
گوہاٹی، 23 اگست (ہ س)۔
میگھالیہ میں اتوار کو شیلانگ کی جانب جانے والی آسام میں رجسٹرڈ گاڑیوں کو مبینہ طور پر باراپانی سے واپس لوٹا دیا گیا۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک روز قبل ہی آسام اور میگھالیہ حکومتوں کے نمائندوں کے درمیان دونوں ریاستوں کے درمیان گاڑیوں، مسافروں اور سیاحوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنانے پر اتفاق ہوا تھا۔
رپورٹوں کے مطابق میگھالیہ کی ایک ڈرائیور تنظیم کے ارکان نے آسام سے آنے والی گاڑیوں کو روک کر واپس بھیج دیا۔ اتوار کو میگھالیہ کے مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرے جاری رہنے کی بھی اطلاعات ہیں۔
یہ واقعہ 19 اگست کو شیلانگ میں ہونے والے تشدد کے بعد سامنے آیا ہے۔ اس سے ایک روز قبل آسام کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر ہیمنت بسوا سرما نے کہا تھا کہ گوہاٹی میں دونوں ریاستوں کے نمائندوں کے درمیان ہونے والے اتفاق رائے سے معمول کے حالات بحال کرنے میں مدد ملے گی۔
گوہاٹی میں واقع کوئنا دھرا اسٹیٹ گیسٹ ہاو¿س میں ہونے والی میٹنگ میں دونوں ریاستوں کے نمائندے شریک ہوئے تھے۔ آسام کے وفد کی قیادت وزیر اتل بورا نے کی، جبکہ میگھالیہ کے وفد کی قیادت نائب وزیر اعلیٰ سنیاو¿بھالانگ دھار نے کی تھی۔
میٹنگ میں میگھالیہ نے 19 اگست کے واقعات پر افسوس کا اظہار کیا اور قصورواروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی یقین دہانی کرائی۔ دھار نے بتایا کہ واقعے میں ملوث افراد کی شناخت کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی ہے اور 15 ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔
اتل بورا نے بتایا کہ تشدد کے سلسلے میں کے ایس یو کے تین رہنماو¿ں کو گرفتار کیا گیا ہے، جن میں تنظیم کے صدر اور سیکریٹری بھی شامل ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آسام میں رجسٹرڈ گاڑیوں پر حملے میں مبینہ طور پر ملوث پانچ افراد کی شناخت کر لی گئی ہے۔
دونوں ریاستوں نے بار بار پیدا ہونے والے بین ریاستی مسائل کے حل کے لیے مستقل نظام قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا۔ اس کے تحت دونوں ریاستوں کے انتظامی افسران، پولیس اہلکاروں اور مقامی نمائندوں کی ایک کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز ہے۔
سیاحتی گاڑیوں کی آمدورفت کو منظم کرنے اور دونوں ریاستوں کے سیاحتی مفادات کے تحفظ کے لیے ٹرانسپورٹ افسران اور سیاحتی گاڑیوں کی تنظیموں کے نمائندوں پر مشتمل ایک الگ کمیٹی تشکیل دینے پر بھی اتفاق ہوا ہے۔
تاہم، اتوار کو باراپانی سے آسام میں رجسٹرڈ گاڑیوں کو مبینہ طور پر واپس بھیجے جانے کے واقعے نے دونوں ریاستوں کے د رمیان معمول کی آمدورفت بحال ہونے کے حوالے سے ایک بار پھر تشویش بڑھا دی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ