راہل گاندھی کے خلاف ایف آئی آر پر کانگریس حکومت پر حملہ آور
نئی دہلی، 31 اگست (ہ س)۔ اتراکھنڈ کے ہلدوانی میں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کی عوامی ریلی کے بعد مبینہ ’شُدھی کرن‘ کے معاملے میں لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کے خلاف ایف آئی آر درج کیے جانے پر کانگریس رہنماؤں نے بی جے پی اور اتراکھنڈ حکومت
راہل گاندھی کے خلاف ایف آئی آر پر کانگریس حکومت پر حملہ آور


نئی دہلی، 31 اگست (ہ س)۔ اتراکھنڈ کے ہلدوانی میں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کی عوامی ریلی کے بعد مبینہ ’شُدھی کرن‘ کے معاملے میں لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کے خلاف ایف آئی آر درج کیے جانے پر کانگریس رہنماؤں نے بی جے پی اور اتراکھنڈ حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس رہنماؤں نے الزام لگایا کہ شُدھی کرن کرنے والوں کے خلاف اب تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی، جبکہ اس واقعے کے خلاف آواز اٹھانے والے راہل گاندھی کے خلاف مقدمہ درج کر دیا گیا۔

کانگریس کی جنرل سیکریٹری کماری شیلجا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ کھڑگے کی عوامی ریلی کے بعد شُدھی کرن کرنے والوں کے خلاف کارروائی نہیں ہوئی، لیکن اس مبینہ ذات پات پر مبنی عمل کے خلاف آواز اٹھانے والے راہل گاندھی کے خلاف ایف آئی آر درج کر دی گئی۔ کیا یہی حکومت کا انصاف ہے؟ انہوں نے کہا کہ پہلے شُدھی کرن کیا گیا، پھر اتراکھنڈ بی جے پی کے صدر نے کھلے عام اس کا دفاع کیا اور اب راہل گاندھی نے قصورواروں کے خلاف قانون کے تحت کارروائی کا مطالبہ کیا تو الٹا انہی کے خلاف مقدمہ درج کر دیا گیا۔

انہوں نے الزام لگایا کہ یہ کوئی عام واقعہ نہیں ہے، بلکہ حکومت کی دلت مخالف اور آئین مخالف سوچ کی ایک سنگین مثال ہے۔ راہل گاندھی نے وہی سوال اٹھایا ہے جسے کھڑگے خود پارلیمنٹ میں اٹھا چکے ہیں۔ کھڑگے نے پارلیمنٹ میں کہا تھا کہ اس واقعے سے انہیں چھوت چھات جیسا محسوس ہوا اور ان کی توہین کی گئی۔

راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے ڈپٹی لیڈر پرمود تیواری نے راہل گاندھی کے خلاف ایف آئی آر کو حکومت کا سخت فیصلہ قرار دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس سے بی جے پی کی دلت مخالف ذہنیت سامنے آتی ہے اور یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ بی جے پی سیاسی طور پر راہل گاندھی سے خوفزدہ ہے۔

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ رندیپ سنگھ سرجے والا نے کہا کہ راہل گاندھی کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے بی جے پی حکومت نے اپنا اصلی چہرہ دکھا دیا ہے۔ کھڑگے نے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر عوامی طور پر بتایا تھا کہ ان کی تقریر کے بعد اسٹیج کے مبینہ شُدھی کرن سے ان کے جذبات کو گہری ٹھیس پہنچی۔ انہوں نے کہا کہ دوسری جانب اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی سے لے کر بی جے پی کے قومی جنرل سیکریٹری تک اس واقعے کے جواز کے حوالے سے بیانات دے رہے ہیں۔ ملک میں دلت اور محروم طبقات کے لوگ عزت اور مساوی حقوق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور یہ ان کا آئینی حق ہے۔ راہل گاندھی جب اس امتیاز کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں تو انہی کے خلاف ایف آئی آر درج کر دی جاتی ہے۔

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ پون کھیڑا نے کہا کہ راہل گاندھی کے خلاف ایف آئی آر کو ہی بنیادی مسئلہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ ہلدوانی میں کیا گیا مبینہ شُدھی کرن ہے۔ بی جے پی اور اتراکھنڈ حکومت کی نیت پر سوال اس لیے اٹھتا ہے کیونکہ شُدھی کرن کے خلاف آواز اٹھانے والے شخص کے خلاف فوراً ایف آئی آر درج کر دی گئی، لیکن جن لوگوں نے مبینہ طور پر شُدھی کرن کیا اور کروایا، ان کے خلاف اب تک ایف آئی آر درج نہیں ہوئی۔

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے صحافیوں سے کہا کہ اگر کسی شخص کو کھڑگے کے آنے کے بعد مبینہ طور پر ناپاکی محسوس ہوئی اور اسی وجہ سے شُدھی کرن کیا گیا، تو اس واقعے کے بارے میں کھڑگے نے پارلیمنٹ میں اپنی بات رکھی تھی۔ بی جے پی کے سینئر رہنماؤں کی جانب سے بھی اس واقعے پر بیانات دیے گئے، لیکن اس کے باوجود شُدھی کرن کرنے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande