
کھٹمنڈو، 26 اگست (ہ س)۔ نیپال کی بھوٹے کوشی ندی میں بدھ کی صبح اچانک آنے والے شدید سیلاب میں 105 بھارتیوں سمیت 400 سے زائد سیاح لاپتہ ہو گئے ہیں۔ حادثے میں کئی افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ فوج، مقامی انتظامیہ اور سکیورٹی ایجنسیاں راحت اور بچاؤ کے کاموں میں مصروف ہیں۔
نیپال میں بدھ کی صبح تقریباً ساڑھے 8 بجے تبت کی سرحد سے متصل علاقے راسووا کی بھوٹے کوشی ندی میں اچانک آنے والے سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق تبت کی جانب کسی گلیشیئر جھیل کے پھٹنے یا پانی کی سطح میں اچانک شدید اضافے کے باعث یہ سیلاب آیا ہے۔ اس شدید سیلاب سے پورے علاقے میں بھاری تباہی ہوئی ہے۔ کئی گاؤں، سڑکیں اور پل بہہ گئے ہیں۔ کئی ہائیڈرو پاور پروجیکٹس کو بھی کافی نقصان پہنچا ہے۔ نیپال ٹورزم بورڈ، ٹورسٹ پولیس اور دیگر متعلقہ ادارے متاثرہ علاقوں میں موجود سیاحوں کی تلاش اور بچاؤ کے لیے باہمی تعاون کر رہے ہیں۔
حادثے کے بعد سے سرکاری طور پر 384 سیاح لاپتہ ہیں۔ نیپال ٹورزم بورڈ کے مطابق لاپتہ افراد میں 105 بھارتی سیاح شامل ہیں۔ بورڈ نے 384 مسافروں کے لاپتہ ہونے کی شناخت کی ہے۔ ان میں 291 غیر ملکی شہری اور 93 نیپالی شہری شامل ہیں۔ بڑی تعداد میں لوگوں کی ہلاکت کا بھی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق ٹریکرز سوسائٹی کے ذریعے سفر پر گئے سب سے زیادہ 92 افراد اور سمراٹ ٹور اینڈ ٹریولز کے ذریعے گئے 71 افراد لاپتہ ہیں۔ اس کے علاوہ لیف ہالیڈے کے 55، ہمالین گلیشیئر کے 52 سیاحوں سمیت دیگر ایجنسیوں کے ذریعے سفر کرنے والے افراد بھی لاپتہ ہیں۔
لاپتہ غیر ملکی سیاحوں میں بھارت، آسٹریلیا، نیدرلینڈز، امریکہ، ملائیشیا، برطانیہ اور جنوبی افریقہ کے شہری شامل ہیں۔ بورڈ نے بتایا کہ کچھ لاپتہ سیاحوں کی قومیت کے بارے میں ابھی معلومات حاصل نہیں ہو سکی ہیں۔
ٹورزم بورڈ ، مقامی انتظامیہ، سکیورٹی ایجنسیوں اور ٹریکنگ گائیڈز کے ساتھ مل کر لاپتہ افراد سے متعلق اعداد و شمار کی تصدیق کر رہا ہے۔ ساتھ ہی متاثرہ علاقوں میں تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں کو تیز کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد