
ہریدوار، 23 اگست (ہ س)۔ مرکزی وزیر زراعت و کسان بہبود اور دیہی ترقی شیوراج سنگھ چوہان نے ’ون نیشن، ون الیکشن‘ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اسے قومی مفاد میں ضروری قرار دیا ہے۔ انہوں نے سنت سماج سے اپیل کی کہ وہ ’ون نیشن، ون الیکشن‘ کے حق میں عوام میں بیداری پیدا کریں۔
اتوار کو ہریدوار کے قدیم اودھوت منڈل آشرم میں منعقدہ سنت سمیلن سے خطاب کرتے ہوئے شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ ملک میں بار بار ہونے والے انتخابات ترقی کی مسلسل رفتار میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ انتخابات کے عمل میں وقت، رقم اور انتظامی وسائل کا ایک بڑا حصہ صرف ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بار بار انتخابات ہونے کی وجہ سے انتظامیہ کی مشینری انتخابی تیاریوں میں مصروف ہوجاتی ہے۔ اس کے علاوہ اساتذہ، پولیس اہلکاروں اور دیگر سرکاری ملازمین کی خدمات بھی انتخابی ڈیوٹی میں لگائی جاتی ہیں، جس کے نتیجے میں ترقیاتی اور عوامی فلاح کے کام متاثر ہوتے ہیں۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ اگر لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات ایک ساتھ کرائے جائیں تو وقت اور وسائل کی بچت ہوگی اور انتظامیہ اپنی توجہ زیادہ مؤثر انداز میں ترقیاتی کاموں پر مرکوز کرسکے گی۔انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کے ’ون نیشن، ون الیکشن‘ کے عزم کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ محض کسی سیاسی جماعت کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے ملک سے متعلق معاملہ ہے۔ ملک سب سے پہلے ہے اور سیاسی جماعتیں اس کے بعد ہیں۔شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ سنتوں اور مذہبی رہنماؤں کو معاشرے میں وسیع قبولیت اور اثر حاصل ہے۔ اگر وہ اپنے خطابات اور عوامی رابطے کے ذریعے ’ون نیشن ون الیکشن‘ کے موضوع پر لوگوں کو بیدار کریں تو یہ نظریہ ملک کے ہر فرد تک پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی مفاد میں ہونے والی اس آئینی تبدیلی کے لیے وسیع عوامی حمایت ضروری ہے۔
مرکزی وزیر نے وندے ماترم کے مکمل پڑھنے کی حمایت کرنے کی بھی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ وندے ماترم حب الوطنی اور قومی اتحاد کی علامت ہے۔ انہوں نے سنت سماج سے اپیل کی کہ وہ اپنے خطابات کے ذریعے عوام میں قومی جذبے اور اتحاد کے احساس کو مزید مضبوط کریں۔
اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے کہا کہ ’ون نیشن ون الیکشن‘ محض سیاسی موضوع نہیں بلکہ قومی مفاد، بہتر حکمرانی، عوامی فلاح اور ملک کے وسائل کے بہتر استعمال سے متعلق ایک قومی معاملہ ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے اور انتخابات جمہوریت کا اہم تہوار ہیں، لیکن مسلسل جاری رہنے والے انتخابی عمل کا اثر حکمرانی اور ترقیاتی کاموں پر بھی پڑتا ہے۔
دھامی نے کہا کہ بار بار انتخابات کی وجہ سے مثالی ضابطہ اخلاق نافذ ہوجاتا ہے اور بڑی تعداد میں انتظامی افسران، اساتذہ، پولیس اہلکار اور سکیورٹی فورسز انتخابی ذمہ داریوں میں مصروف ہوجاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر انتخابات ایک ساتھ کرانے سے سرکاری رقم اور وسائل کی بچت ہوتی ہے اور انتظامیہ کو عوامی خدمت و ترقیاتی کاموں کے لیے زیادہ وقت ملتا ہے تو یہ جمہوری نظام کو مزید مؤثر اور منظم بنانے کی سمت ایک اہم قدم ہوگا۔دھامی نے کہا کہ ملک کا عزم مضبوط جمہوریت، مسلسل ترقی، محفوظ ثقافت اور قوم کو سب سے مقدم رکھنے کا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan