
بھارت نے دوا سازی کی مصنوعات کی برآمدات بڑھانے کے لیے برازیل میں زیادہ قابل اعتماد ریگولیٹری نظام کا مطالبہ کیا
نئی دہلی، 31 اگست (ہ س)۔ بھارت اور برازیل نے دو طرفہ تجارت اور اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ برازیلیا میں منعقدہ 8ویں بھارت-برازیل تجارتی نگرانی نظام (ٹی ایم ایم ) کی میٹنگ میں دونوں ممالک نے 2030 تک دو طرفہ تجارت کو 30 ارب امریکی ڈالر تک پہنچانے کا ہدف بھی مقرر کیا ہے۔
برازیل کے برازیلیا میں منعقدہ بھارت-برازیل تجارتی نگرانی نظام کی 8ویں میٹنگ میں بھارت-برازیل اسٹریٹجک شراکت داری کو اجاگر کرنے والے مضبوط ادارہ جاتی ڈھانچے اور اسٹریٹجک و اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے دونوں ممالک کی مشترکہ وابستگی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ میٹنگ کی مشترکہ صدارت بھارت کے کامرس سیکریٹری راجیش اگروال اور برازیل کی خارجہ تجارت کی سیکریٹری تاتیانا لیسرڈا پراجیرس نے کی۔
میٹنگ کے دوران بھارت نے دوا ساز مصنوعات کی برآمدات کو فروغ دینے کے لیے برازیل میں زیادہ قابل اعتماد ریگولیٹری نظام کی ضرورت پر زور دیا۔ دونوں ممالک نے مزید متنوع، متوازن اور پائیدار شراکت داری کے ذریعے خاص طور پر دواسازی، کیمیکل، انجینئرنگ سامان اور مشینری کے شعبوں میں 2030 تک دو طرفہ تجارت کو 30 ارب امریکی ڈالر تک پہنچانے کے عزم کا اظہار کیا۔
اس موقع پر کامرس سیکریٹری نے برازیل حکومت کے ترقی، صنعت، تجارت اور خدمات کے وزیر مارسیو الیاس روزا سے بھی ملاقات کی اور دو طرفہ تجارت و سرمایہ کاری کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور ترجیحی شعبوں میں اقتصادی تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا۔ وزارت تجارت نے کہا کہ بھارت-مرکوسور ترجیحی تجارتی معاہدے کے دائرہ کار کو وسعت دینے اور اسے جدید بنانے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ سال 2025 میں بھارت-مرکوسور دو طرفہ تجارت 0.84 ارب ڈالر تک پہنچنے کے بعد دونوں فریقین نے کام کے دائرہ کار کی شرائط کو جلد حتمی شکل دینے پر اتفاق کیا۔
بھارت اور برازیل کے درمیان دو طرفہ تجارت مالی سال 2025-26 میں 15.07 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ اب اسے 2030 تک 30 ارب امریکی ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد