ان آئی اے عدالت نے حافظ سعید کے خلاف دو ماہ کے اندر دوسرا ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کیا
جموں, 12 ستمبر (ہ س): لشکر طیبہ کے بانی حافظ سعید کے پاکستان میں موجود ہونے کی اطلاع نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی نے جموں کی خصوصی عدالت کو دی ہے، جس کے بعد عدالت نے اس کے خلاف دو ماہ کے اندر دوسرا ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کردیا۔ این آئی اے کے مطابق ح
Hafiz syed


جموں, 12 ستمبر (ہ س): لشکر طیبہ کے بانی حافظ سعید کے پاکستان میں موجود ہونے کی اطلاع نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی نے جموں کی خصوصی عدالت کو دی ہے، جس کے بعد عدالت نے اس کے خلاف دو ماہ کے اندر دوسرا ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کردیا۔

این آئی اے کے مطابق حافظ سعید پاکستان کے شہر سرگودھا کا رہائشی ہے اور ایک دہشت گردی سے متعلق مقدمے میں مفرور ملزم ہے۔ ایجنسی نے عدالت کو بتایا کہ حافظ سعید جموں و کشمیر میں سرگرم دہشت گردوں کو مبینہ طور پر ہتھیار، رقم اور ہدایات فراہم کر رہا ہے اور گرفتاری سے بچنے کے لیے پاکستان میں موجود ہے۔

یہ معاملہ سری نگر کے مضافاتی علاقے پانڈچ میں محمد نقیب بھٹ کی گرفتاری کے بعد سامنے آیا۔ حکام کے مطابق بھٹ کے قبضے سے چین ساختہ دستی بم اور 15 زندہ کارتوس برآمد ہوئے تھے۔ اس کے خلاف زکورہ پولیس اسٹیشن میں یو اے پی اے، آرمز ایکٹ اور ایکسپلوسیو سبسٹنسز ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔بعد ازاں تحقیقات کے دوران لشکر طیبہ اور اس کی ذیلی تنظیم دی ریزسٹنس فرنٹ سے وابستہ متعدد افراد اور دو پاکستانی شہریوں کو گرفتار کیا گیا۔این آئی اے کے مطابق تحقیقات میں حافظ سعید کا مبینہ کردار بھی سامنے آیا اور گرفتار پاکستانی شہریوں کے اس کے ساتھ روابط پائے گئے۔ستمبر8 کو این آئی اے ایکٹ کے تحت خصوصی جج پریم ساگر نے سماعت کے بعد حافظ سعید کے خلاف عام ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کیا۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ حافظ سعید مبینہ طور پر دہشت گردی میں ملوث ہے اور تفتیشی ایجنسی اس کی حاضری عام طریقے سے یقینی بنانے میں کامیاب نہیں ہوئی۔

حافظ سعید کے خلاف جموں کی خصوصی عدالت کی جانب سے یہ دوسرا ناقابل ضمانت وارنٹ ہے۔ اس سے قبل 8 جولائی کو پہلگام دہشت گرد حملے کے سلسلے میں بھی اس کے خلاف وارنٹ جاری کیا گیا تھا۔ اس حملے میں 25 سیاحوں اور ایک مقامی شہری کی موت ہوئی تھی۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande