
تہران ،26اگست (ہ س )۔
ایران نے واضح کیا ہے کہ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق جاری مذاکرات کو آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی علامت نہیں سمجھا جائے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ایران اور عمان اس معاملے پر کچھ عرصے سے بات چیت کر رہے ہیں تاہم یہ عمل آبنائے ہرمز کھولنے کے معاملے سے الگ ہے۔ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان پہلے ایک عارضی معاہدہ اور اس کے بعد حتمی معاہدہ متوقع ہے لیکن اس کا مطلب آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت بحال کرنا نہیں ہوگا۔
دوسری جانب ایران کے نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی نے بھی کہا ہے کہ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایک نیا عارضی راستہ طے پایا ہے تاہم آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے امریکا کو سابقہ مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنی ذمے داریاں پوری کرنا ہوں گی۔
کاظم غریب آبادی نے واضح کیا ہے کہ تہران اور مسقط کے درمیان مفاہمت کا مطلب یہ نہیں کہ آبنائے ہرمز فوری اور مکمل طور پر کھول دی جائے گی۔
ایرانی نائب وزیر خارجہ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران اب بھی جنگی حالت میں ہے، اس لیے ثالثوں کو واضح کر دیا گیا ہے کہ جنگی حالات میں وہ اصول اختیار نہیں کیے جا سکتے جو معمول کے حالات میں اپنانے کی توقع کی جاتی ہے۔ایران اور عمان کے مشترکہ اعلامیے کے مطابق آبنائے ہرمز میں قائم کیا جانے والا نیا بحری راستہ عارضی ہوگا۔روسی میڈیا کے مطابق خلیج فارس میں داخل ہونے والے جہاز ایرانی پانیوں سے گزریں گے جبکہ واپسی عمانی پانیوں کے راستے سے ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق نیا راستہ دو رویہ شاہراہ کی طرز پر ہوگا اور اس کی چوڑائی تقریباً 11.25 کلومیٹر ہوگی، مستقل راستے کے قیام کے لیے ایران اور عمان آئندہ 30 سے 60 روز کے دوران مذاکرات کریں گے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ