آندھرا پردیش: کاکیناڈا نرسنگ کالج میں طلبہ کے تنازع پر وزیراعلیٰ سخت، شمال مشرقی ریاستوں کے 31 طلبہ کے لیے الگ رہائش
امراوتی، 23 اگست (ہ س)۔ آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ این. چندرا بابو نائیڈو نے کاکیناڈا کے ایک نرسنگ کالج میں مقامی اور شمال مشرقی ریاستوں کے طلبہ کے درمیان ہونے والے تنازع کو فوری طور پر حل کرنے کی ہدایت افسران کو دی ہے۔ ہفتہ کو ایس کے کالج آف نرس
آندھرا پردیش: کاکیناڈا نرسنگ کالج میں طلبہ کے تنازع پر وزیراعلیٰ سخت، شمال مشرقی ریاستوں کے 31 طلبہ کے لیے الگ رہائش


امراوتی، 23 اگست (ہ س)۔

آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ این. چندرا بابو نائیڈو نے کاکیناڈا کے ایک نرسنگ کالج میں مقامی اور شمال مشرقی ریاستوں کے طلبہ کے درمیان ہونے والے تنازع کو فوری طور پر حل کرنے کی ہدایت افسران کو دی ہے۔ ہفتہ کو ایس کے کالج آف نرسنگ میں آندھرا پردیش کے طلبہ اور منی پور و ناگالینڈ کے طلبہ کے درمیان جھڑپ ہو گئی تھی، جس میں ایک طالبہ زخمی ہو گئی۔

وزیراعلیٰ کے دفتر کے مطابق، نائیڈو نے واقعے کا جائزہ لیتے ہوئے اعلیٰ افسران کو طلبہ کی حفاظت یقینی بنانے اور معاملے کو جلد از جلد حل کرنے کی ہدایت دی۔ اس کے بعد کاکیناڈا کے ضلع کلکٹر اور پولیس سپرنٹنڈنٹ نے کالج احاطے میں افسران کی ایک ٹیم تعینات کی۔

اطلاعات کے مطابق شمال مشرقی ریاستوں کے طلبہ نے سرپاورم پولیس اسٹیشن میں موبائل فون چوری ہونے کی شکایت درج کرائی تھی۔ پولیس شکایت کے بارے میں معلوم ہونے کے بعد آندھرا پردیش کے طلبہ اور شمال مشرقی ریاستوں کے طلبہ کے درمیان جھڑپ ہو گئی۔ جھڑپ کے دوران ایک طالبہ کے سر پر چوٹ لگی، جس کے بعد اسے علاج کے لیے کاکیناڈا کے سرکاری جنرل اسپتال لے جایا گیا۔

اس دوران صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے ضلعی انتظامیہ نے منی پور اور ناگالینڈ کے 31 طلبہ کے لیے الگ رہائش کا انتظام کیا۔ افسران نے طلبہ کو ان کی حفاظت کی یقین دہانی کرائی اور ضروری حفاظتی انتظامات بھی کیے۔

ذرائع کے مطابق منی پور کے کچھ طلبہ نے کالج کے ماحول اور اپنی سلامتی کے حوالے سے منی پور کے وزیر اعلیٰ یومنم کھیم چند کے سامنے تشویش ظاہر کی تھی۔ اس کے بعد منی پور حکومت نے یہ معاملہ آندھرا پردیش حکومت کے سامنے اٹھایا۔ سابق وزیر اعلیٰ این. بیرن سنگھ نے بھی واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آندھرا پردیش حکومت سے مداخلت کا مطالبہ کیا تھا۔

وزیراعلیٰ کی ہدایت کے بعد اعلیٰ افسران نے اتوار کو دونوں فریقوں کے طلبہ کے ساتھ میٹنگ کی اور بات چیت کے ذریعے تنازع کو حل کرنے کی کوشش کی۔ وزیراعلیٰ کے دفتر کے مطابق معاملے کو خوش اسلوبی سے حل کر لیا گیا ہے اور شمال مشرقی ریاستوں کے طلبہ نے انتظامیہ کی کارروائی پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

افسران کی کوششوں اور دونوں فریقوں کے درمیان بات چیت کے بعد کالج احاطے میں صورتحال معمول پر آ گئی ہے۔ انتظامیہ نے احاطے میں امن اور ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے سکیورٹی انتظامات جاری رکھے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande