
سمفروپول، 26 اگست (ہ س/ریا نووستی)۔ کریمیا کی پارلیمنٹ کے سربراہ ولادیمیر کونسٹنٹینوف نے الزام عائد کیا ہے کہ یوکرین میں فوجی دستے تعینات کرنے کے منصوبے سے متعلق اعلانات کے ذریعے نام نہاد اتحاد یعنی ’کولیشن آف ولنگ‘ یوکرین میں جاری تنازعہ کے خاتمے میں تاخیر کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے ممکنہ امن معاہدے کی راہ بھی مزید مشکل ہو رہی ہے۔
کونسٹنٹینوف نے روسی خبر رساں ایجنسی ریا نووستی سے گفتگو میں کہا کہ اتحاد کی جانب سے یوکرین میں فوج بھیجنے کی بات تنازعہ ختم کرنے کی کوششوں میں رکاوٹ ڈالنے کا ایک طریقہ ہے۔ ان کے مطابق، مغربی ممالک کی جانب سے فوجیوں کی تعیناتی پر بحث کا مقصد مبینہ طور پر یوکرین میں جنگ کو جاری رکھنا ہے۔
اس دوران برطانیہ کے وزیر اعظم اینڈی برنہم نے پیر کے روز کہا کہ ’کولیشن آف ولنگ‘ یوکرین میں ممکنہ تعیناتی کے لیے فوجیوں کو تیار کرنے کے مقصد سے فوجی مشق کرے گا۔ تجویز کے مطابق، جنگ بندی کا معاہدہ ہوتے ہی ان فوجیوں کو یوکرین میں تعینات کیا جا سکتا ہے۔
تاہم، کونسٹنٹینوف نے دعویٰ کیا کہ کسی بھی ملک کی جانب سے یوکرین میں فوج بھیجنے کا کوئی ٹھوس منصوبہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوجی تعیناتی کی بحث کے ذریعے مغربی ممالک اپنے مبینہ وسیع تر اسٹریٹجک مقاصد کو چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
’کولیشن آف ولنگ‘ میں 30 سے زائد ممالک شامل ہیں۔ یہ پہل فرانس اور برطانیہ کی قیادت میں شروع کی گئی تھی اور اس کا مقصد یوکرین کے لیے ممکنہ سکیورٹی انتظامات کرنا ہے۔
وہیں، روس کی وزارت خارجہ نے یوکرین میں نیٹو رکن ممالک کے فوجیوں کی ممکنہ تعیناتی کی مخالفت کی ہے۔ وزارت کا کہنا ہے کہ ایسی کسی بھی تعیناتی سے خطے میں کشیدگی تیزی سے بڑھ سکتی ہے۔ روس اس سے قبل بھی برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک کی جانب سے یوکرین میں اتحادی فوجیوں کی ممکنہ تعیناتی کو تنازع جاری رکھنے کے لیے اشتعال انگیزی قرار دیتا رہا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد