غیر ملکی صارفین کے لیے ملبوسات تیار کرتے وقت بھارت کی خوشبو اور مہک برقرار رہنی چاہیے: دروپدی مرمو
نئی دہلی، 31 اگست (ہ س)۔ صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے کہا کہ ٹیکسٹائل اور ملبوسات کا شعبہ صرف ہماری ثقافتی وراثت کا حصہ ہی نہیں بلکہ کروڑوں ہم وطنوں کے روزگار کا ذریعہ بھی ہے۔ جب آپ غیر ملکی صارفین کے لیے ملبوسات تیار کریں تو اس میں بھی بھارت کی خوشب
غیر ملکی صارفین کے لیے ملبوسات تیار کرتے وقت بھارت کی خوشبو اور مہک برقرار رہنی چاہیے


نئی دہلی، 31 اگست (ہ س)۔ صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے کہا کہ ٹیکسٹائل اور ملبوسات کا شعبہ صرف ہماری ثقافتی وراثت کا حصہ ہی نہیں بلکہ کروڑوں ہم وطنوں کے روزگار کا ذریعہ بھی ہے۔ جب آپ غیر ملکی صارفین کے لیے ملبوسات تیار کریں تو اس میں بھی بھارت کی خوشبو اور مہک برقرار رہنی چاہیے۔

صدر مرمو پیر کے روز دہلی میں واقع نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ٹیکنالوجی (نِفٹ) کی مشترکہ تقریبِ تقسیمِ اسناد 2026 سے خطاب کر رہی تھیں۔ انہوں نے طلبہ کو ترغیب دیتے ہوئے کہا، ’’آپ کی سوچ عالمی ہونی چاہیے، لیکن آپ کی جڑیں اپنی مٹی کی خصوصیات اور زندگی کی اقدار سے جڑی رہنی چاہئیں۔ جب آپ غیر ملکی صارفین کے لیے ملبوسات تیار کریں تو اس میں بھی بھارت کی خوشبو اور مہک برقرار رہنی چاہیے۔ آپ کو ایسے معاشرے کی تعمیر میں تعاون کرنا ہے جہاں ہر شہری کو ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کے مناسب مواقع مل سکیں۔ آپ کی کوششوں سے کاریگروں کو اپنی دستکاری کی بنیادی شناخت برقرار رکھتے ہوئے اپنی پیداوار اور آمدنی بڑھانے میں مدد ملنی چاہیے۔ اسی میں آپ کی کامیابی ہے۔‘‘

صدرجمہوریہ نے خواتین کو بااختیار بنانے کے بڑھتے ہوئے اثرات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ 20 سال پہلے اس شعبے میں خواتین کی شمولیت صرف 20 فیصد تھی، جبکہ آج تقریباً 4 ہزار موجودہ طلبہ میں سے 85 فیصد خواتین ہیں۔ یہ تبدیلی ترقی یافتہ اور خود کفیل بھارت کی سمت میں ایک اہم کامیابی ہے۔ انہوں نے ماحولیاتی تحفظ اور ’سرکلر اکانومی‘ پر زور دیتے ہوئے بنگال کی کانتھا کڑھائی اور بہار کی سُجنی آرٹ کا خصوصی ذکر کیا۔

انہوں نے ان روایتی دستکاریوں کو ری سائیکلنگ کی بہترین مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو مواد بچ جائے اسے بیکار سمجھ کر پھینکنے کے بجائے اسے نئی شکل، نئی افادیت اور نئی قدر دینا ہی بھارتی روایت کی بنیادی خصوصیت ہے۔ انہوں نے طلبہ سے مقامی خام مال کا استعمال کرتے ہوئے ماحول دوست مصنوعات اور عالمی برانڈ تیار کرنے کی اپیل کی۔

2047 تک ’ترقی یافتہ بھارت‘ کے ہدف کے حصول کے لیے نوجوانوں کے کردار کو فیصلہ کن قرار دیتے ہوئے انہوں نے اپیل کی کہ نوجوان صرف ملازمت تلاش کرنے والے نہ بنیں بلکہ دوسروں کو روزگار فراہم کرنے والے بنیں۔ اس کے ساتھ ہی ’کرافٹ کلسٹر انیشی ایٹو‘ جیسے اقدامات کے ذریعے روایتی بُنکروں اور کاریگروں کی بنیادی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے ان کی آمدنی اور پیداواریت بڑھانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

اس موقع پر مرکزی وزیر برائے ٹیکسٹائل گری راج سنگھ نے طلبہ اور نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف فیشن ڈیزائن یا فیشن شو تک محدود نہیں ہیں بلکہ 2047 کے بدلتے ہوئے بھارت کے حقیقی معمار ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں سے زندگی بھر سیکھنے کا جذبہ برقرار رکھنے، والدین کا احترام کرنے اور ملک کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔

ڈاکٹراے پی جے عبدالکلام کے خیالات کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر سنگھ نے کہا کہ کوئی شخص صرف ڈگری حاصل کرنے تک ہی طالب علم نہیں رہتا بلکہ زندگی کے آخری سفر تک سیکھنے کا عمل جاری رہتا ہے۔ ’’خواب دیکھیے، مقصد طے کیجیے، علم حاصل کیجیے، سخت محنت کیجیے اور کبھی ہمت نہ ہاریے۔ آپ کی سوچ اور محنت ہی ملک کے مستقبل کو بدل سکتی ہے۔‘‘

وزیر اعظم نریندر مودی کے پیغام کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے نوجوانوں سے کہا، ’’اپنا ہدف بڑا رکھیے، محنت کو عادت اور خود اعتمادی کو اپنی طاقت بنائیے۔ دوسروں سے اپنا موازنہ کرنے کے بجائے ہر روز خود کو بہتر بنانے کی کوشش کریں۔‘‘ انہوں نے طلبہ کو مشورہ دیا کہ امتحانات، خواہ تعلیمی ہوں یا زندگی سے متعلق، کا دباؤ نہ لیں، ناکامیوں سے سیکھیں اور ٹیکنالوجی کا درست استعمال کرتے ہوئے ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔

اس موقع پر صدر جمہوریہ نے مختلف کیمپس کے باصلاحیت طلبہ و طالبات کو ان کی شاندار تعلیمی کارکردگی کے لیے گولڈ میڈل سے نوازا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande