویشن تحریک کے رہنما منوج جرانگے نے مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس پر سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ فڑنویس نے انہیں گولی مارنے کی سازش رچی ہے۔ انہوں نے اپنے اہل خانہ سے بھی کہہ دیا ہے کہ وہ خودداری کے ساتھ زندگی گزاریں۔ جرانگے نے اپنے بیٹے سے کہا کہ وہ ہمت کے ساتھ آگے بڑھے اور اگر وہ سماج کے لیے اپنی جان دے دیں تو تحریک کو آگے بڑھائے۔ انہوں نے مراٹھا برادری سے اپیل کی کہ ذات کی عزت اور وقار کو کم نہ ہونے دیا جائے۔

مراٹھا ریزرویشن تحریک کے سلسلے میں ممبئی کی جانب روانہ ہونے والے منوج جرنگے نے منگل کی رات بیڑ میں قیام کیا۔ رات تقریباً 2 بجے بیڑ کے پاٹوڈا چوک میں ان کا جلسہ منعقد کیا گیا، جس میں مراٹھا برادری کے لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہوئی۔ اس موقع پر جرانگے نے اپنی تحریک، حکومت کے رویے اور ممبئی جانے کے منصوبے کے بارے میں تفصیل سے بات کی۔

جرانگے نے کہا کہ دیویندر فڑنویس ان کے خلاف ایک کے بعد ایک چال چل رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ گزشتہ 3 برس سے فڑنویس کو شکست دے رہے ہیں اور ان کے پاس تمام واقعات اور اقدامات کا ریکارڈ پین ڈرائیو میں محفوظ ہے۔ ان کے مطابق حکومت چاہے کچھ بھی کرے، تمام ریکارڈ ان کے پاس موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب چیک ان کے ہاتھ میں ہے اور وہ اسے کسی بھی وقت بینک میں جمع کراسکتے ہیں۔ جرانگے نے دعویٰ کیا کہ مراٹھا برادری اب کامیابی کی دہلیز پر پہنچ چکی ہے۔

جرانگے نے پاٹوڈا میں موجود مراٹھا برادری کے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ وہیں رک جائیں اور انہیں اکیلے ممبئی جانے دیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ پولیس کو اپنے سفر کا راستہ بتادیں گے۔ جرانگے نے کہا کہ انہیں توقع تھی کہ صرف 5 گاڑیاں ان کے ساتھ ہوں گی، لیکن اتنی بڑی تعداد میں لوگ ان کے ساتھ آئیں گے، یہ انہوں نے نہیں سوچا تھا۔ انہوں نے بار بار لوگوں سے پاٹوڈا میں رکنے اور خود اکیلے آگے جانے کی اپیل کی۔

جرانگے کی اپیل کے باوجود جلسے میں موجود مراٹھا برادری کے لوگوں نے بلند آواز میں کہا کہ وہ بھی ان کے ساتھ کھوپولی تک جائیں گے۔ اس پر جرنگے نے جذباتی انداز میں کہا کہ پھر آپ لوگ چلے جائیں، میں واپس انترولی سراٹی چلا جاتا ہوں۔ انہوں نے لوگوں سے اپنے ساتھ نہ آنے کی اپیل کی اور کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ ان کے ساتھ سماج کا کوئی شخص آگے آئے۔

منوج جرانگے نے کہا کہ وہ جو کچھ کررہے ہیں، اپنے لیے نہیں بلکہ اپنے سماج کے لیے کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے بچوں کے لیے نہیں بلکہ سماج کے بچوں کے مستقبل کے لیے لڑ رہے ہیں اور نہیں چاہتے کہ سماج کے بچوں کا خون بہے۔ جرانگے نے بتایا کہ ممبئی کے لیے روانہ ہوتے وقت انہوں نے اپنی اہلیہ سے بھی کہا ہے کہ اگر انہیں کچھ ہوجائے تو سماج سے کچھ نہ کہنا، کسی سے کچھ نہ لینا اور ضرورت پڑے تو بھیک مانگ کر کھانا، لیکن سماج کو برا بھلا نہ کہنا۔

جرانگے نے اپنی صحت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب وہ سلائن لیتے ہیں تو حکومت بے فکر ہوجاتی ہے، لیکن جب سلائن چھوڑ دیتے ہیں تو حکومت دباؤ میں آجاتی ہے۔ انہوں نے انتہائی جذباتی انداز میں کہا کہ ان کا کوئی استاد یا سرپرست نہیں ہے اور وہ خود اپنے راستے پر چلتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے بڑے بڑے لوگوں کو جواب دیا ہے۔

جرانگے نے کہا کہ اپنے سماج کے بچوں کے لیے لڑتے لڑتے ان کا جسم تھک گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنے سماج کے لیے حکومت کو چیلنج کیا ہے اور وہ کبھی کسی کو بے بس نہیں ہونے دیں گے۔ ان کے مطابق حکومت چاہتی ہے کہ وہ اس کے سامنے جھک جائیں، لیکن وہ اپنی مانگ چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سے زیادہ ان کے لیے ان کا سماج اہم ہے۔ جرانگے نے جذباتی انداز میں کہا کہ ان کا سماج ہی ان کے لیے سب کچھ ہے اور مراٹھا برادری کسی بھی حکومت کو اقتدار سے ہٹا سکتی ہے اور اس کی جگہ دوسری حکومت لاسکتی ہے۔

جرانگے نے اپنی صحت کے حوالے سے یہ بھی کہا کہ طویل بھوک ہڑتال کی وجہ سے انہیں تکلیف ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھوک ہڑتال کی حالت میں طویل سفر کرنا مناسب نہیں ہے اور ریزرویشن ان کے لیے سفر سے زیادہ اہم ہے۔ ان کے مطابق کھوپولی تک پہنچنے کے لیے جسم میں طاقت اور کھانے پینے کی ضرورت ہوگی۔ اسی وجہ سے انہوں نے اشارہ دیا کہ وہ پولیس کو اطلاع دے کر پاٹوڈا سے براہ راست ممبئی جانے کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande