
کولکاتا، 31 اگست (ہ س)۔ بھارت اور روس کے درمیان مضبوط تال میل، مکالمے، اعتماد، حساسیت اور باہمی احترام کے ذریعے تعاون کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔ کولکاتا میں مالدیپ جمہوریہ کے اعزازی قونصل رام کرشن جیسوال نے پیر کو منعقدہ بھارت۔روس دوطرفہ کانفرنس ’’سمپرک‘‘ کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی۔
رام کرشن جیسوال نے کہا کہ کسی بھی کامیاب شراکت داری کی بنیاد بامعنی مکالمے اور ایک دوسرے کو سمجھنے کی صلاحیت پر قائم ہوتی ہے۔ تعلقات چاہے دو بڑے ممالک کے درمیان ہوں یا چھوٹے ممالک کے درمیان، مضبوط شراکت داری کا اثر صرف حکومتوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ معاشرے، معیشت اور بین الاقوامی تعلقات پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
بھارت۔روس تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے اعتماد، باہمی سمجھ اور احترام پر مبنی دوستی قائم رہی ہے۔ اگر دونوں ممالک اپنی صلاحیتوں اور مہارت کو مشترکہ مقاصد کے لیے بروئے کار لائیں تو اس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے لیے وسیع پیمانے پر ترقی اور خوشحالی کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب دو بڑے ممالک کسی مشترکہ مقصد کے لیے مل کر کام کرتے ہیں تو اس کے نتائج ان کامیابیوں سے کہیں زیادہ ہو سکتے ہیں جو وہ الگ الگ حاصل کر سکتے ہیں۔ ایسی شراکت داری ترقی اور خوشحالی کے لیے محرک کا کردار ادا کر سکتی ہے۔جیسوال نے کامیاب تعلقات کے لیے مکالمے کو بنیادی حیثیت دیتے ہوئے کہا کہ ٹیکنالوجی نے جغرافیائی فاصلے کم کر دیے ہیں اور دنیا کے کسی بھی حصے میں موجود شخص سے فوری رابطہ ممکن ہو گیا ہے، لیکن حقیقی مکالمہ صرف رابطے تک محدود نہیں ہوتا۔ اس کے لیے ایک دوسرے کی بات سننا، مختلف نقطہ نظر کو سمجھنا اور کھلے ذہن کے ساتھ گفتگو کرنا ضروری ہے۔انہوں نے شراکت داری میں اعتماد اور خود اعتمادی کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق ممالک، اداروں اور افراد کے درمیان یہ اعتماد ہونا چاہیے کہ شراکت دار مشکل حالات میں بھی ایمانداری اور مثبت جذبے کے ساتھ ایک دوسرے کا ساتھ دیں گے۔
رام کرشن جیسوال نے حساسیت کو بھی مضبوط تعلقات کے لیے ضروری قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ کوئی شخص مکالمے میں کتنا ہی پراعتماد اور کامیاب کیوں نہ ہو، اگر اس میں دوسروں کے حالات اور مشکلات کو سمجھنے کی حساسیت نہیں ہے تو تعلقات نامکمل رہ جاتے ہیں۔ یہی اصول ممالک کے باہمی تعلقات پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ مختلف تاریخ، ثقافت اور نقطہ نظر کے باوجود ممالک کو ایک دوسرے کے خدشات اور خواہشات کے تئیں حساس رہنا چاہیے۔انہوں نے باہمی احترام کو طویل مدتی شراکت داری کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ احترام کسی مفاد یا فائدے کی توقع میں نہیں، بلکہ مہذب اور تعمیری تعلقات کے بنیادی اصول کے طور پر ہونا چاہیے۔
جیسوال کے مطابق مستقبل میں بھارت اور روس کے درمیان تعلیم، ٹیکنالوجی، اختراع، تجارت، سرمایہ کاری اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان رابطے کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیاں، ادارے، کاروباری افراد اور سرمایہ کار اس شراکت داری کو وسعت دینے اور تعاون کے نئے راستے کھولنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے اداروں اور عوام کے درمیان زیادہ سے زیادہ مکالمے اور رابطے سے باہمی سمجھ مضبوط ہوگی اور اعتماد میں اضافہ ہوگا۔ اس سے مستقبل میں دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے مضبوط بنیاد تیار ہوگی۔
رام کرشن جیسوال نے امید ظاہر کی کہ بھارت۔روس شراکت داری مسلسل ترقی کرتی رہے گی اور نئے مواقع کے دروازے کھولے گی۔ انہوں نے کہا کہ ’’سمپرک‘‘ جیسے پلیٹ فارم دونوں ممالک کے درمیان مکالمے اور وسیع تر شراکت داری کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔انہوں نے کانفرنس کے منتظمین کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے بھارت۔روس تعلقات کے مستقبل پر مختلف شعبوں سے وابستہ اسٹیک ہولڈرز کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا۔ جیسوال نے دونوں ممالک کے درمیان مسلسل مکالمے، مضبوط تعاون اور گہری دوستی کی ضرورت پر زور دیا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan