خواتین ملک کی سب سے بڑی طاقت اور اثاثہ : پونے میں چھاترون کی گونج کے چوتھے مرحلے سے راہل گاندھی کا خطاب
پونے میں کانگریس کے پروگرام کے دوران ہونے والا ہنگامہ پہلے سے منصوبہ بند تھا،، وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کا الزامپونے، 22 اگست (ہ س)۔ کانگریس لیڈر اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے ہفتہ کو پونے میں چھاتروں کی گونج کے چوتھے مرحلے کے
Pune Rahul Gandhi Chhatron Ki Goonj


Pune Rahul Gandhi Chhatron Ki Goonj


Pune Rahul Gandhi Chhatron Ki Goonj


پونے میں کانگریس کے پروگرام کے دوران ہونے والا ہنگامہ پہلے سے منصوبہ بند تھا،، وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کا الزامپونے، 22 اگست (ہ س)۔ کانگریس لیڈر اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے ہفتہ کو پونے میں چھاتروں کی گونج کے چوتھے مرحلے کے دوران کہا کہ ہندوستان کی خواتین ملک کی سب سے بڑی طاقت اور اثاثہ ہیں۔ایس ایس پی ایم ایس کالج گراؤنڈ میں منعقدہ خواتین پر مرکوز اس پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ خواتین کو صرف مردوں سے ان کے رشتوں کی بنیاد پر نہیں پہچانا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق عورت کو صرف بیٹی، بہن، بیوی یا ماں کے طور پر نہیں بلکہ ایک آزاد فرد کی حیثیت سے دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی بیٹیوں کو برابری، تحفظ، مواقع اور اپنی بات کہنے کی آزادی چاہیے، لیکن انہیں عدم تحفظ، امتیازی سلوک اور اپنے حقیقی حقوق کے لیے طویل انتظار کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔راہل گاندھی نے چھاتروں کی گونج مہم کا آغاز 17 جون کو کوٹہ سے کیا تھا۔ اس کے بعد دہرادون اور پریاگ راج میں پروگرام منعقد کیے گئے اور پونے میں اس مہم کا چوتھا مرحلہ منعقد ہوا، جو خاص طور پر طالبات کے مسائل پر مرکوز تھا۔پونے میں راہل گاندھی کے چھاتروں کی گونج پروگرام سے قبل ہفتہ کے روز آل انڈیا شری شیواجی میموریل سوسائٹی کالج آف انجینئرنگ میں سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں، جہاں کانگریس کے رکن پارلیمنٹ اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی چھاترون کی گونج پروگرام میں طلبہ سے خطاب کیا۔ راہل گاندھی کی آمد کے پیش نظر پونے ایئرپورٹ پر بھی سکیورٹی بڑھا دی گئی تھی۔ یہ پروگرام شام 4 بج کر 30 منٹ سے شروع ہوا ۔ بتا دیں کہ اس پروگرام کے لیے پولیس نے 30 شرائط عائد کیں، پونے پولیس نے رواں ہفتے کے آغاز میں اس پروگرام کے انعقاد کی اجازت دی تھی۔ پروگرام کے دوران امن و امان برقرار رکھنے اور سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے پولیس نے 30 لازمی شرائط عائد کی ہیں۔ ڈپٹی کمشنر آف پولیس زون 5 راج لکشمی شیوَنکر نے سابق رکن اسمبلی اور مہاراشٹر کانگریس کے سینئر نائب صدر موہن جوشی کو جاری کردہ سرکاری ہدایت میں ان شرائط کی تفصیلات دی ہیں۔ان رہنما خطوط کے تحت منتظمین کو اشتعال انگیز تصاویر، بینرز یا پورٹریٹس کی نمائش سے منع کیا گیا ہے۔ پولیس نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ پروگرام کے دوران کسی واقعے کی وجہ سے علاقے میں امن و امان کی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو اس کی قانونی ذمہ داری منتظمین پر ہوگی۔چھاتروں کی گونج کو راہل گاندھی نے ملک گیر طلبہ سے رابطے کی ایک پہل کے طور پر شروع کیا ہے۔ اس کے ذریعے طلبہ کو تعلیم سے متعلق اپنے مسائل اور خدشات سامنے رکھنے کے لیے پلیٹ فارم فراہم کیا جا رہا ہے۔ اس مہم میں امتحانات میں بے ضابطگیوں اور پیپر لیک، تعلیم کی بڑھتی ہوئی فیس، اعلیٰ تعلیم کی نجکاری اور مسابقتی بھرتیوں میں مبینہ بے ضابطگیوں سے پیدا ہونے والی بے روزگاری جیسے مسائل شامل ہیں۔ مہم کا مقصد روزگار کے مساوی مواقع اور طلبہ اور ملازمت کے امیدواروں کے لیے زیادہ بہتر ساختی تعاون اور تحفظ کے مطالبات کو بھی اجاگر کرنا ہے۔ راہل گاندھی نے رواں ماہ کے آغاز میں کہا تھا کہ اس پروگرام کے ذریعے طالبات کو اپنے مسائل اور خیالات کھل کر سامنے رکھنے کے لیے ایک خصوصی پلیٹ فارم فراہم کیا جائے گا، تاکہ ان کی آواز ملک بھر میں سنی جا سکے۔دریں اثنا مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے ہفتہ کو الزام عائد کیا کہ پونے میں کانگریس کے پروگرام کے دوران ہونے والا ہنگامہ پہلے سے منصوبہ بند تھا اور کانگریس نے طلبہ اور انفلوئنسرز کا استعمال سیاسی تشہیر کے لیے کیا۔ انہوں نے راہل گاندھی کے پروگراموں کو ایونٹ مینجمنٹ قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ پروگرام شروع ہونے سے پہلے ہی جان بوجھ کر تنازع کھڑا کیا جاتا ہے تاکہ میڈیا کی توجہ حاصل کی جا سکے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ راہل گاندھی کے پروگرام اب ایونٹ مینجمنٹ پر زیادہ مرکوز ہو گئے ہیں۔ ان کے مطابق پروگرام شروع ہونے سے پہلے ایک تنازع پیدا کیا جاتا ہے اور اس کے بعد اس کے ذریعے تشہیر حاصل کی جاتی ہے۔پونے میں پیش آئے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے فڑنویس نے الزام عائد کیا کہ کانگریس رہنماؤں سے وابستہ کالجوں کے طلبہ کو سیاسی مقاصد کے لیے پروگرام میں لایا گیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ انفلوئنسرز کو مدعو کیا گیا اور انہیں کانگریس کے حق میں تشہیر کرنے کی ہدایت دی گئی۔ فڑنویس نے کہا کہ بی جے پی کے ریاستی ترجمان نوناتھ بان کی جانب سے لگائے گئے الزامات کے حق میں ثبوت موجود ہیں اور پونے میں پیش آنے والے پورے واقعے کی تحقیقات کرائی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ تحقیقات کے دوران جو لوگ بھی ذمہ دار پائے جائیں گے، ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande