اترپردیش میں چینی کی کمی نہیں، عوام بالکل پریشان نہ ہوں: وزیر اعلیٰ یوگی
لکھنؤ، 22 اگست(ہ س)۔ اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ریاست کے عوام کو یقین دلایا ہے کہ ریاست میں چینی کی کوئی کمی نہیں ہے، اس لیے عام شہری بالکل پریشان نہ ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست کی شوگر ملوں میں اس وقت 179.38 لاکھ کوئنٹل چینی کا ذخی
اترپردیش میں چینی کی کمی نہیں، عوام بالکل پریشان نہ ہوں: وزیر اعلیٰ یوگی


لکھنؤ، 22 اگست(ہ س)۔ اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ریاست کے عوام کو یقین دلایا ہے کہ ریاست میں چینی کی کوئی کمی نہیں ہے، اس لیے عام شہری بالکل پریشان نہ ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست کی شوگر ملوں میں اس وقت 179.38 لاکھ کوئنٹل چینی کا ذخیرہ موجود ہے۔ شوگر ملوں نے جون اور جولائی کے دوران 235 لاکھ کوئنٹل چینی فروخت کی ہے۔وزیر اعلیٰ نے ہدایت دی کہ ضرورت پڑنے کی صورت میں شوگر ملوں کو 15 اکتوبر سے دوبارہ چلایا جائے۔

چینی کی دستیابی کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ اجلاس میں وزیر اعلیٰ کو بتایا گیا کہ ریاست کی کوآپریٹو شوگر ملوں میں 23.60 لاکھ کوئنٹل، کارپوریشن کی شوگر ملوں میں 5.28 لاکھ کوئنٹل اور نجی شوگر ملوں میں 150.50 لاکھ کوئنٹل چینی موجود ہے۔ اس طرح ریاست میں مجموعی طور پر 179.38 لاکھ کوئنٹل چینی کا ذخیرہ دستیاب ہے۔

حکام نے بتایا کہ جون اور جولائی کے دوران شوگر ملوں نے 235 لاکھ کوئنٹل چینی فروخت کی، جس کا بیشتر حصہ اب بھی کھلی مارکیٹ میں دستیاب ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اگر ضرورت محسوس ہو تو 15 اکتوبر سے شوگر ملوں کو دوبارہ شروع کیا جائے۔

وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے عوام سے اپیل کی کہ چینی کی قلت کے حوالے سے افواہیں پھیلانے والوں سے محتاط رہیں۔ انہوں نے انتظامی افسران کو ہدایت دی کہ چینی کی بلیک مارکیٹنگ اور مصنوعی قلت پیدا کرنے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔وزیر اعلیٰ نے مرکزی حکومت کی ہدایات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی ڈیلر 30 دن سے زیادہ کا چینی اسٹاک ذخیرہ نہیں کرسکتا اور ایک وقت میں 400 ٹن سے زیادہ چینی بھی نہیں رکھ سکتا۔

اسی طرح بلک صارفین، جو ماہانہ 10 میٹرک ٹن یا اس سے زیادہ چینی استعمال کرتے ہیں، 15 دن سے زیادہ کا اسٹاک اپنے پاس نہیں رکھ سکتے۔ شوگر ملیں بھی اپنے ماہانہ کوٹے کے تحت فروخت کی جانے والی چینی کو فروخت کی تاریخ سے سات دن سے زیادہ گودام میں نہیں رکھ سکیں گی۔

وزیر اعلیٰ نے تمام ضلع مجسٹریٹوں کو ہدایت دی کہ اپنے اضلاع میں رجسٹرڈ تمام شوگر ملوں، تھوک اور خوردہ فروشوں کے گوداموں کی فزیکل ویری فکیشن کرائی جائے اور چینی کے حقیقی ذخیرے سے متعلق رپورٹ حاصل کی جائے۔انہوں نے کہا کہ مقررہ حد سے زیادہ چینی ذخیرہ کرنے یا ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ ساتھ ہی اضلاع میں چینی کی دستیابی اور قیمتوں پر مسلسل نظر رکھی جائے اور مصنوعی قلت یا قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کی صورت میں فوری طور پر حکومت کو اطلاع دی جائے۔اجلاس میں وزیر اعلیٰ کو بتایا گیا کہ پیرائی سیزن 2026-27 کے دوران تقریباً 28.14 لاکھ ہیکٹر رقبے میں گنے کی کاشت متوقع ہے، جس سے تقریباً 90 لاکھ ٹن چینی کی پیداوار ہونے کا امکان ہے۔

اترپردیش میں ہر ماہ چینی کی اوسط کھپت تقریباً چار لاکھ ٹن ہے۔ اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ پیرائی سیزن 2025-26 کے دوران ریاست کے 48 لاکھ کسانوں کو 32,554 کروڑ روپے سے زائد کی ادائیگی کی گئی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande