بنگال کے پہاڑی علاقوں کے لیے مستقل سیاسی حل کے معاملہ پر امت شاہ کی اہم میٹنگ
کولکاتا، 22 اگست (ہ س)۔ مغربی بنگال کے دارجلنگ، کرسیانگ اور کالیمپونگ سمیت پہاڑی علاقوں کے طویل عرصے سے چلے آ رہے سیاسی مسئلے کے مستقل حل کے لیے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی صدارت میں ہفتے کے روز اہم میٹنگ شروع ہوئی۔ سلی گوڑی کے قریب سُکنا واقع ایک
بنگال کے پہاڑی علاقوں کے لیے مستقل سیاسی حل کے معاملہ پر امت شاہ کی اہم میٹنگ


کولکاتا، 22 اگست (ہ س)۔ مغربی بنگال کے دارجلنگ، کرسیانگ اور کالیمپونگ سمیت پہاڑی علاقوں کے طویل عرصے سے چلے آ رہے سیاسی مسئلے کے مستقل حل کے لیے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی صدارت میں ہفتے کے روز اہم میٹنگ شروع ہوئی۔ سلی گوڑی کے قریب سُکنا واقع ایک ریزورٹ میں شروع ہونے والی اس میٹنگ میں مرکزی اور ریاستی حکومت کے نمائندوں کے ساتھ پہاڑی علاقے کی اہم سیاسی جماعتوں کے رہنما بھی شامل ہوئے۔

میٹنگ میں مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ شوبھندو ادھیکاری، دارجلنگ سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ راجو بشت اور پہاڑی علاقے کی تین اسمبلی نشستوں کے ارکانِ اسمبلی نومن رائے (دارجلنگ)، بھرت کمار چھیتری (کالیمپونگ) اور سونم لاما (کرسیانگ) موجود ہیں۔ گورکھا جن مکتی مورچہ (جی جے ایم) کے صدر بمل گُرنگ اور جنرل سکریٹری روشن گیری بھی میٹنگ میں شامل ہوئے ہیں۔ گورکھا نیشنل لبریشن فرنٹ (جی این ایل ایف) کے موجودہ صدر اور تنظیم کے بانی مرحوم سبھاش گھسنگ کے بیٹے مان گھسنگ بھی میٹنگ میں موجود ہیں۔

میٹنگ کا سب سے اہم مسئلہ پہاڑی علاقے کے لیے مستقل سیاسی حل تلاش کرنا ہے۔ علیحدہ گورکھالینڈ کے مطالبے کو لے کر دارجلنگ اور آس پاس کے پہاڑی علاقوں میں طویل عرصے سے سیاسی تحریک اور کشیدگی کی صورتحال رہی ہے۔ بائیں محاذ اور ترنمول کانگریس کی سابقہ حکومتوں کے دوران بھی پہاڑی سیاسی جماعتوں اور ریاستی حکومت کے درمیان اس مسئلے پر کئی دور میں ٹکراؤ اور مذاکرات ہوتے رہے ہیں۔

سال 2026 کے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں جی جے ایم نے بی جے پی کی حمایت کی تھی۔ اس کے بعد دارجلنگ اور کالیمپونگ اضلاع کی تمام چھ اسمبلی نشستوں پر بی جے پی کے حمایت یافتہ امیدواروں نے کامیابی حاصل کی۔ ریاست میں بی جے پی کی قیادت والی حکومت بننے کے بعد جی جے ایم قیادت کو امید ہے کہ مرکز اور ریاست میں ایک ہی اتحاد کی حکومت ہونے سے پہاڑی علاقے کے سیاسی مسئلے کے حل کی راہ نکل سکتی ہے۔

گزشتہ ماہ بمل گُرنگ اور روشن گیری نے کولکاتا میں وزیر اعلیٰ شوبھندو ادھیکاری سے ملاقات کی تھی۔ محکمہ تعمیراتِ عامہ کے میدان میں قائم عارضی کیمپ میں ہونے والی اس میٹنگ میں وزیر ٹرانسپورٹ ارجن سنگھ بھی موجود تھے۔ تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہنے والی بات چیت کے بعد گُرنگ نے امید ظاہر کی تھی کہ مرکز اور ریاستی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے پہاڑی علاقے کے سیاسی مسئلے کا حل نکالا جا سکتا ہے۔

ہفتے کی میٹنگ میں گورکھالینڈ کے مسئلے کے علاوہ پہاڑی علاقوں میں اساتذہ کی تقرری، چائے کے باغات کی صورتحال، ٹرانسپورٹ نظام اور گورکھالینڈ ٹیریٹوریل ایڈمنسٹریشن (جی ٹی اے) سے متعلق معاملات پر بھی تبادلہ خیال کیے جانے کا امکان ہے۔ ایسے میں امت شاہ کی صدارت میں ہونے والی یہ میٹنگ پہاڑی علاقے کی سیاست کے لحاظ سے انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande