خلائی شعبے میں کام کرنے والے اسٹارٹ اپس سے وابستہ نوجوانوں کا ساتھ دینے کا وزیراعظم کا عزم
نئی دہلی، 23 اگست (ہ س)۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے گزشتہ دنوں خلائی شعبے میں کام کرنے والے اسٹارٹ اپس سے وابستہ نوجوان قائدین سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت اس عزم کے ساتھ کام کر رہی ہے کہ انہیں یہ محسوس ہو کہ کوئی ان کا ہا
خلائی شعبے میں کام کرنے والے اسٹارٹ اپس سے وابستہ نوجوانوں کا ساتھ دینے کا وزیراعظم کا عزم


نئی دہلی، 23 اگست (ہ س)۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے گزشتہ دنوں خلائی شعبے میں کام کرنے والے اسٹارٹ اپس سے وابستہ نوجوان قائدین سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت اس عزم کے ساتھ کام کر رہی ہے کہ انہیں یہ محسوس ہو کہ کوئی ان کا ہاتھ نہیں چھوڑے گا۔

وزیر اعظم کی رہائش گاہ پر جمعہ کو ہونے والی اس بات چیت کی ویڈیو اتوار کو قومی خلائی دن کے موقع پر جاری کی گئی۔ اس میں وزیر اعظم نے نوجوان اسٹارٹ اپ قائدین سے کہا کہ آپ نے ایک نئے شعبے میں حوصلے کا مظاہرہ کیا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ نے حکومت کی بات پر اعتماد کیا۔ ویڈیو شیئر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے ایکس پر کہا، ’’بھارت کے کچھ سب سے باصلاحیت خلائی اسٹارٹ اپس سے ملاقات ہوئی۔ ہمیشہ کی طرح، ان کی توانائی اور بلند عزائم سے میں بہت متاثر ہوا۔ آپ کو ان کی دوراندیشی اور امید پسندی بہت پسند آئے گی۔ مجھے بتائیے... بھارت کے خلائی سفر میں آپ کو سب سے زیادہ کیا چیز پرجوش کرتی ہے؟‘‘

ویڈیو میں وزیر اعظم نے اسٹارٹ اپس سے کہا، ’’میرا ہمیشہ سے یہ ماننا رہا ہے کہ ہم جو بھی فیصلہ کریں، اس میں مستقل مزاجی برقرار رکھیں۔ ہم بار بار اس میں تبدیلی نہ کریں، تاکہ اگر کوئی خطرہ مول لینا چاہتا ہے تو اسے یہ اعتماد رہے کہ اگر میری کسی غلطی کی وجہ سے کچھ گڑبڑ ہوتی ہے تو اسے ٹھیک کیا جائے گا، لیکن کوئی میرا ہاتھ نہیں چھوڑے گا۔ یہی اعتماد پیدا کرنے کی ہماری کوشش ہے۔‘‘

اس موقع پر ایک نوجوان کاروباری شخصیت نے وزیر اعظم سے کہا کہ عالمی سطح پر ہمیں بہت اچھا ردعمل ملا ہے۔ اس میں حکومت کی جانب سے بھی بہت کوششیں کی گئی ہیں، جس کی وجہ سے اب بھارتی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات برآمد کرنے میں حکومت کی مدد مل رہی ہے۔

وزیر اعظم نے اس پر بھارت کی کاروباری صلاحیت کی خصوصیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہماری قیمتیں بہت مسابقتی ہیں۔ صلاحیت کے معاملے میں ہمارا کوئی ثانی نہیں ہے اور خطرہ مول لینے کی صلاحیت بھی ہمارے ملک کے لوگوں میں ویسے ہی زیادہ ہے۔ اسی وجہ سے ہم عالمی سطح پر بہت تیزی سے اپنی جگہ بنا سکتے ہیں۔

وہیں، ایک اور نوجوان قائد نے کہا کہ ان کا ماننا ہے کہ خلائی شعبے کے کھلنے سے ایک بڑی تبدیلی آئی ہے۔ یورپ اور امریکہ میں رہنے والے ہمارے بھارتی شہری واپس آکر ہمارے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں۔

اس پر وزیر اعظم نے کہا کہ ہمیں بہت سے لوگوں کو جوڑنا ہے۔ انہیں سمجھنا چاہیے کہ ہمیں ایسا ماحول اور کشش پیدا کرنی ہے کہ اس شعبے میں کام کرنے والی دنیا بھر کی صلاحیتوں کو محسوس ہو کہ اگر انہیں اپنا کیریئر بنانا ہے تو وہ بھارت آئیں۔ بھارت کے کسی اسٹارٹ اپ سے وابستہ ہوں یا بھارت کی کسی خلائی ایجنسی کے ساتھ کام کریں۔

انہوں نے کہا، ’’میں پکا مانتا ہوں جی۔ مکمل ٹیلنٹ پول کو ہم آپ کی وجہ سے مقناطیس کی طرح اپنی طرف کھینچ سکتے ہیں۔ اور یہ ہماری ایک بہت بڑی طاقت بن سکتا ہے۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ بھارت کے نجی خلائی شعبے نے حالیہ برسوں میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ اسٹارٹ اپ کمپنیاں سیٹلائٹ، لانچ وہیکل اور خلائی ٹیکنالوجی کی ترقی میں فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔ اگنیکُل کاسماس، اسکائی روٹ ایرو اسپیس اور پکسِل جیسی کمپنیوں نے بھارت کی نجی خلائی صلاحیت کو مضبوط کیا ہے۔ اس سے خلائی شعبے میں اختراع، سرمایہ کاری اور عالمی مسابقت کو فروغ ملا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande