
بیجنگ، 26 اگست (ہ س/ریا نوووستی)۔ چین نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی صنعت کے پائیدار اور منظم فروغ کو آگے بڑھانے کے لیے تقریباً 200 اہم معیارات تیار کیے ہیں۔ چین کے نائب وزیر برائے صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی شن گوبن نے بدھ کے روز یہ جانکاری دی۔ شن گوبن نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ اے آئی کے شعبے میں نظم و نسق اور معیاری کاری کے اعتبار سے تقریباً 200 اہم معیارات کامیابی کے ساتھ وضع کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ملک کے متعدد شہروں میں اے آئی کے استعمال سے وابستہ اخلاقی پہلوؤں کے جائزے کا عمل بھی جاری ہے۔
نائب وزیر نے کہا کہ چین کی کمپیوٹنگ کی صلاحیت مسلسل مضبوط ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق، جون کے اختتام تک ملک کی ذہین کمپیوٹنگ کی صلاحیت 2,185 ایکسا فلاپس تک پہنچ چکی تھی۔ شن گوبن کے مطابق، اے آئی کا استعمال اب صنعت کی تقریباً تمام ویلیو چین میں ہو رہا ہے۔ اس میں تحقیق و ترقی، ڈیزائن، پیداوار، کوالٹی کنٹرول اور دیکھ بھال جیسے شعبے شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی کے بڑھتے استعمال سے مختلف صنعتوں میں تکنیکی تبدیلی اور اپ گریڈیشن کی رفتار تیز ہوئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حقیقی دنیا کی تربیت اور تجربات کے ذریعے روبوٹس کو مینوفیکچرنگ، ہنگامی بچاو اور فوڈ سروس جیسے شعبوں میں کام کرنے کے قابل بنایا جا رہا ہے۔
نائب وزیر برائے صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی شن گوبن نے کہا کہ اے آئی کے اخلاقی تخمینے اور متعلقہ خدمات کے لیے ضروری انتظامات نافذ کرنے کے حوالے سے چین کے کئی شہروں میں تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ اس سے اے آئی کے فروغ کے ساتھ ساتھ اس کے محفوظ اور ذمہ دارانہ استعمال کو بڑھاوا دینے پر زور دیا جا رہا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن