کھانے پینے کی اشیاء کے نیچے افیون چھپا کر کینیڈا اسمگل کرنے کے الزام میں چار افراد گرفتار
نئی دہلی، 23 اگست(ہ س)۔ دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے بیرون ممالک تک پھیلے ہوئے منشیات کی اسمگلنگ کے ایک بڑے نیٹ ورک کا پردہ چاک کیا ہے۔ پولیس کا دعوی ہے کہ یہ گینگ افیون کو کھانے پینے کی اشیاء اور کپڑوں میں چھپا کر کینیڈا لے جا رہا تھا۔ جیسے جیسے ت
منشیات


نئی دہلی، 23 اگست(ہ س)۔ دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے بیرون ممالک تک پھیلے ہوئے منشیات کی اسمگلنگ کے ایک بڑے نیٹ ورک کا پردہ چاک کیا ہے۔ پولیس کا دعوی ہے کہ یہ گینگ افیون کو کھانے پینے کی اشیاء اور کپڑوں میں چھپا کر کینیڈا لے جا رہا تھا۔ جیسے جیسے تفتیش آگے بڑھی، نیٹ ورک پنجاب، ہریانہ اور راجستھان کے ساتھ ساتھ بیرون ملک کے لوگوں کو بھی جوڑتا گیا۔ پولیس نے چاروں ملزموں کو گرفتار کر لیا ہے۔گرفتار کیے گئے ملزموں کی شناخت ہردیپ سنگھ (28)، یدویندر سنگھ عرف جشن سندھو (30)، سمرنجیت سنگھ (24) اور جیون سنگھ (23) کے طور پر ہوئی ہے۔ تحقیقات میں کالعدم خالصستانی دہشت گرد ارشدیپ سنگھ عرف ارش سے منسلک ایک نیٹ ورک اور منشیات کے بدلے میں ہتھیاروں کے مبینہ گٹھ جوڑ کا بھی انکشاف ہوا ہے۔کرائم برانچ کے مطابق معاملہ 7 فروری کو شروع ہوا۔ پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ یہ منشیات دہلی سے ایک کورئیر کے ذریعے کینیڈا بھیجے جانے والے پارسل میں کھانے کی اشیاء کے نیچے چھپی ہوئی تھی۔ موتی نگر میں کورئیر کمپنی کے احاطے میں پہنچی ٹیم نے پارسل کو بیرون ملک بھیجنے سے پہلے ہی روک لیا۔ باہر سے پارسل میں عام کھانے پینے کی اشیاء اور گھریلو اشیاءدکھائی دے رہی تھیں، لیکن تفتیش کے دوران اس کے نیچے ایک خاص طور پر بنائی گئی جعلی تہہ پائی گئی۔ اس کے اندر تقریبا 2.998 کلو افیون چھپا ہوا تھا۔اس کے بعد، پولیس نے اسے صرف پارسل کی بازیابی کا معاملہ سمجھتے ہوئے تحقیقات کو نہیں روکا۔ پوری کورئیر چین کو اسکین کیا گیا۔ موبائل فون، ڈیجیٹل گفتگو، بینک اکاونٹس اور پیسے کے لین دین کی جانچ کی گئی۔ اس کے بعد پنجاب، ہریانہ اور راجستھان میں چھاپے مارے گئے اور دیگر پارسل بھی ضبط کیے گئے۔ تفتیش کے دوران دیگر پارسل سے 921 گرام اور 1 کلو گرام افیون برآمد کیا گیا۔ جبکہ ایک ملزم سے 23 گرام افیون برآمد ہوئی۔ اس طرح کل 1.196 کلو افیون برآمد ہوا۔ کینیڈا میں اس کی قیمت تقریبا 3.5 کروڑ روپے بتائی جاتی ہے۔پولیس کے مطابق گینگ کے ارکان جعلی شناخت اور کاغذات کے ذریعے پارسل بک کرتے تھے۔ افیون کو کھانے کے کنٹینروں کے نیچے چاندی کے ورق سے بنی جعلی تہہ میں چھپایا گیا تھا۔ بعض معاملوں میں اسے کپڑوں کے اندر بھی چھپایا جاتا تھا۔ پارسل متعدد لوگوں کے ذریعے فارورڈ کیے گئے تھے، تاکہ اصل بھیجنے والے اور نیٹ ورک کے آپریٹرز کا پتہ نہ چل سکے۔گینگ کے ارکان نے آپس میں بات چیت کرنے کے لیے انٹرنیٹ پر مبنی اور کوڈڈ ذرائع کا استعمال کیا۔ رقم کا لین دین بینک کھاتوں اور رشتہ داروں اور دیگر کے ڈیجیٹل ادائیگی چینلز کے ذریعے کیا گیا۔ پولیس کے مطابق ہردیپ نیٹ ورک چلاتا تھا اور ہندوستان میں افیون کا انتظام کرتا تھا۔ یدویندر نے افیون کی خریداری، پیکنگ اور شپنگ میں اہم کردار ادا کیا۔ سمرنجیت جعلی کاغذات کے ذریعے پارسل بک کرتا تھا جبکہ جیون راجستھان سے چلنے والے نیٹ ورک میں سرگرم تھا۔تحقیقات میں پولیس کو جو سب سے اہم سراغ ملا وہ منشیات اور ہتھیاروں کا مبینہ نیٹ ورک تھا۔ پولیس کا دعوی ہے کہ بھارت سے کینیڈا پہنچایا جانے والا افیون ارش اور اس کے ساتھیوں کے نیٹ ورک کے ذریعے وہاں فروخت کیا جاتا تھا۔ اس سے ہونے والی آمدنی مبینہ طور پر گینگ کی سرگرمیوں کو فنڈ دینے اور بیرون ملک اس کے ہینڈلرز کو ادائیگی کرنے کے لیے استعمال کی جاتی تھی۔ پولیس کے مطابق بدلے میں پنجاب میں سرحد پار سے ڈرون کے ذریعے ہتھیار پہنچائے جا رہے تھے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande