مرکزی حکومت نے 1.27 لاکھ کروڑ روپے کی سیمی کون 2.0 اسکیم کو نوٹیفائی کیا
نئی دہلی، 31 اگست (ہ س):۔ مرکزی حکومت نے ملک میں چِپ مینوفیکچرنگ کے مکمل نظام کو فروغ دینے کے لیے 1.27 لاکھ کروڑ روپے کے تخمینے والی سیمی کون 2.0 اسکیم کو نوٹیفائی کیا ہے۔ مرکزی کابینہ نے جولائی 2026 میں اس اسکیم کو منظوری دی تھی۔ وزارت الیکٹران
مرکزی حکومت نے 1.27 لاکھ کروڑ روپے کی سیمی کون 2.0 اسکیم کو نوٹیفائی کیا


نئی دہلی، 31 اگست (ہ س):۔

مرکزی حکومت نے ملک میں چِپ مینوفیکچرنگ کے مکمل نظام کو فروغ دینے کے لیے 1.27 لاکھ کروڑ روپے کے تخمینے والی سیمی کون 2.0 اسکیم کو نوٹیفائی کیا ہے۔ مرکزی کابینہ نے جولائی 2026 میں اس اسکیم کو منظوری دی تھی۔

وزارت الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی نے پیر کو سیمی کون 2.0 اسکیم سے متعلق سرکاری گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق اسکیم کا مقصد ڈیزائن سے لے کر مشینری، خام مال، فیبریکیشن، ٹیسٹنگ اور تحقیق تک مکمل سپلائی چین تیار کرنا ہے۔

مرکزی وزیر اشونی ویشنو نے ہندوستان کے سیمی کنڈکٹر ایکو سسٹم میں سیمی کون 2.0 کے تمام چھ ستونوں پر بات کرتے ہوئے کہا، ”عالمی سیمی کنڈکٹر صنعت کے متعلقہ فریقوں میں یہ پختہ یقین ہے کہ آنے والی دہائیوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے لیے ہندوستان صحیح مقام ہے۔“

انہوں نے مزید کہا کہ سیمی کون 1.0 کے تحت منظور شدہ یونٹس کی تعداد اور منظوری سے لے کر سنگ بنیاد اور پھر تجارتی پیداوار شروع ہونے تک کی رفتار اس بات کو واضح طور پر ظاہر کرتی ہے۔ ایک معاملے میں تو سنگ بنیاد رکھنے کے صرف 13 ماہ کے اندر ہی تجارتی پیداوار شروع ہوگئی۔

ویشنو نے کہا کہ کئی معاملات میں تمام منظوریوں کو پہلے ہی 200 یا 150 دن کے اندر دے دیا گیا، جبکہ ایک معاملے میں یہ کام صرف 90 دن میں مکمل کیا گیا۔ اس رفتار نے عالمی صنعت میں ہندوستان کے تئیں بہت اعتماد پیدا کیا ہے۔ سرمایہ جاتی اخراجات کے لیے دی جانے والی امداد عالمی سطح پر مسابقتی ہے، جبکہ باصلاحیت افرادی قوت، پالیسی میں استحکام اور کاروبار کرنے میں آسانی کی وجہ سے صنعت کی ہندوستان کو اپنا مرکز بنانے میں دلچسپی نے ہمارے فیصلے سازی کے عمل میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق اس اسکیم کو چھ حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جن میں ہندوستانی کمپنیوں کے ذریعے چِپ ڈیزائن، چِپ کی تیاری کے لیے ضروری سرمایہ جاتی آلات بنانے والی یونٹس کا قیام، سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ، چِپ اسمبلنگ، پیکیجنگ اور ٹیسٹنگ وغیرہ شامل ہیں۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے، ”حکومت نے ہندوستان میں سیمی کنڈکٹر ڈیزائن اور مینوفیکچرنگ کے ماحول کو فروغ دینے کے لیے سیمی کون 2.0 اسکیم کو نوٹیفائی کرکے سیمی کنڈکٹر شعبے کو مسلسل پالیسی تعاون فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔“

نوٹیفکیشن کے مطابق، ”اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے مختلف اقسام کے کمپیوٹنگ، میموری، آر ایف، پاور، نیٹ ورکنگ، سینسر وغیرہ کے لیے معیاری آئی پی سمیت ضروری بنیادی ٹیکنالوجی کے اجزا تیار کیے جائیں گے۔“

اس اسکیم کا مقصد قومی اسٹریٹجک اور اہم بنیادی ڈھانچے کے لیے مطلوبہ ٹیکنالوجیز کے ڈیزائن، ترقی اور استعمال پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے مضبوط، قابل اعتماد اور دیسی سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجیز تیار کرنا ہے۔

ہندوستان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande